وقت نہیں ہے....پھر بھی عید مبارک
14 جون 2018 2018-06-14

آپ نے اکثر لوگوں کو یہ کہتے سنا ہو گا کہ ان کے پاس فلاں کام کے لیے وقت نہیں ہے یا وقت ہے ہی نہیں ۔ آپ ان سے صبح کی سیر کا پوچھیں، مسجد میں نماز یا ڈاکٹر کے چیک اپ کا، ان کے پاس ایک ہی جواب ہے کہ ٹائم نہیں ہے ۔ میں اکثر یہ سوچتا ہوں کہ وقت تو وہی ہے ، اور وہی چوبیس گھنٹے کا دن اور رات ہے ، وہی ماں، باپ ، بہن بھائی، رشتہ دار، دوست ہیں لیکن جب آپ ملاقات نہ ہونے کا گلہ کریں گے آپ کو جواب ایک ہی ملے گا کہ ٹائم نہیں ہے ۔ یہ وہی چوبیس گھنٹے کا دن ہے جس میں ہمارے ماں، باپ، دادا، دادی اور نانا، نانی کے پاس ہمارے لیے وقت ہی وقت ہوا کرتا تھا، تب زندگی میں اتنی سہولیات نہیں تھیں اور نہ ہی ارد گرد ملازمین ہوا کرتے تھے، گلی کے حجام اور چائے والے کے پاس بغیر کسی وجہ کے بھی رش ہوتا تھا۔ قریبی رشتہ دار ہی نہیں واقف کار کی عیادت پر بھی لوگ ثواب کے لیے جایا کرتے تھے۔ یہاں تک کہ ٹی وی ڈراموں اور فلموں کے کردار بھی ضرورت سے زیادہ اچھے اخلاق اور عادات کے مالک ہوا کرتے، ولن یا برے آدمی کے کردار کو واضح کرنے کے لیے کیمرہ اور لائٹ مین چہرے کے نیچے سے اضافی لائٹ کا استعمال کرتے مگر قحط الرجال کی کیفیت اب یہ ہے کہ عام گلی، محلے میں ہر کسی کے دکھ سکھ میں بغیر کسی لالچ شریک ہونے والے حقیقی لوگوں کے ساتھ ساتھ اب ہمارے ڈرامے اور فلمیں بھی ان اچھے کرداروں سے محروم ہو گئے ہیں۔ زندگی میں اپنے پلے سے اچھے کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کرنے والے ”چاچے“ اور ”تائے“ اب معدوم ہو گئے ہیں۔ دنیا ضرورت سے زیادہ پریکٹیکل ہو گئی ہے ، جس کی وجہ سے ہمارے چاروں طرف ”بدصورتی“ بڑھ گئی ہے ۔ ایک دوسرے کے کام آنا، ایک دوسرے کے دکھ، سکھ ، غمی خوشی میں شریک ہونا درحقیقت وہ چھوٹی بڑی خوشیاں یا خوبصورتیاں تھیں جو وقت کے ساتھ ہمارے معاشرے سے روٹھ گئی ہیں۔ نماز، ورزش ، واک، ڈاکٹری معائنہ، دوستوں، رشتہ داروں سے ملنا ملانا اس لیے کم نہیں ہوا کہ ہمارے پاس وقت نہیں ، وقت نہ ہونا تو دراصل وہ بہانہ ہے جس کے پیچھے ہم نے اپنے آپ کو چھپا رکھا ہے ۔ کسی بھی کام کو کرنے یا نہ کرنے کے لیے تو سب سے پہلے ہمیں اپنے آپ کو قائل کرنا پڑتا ہے ، راضی کرنا پڑتا ہے اور وقت نہ ہونے کا بہانہ دراصل وہ منتر ہے جو ہمیں اپنے آپ کو قائل کرنے کے لیے پڑھنا پڑتا ہے ۔ وگرنہ حقیقت یہ ہے کہ ہم وہ کام کرنے سے خود بچ رہے ہوتے ہیں، جان چھڑا رہے ہوتے ہیں، اسی لیے وقت نہ ہونے کا بہانہ سوچ کر اپنے آپ کو مطمئن کر لیتے ہیں، بسا اوقات سوچتے ہیں کہ اس کے لیے ہمارے پاس بہت وقت ہے ، اتوار کے دن کر لیںگے، اگلے مہینے فلاں چھٹی کے ساتھ ایک اتوار جوڑ کر یہ کام کر لیں گے یا یہ کہ ابھی میری عمر صرف اتنے سال ہے تو ساٹھ سال کی عمر گزار کر پھر ہم یہ کام کر لیں گے۔ ماں، باپ، رشتہ داروں سے ملنے کا کام اگلے مہینے یا اگلے ہفتے پر ڈالا جاتا ہے تو ساٹھ سال کی عمر گزار کر حج ، عمرہ اور نماز، روزہ کی جانب توجہ کرنے کا اپنے دل کو لالی پاپ دیا جاتا ہے ۔ جیسا میں نے عرض کیا یہ صرف ایک بہانہ ہے بلکہ یوں کہیے کہ لولا لنگڑا بہانہ ہے دراصل جس کام کو ہم ٹال رہے ہوتے ہیں وہ ہماری ترجیحات میں شامل نہیں ہوتا ہے ، ہم ان کاموں کو اس قابل نہیں سمجھتے کہ اپنا وقت یا ”قیمتی وقت “ ان فضولیات پر خرچ کریں۔ ہم یہ وقت ان دلچسپیوں اور مصروفیات پر خرچ کرتے ہیں جو آج سے چالیس سال پہلے اپنا وجود بھی نہیں رکھتیں تھیں۔ ترجیحات میں صحت کی بجائے پیسہ بنانا پہلی ترجیح ہے ، خدا اور والدین کی خوشنودی سے زیادہ ہمیں اپنے باس کی خوشنودی زیادہ عزیز ہو گئی ہے ۔ دوسروں کی خوشی، غمی یا رشتہ داروں سے میل ملاقات کا وقت اب فیس بک، وٹس ایپ اور انسٹا گرام پر لائیکس جمع کرنے میں لگ جاتا ہے ، صبح کی سیر اور نماز کے لیے مختص وقت اب سونے یا ٹی وی دیکھنے میں خرچ ہوتا ہے ۔
اس طرح تو وقت نہیں نکل سکتا جب تک ہم اس کام کو اہم نہ سمجھیں، ترجیحات میں شامل نہ کر لیں صورتحال نہیں بدل سکتی، لیکن یہ سب کچھ شروع سے ایسا نہیں تھا یہ وقت کی قلت کا عذاب تو اس وقت ہم پر نازل ہوا جب ہمارے معاشرے میں پیسہ کمانے کی ، ایک دوسرے سے آگے نکل جانے کی، مقام حاصل کرنے کی دوڑ شروع ہو گئی ۔ ستر کی دہائی کے آخر سے شروع ہونے والی یہ ریس اب اتنی خوفناک ہو گئی ہے کہ اب کسی کے پاس جائے حادثہ پر رک کر کسی کی مدد کرنے کا بھی وقت نہیں رہا۔
ذوالفقار علی بھٹو نے پاسپورٹ کے اجراءکا عمل نیک نیتی سے کیا تھا لیکن، دبئی، سعودی عرب اور دیگر خلیجی و غیر خلیجی ممالک جانے والوں نے معاشرتی اقدارکا بیڑہ غرق کر دیا ۔ آڈیو ٹیپ ، رنگین ٹی وی اور وی سی آر سے چلتے چلتے کہاں آ گئے ہم؟ جس آدمی نے باہر سے سامان اور پیسہ بھیجا، اس نے ہماری ساری اچھائیاں ہم سے چھین لیں۔
ایک ہی بیٹھک میں رنگین ٹی وی ، وی سی آر اور ٹیپ کے ساتھ فریج اور واشنگ مشین بھی دھر دی کہ دیکھو ہمارے کماﺅ پوت نے کیا کارنامہ سرانجام دیا ہے ۔ دوسروں کو احساس کمتری میں مبتلا کیا اور مجبور کیا کہ وہ بھی باہر جائیں اور روپیہ کمائیں جو باہر نہیں جا سکے انہوں نے یہاں پر کمائی کے نئے راستے تراش لیے۔ پیسے کی اس بھاگ دوڑ میں حرام اور حلال کی لکیر بھی ان ظالموں نے مٹا کر رکھ دی اور معاشرتی اقدار سے بھی جان چھڑا لی۔ فریج کی آمد سے پہلے کبھی کسی نے قربانی کا گوشت گھر میں رکھنے کا نہیں سوچا تھا، بلکہ ایک گھر میں پکا ہوا سالن ہمسائے میں بھی کسی کے کام آ جاتا تھا۔ مل ، بانٹ کر کھانے کے تصور کی ایسی کی تیسی پھیر دی، پورے پورے بکرے ڈیپ فریز میں رکھ کر قربانی کی ساری روح غارت کر دی۔ امام مسجد اور قاری صاحب سے بچے کی دینی تعلیم بھی وقت کا ضیاع محسوس ہوئی تو بچوں کو ٹیوٹر اور اکیڈمی بھیج دیا۔ جب سارے ہی دنیا کمانے میں لگے ہوئے تھے تو ہمارے دینی رہنماءبھی کیوں کسی سے پیچھے رہتے، جوش خطابت میں ایک دوسرے سے بازی لے جانے کے چکر میں مسالک کے نام پر تقسیم ہوئی جس کے بعد غیر ممالک سے فنڈنگ اور مقامی طور پر چندے کی دوڑ لگی جو آگے کہیں جا کر بھتے جیسی لگنے لگی۔
رشوت، بدعنوانی، دوسروں کے مال جائیداد پر دھونس اور دھاندلی سے قبضہ کرنے کے بعد نجات اور فلاح کے طالب مسجدیں اور یتیم خانے بنانے میں لگ گئے، جنت کے سرٹیفکیٹ پر مہریں لگانے کا کام مولانا حضرات نے اپنے ذمہ لے لیا، یار لوگوں نے مسجدوں اور یتیم خانوں کے چندوں پر خوب ہاتھ صاف کیا جس کے بعد این جی اوز کے نام پر جدید دور کی لوٹ مار کا آغاز ہوا، جس کے بعد
نہ کوئی بندہ رہا نہ کوئی بندہ نواز
جس بچے کو آج ہم سکول بھیجتے ہیں اس کو ہم اچھا اور دوسروں کے لیے مدد گار انسان بننے کا مشن نہیں سونپتے، چار سال سے بھی کم عمر بچے کو ہم نے گریڈ اور نمبروں کے حصول کا ”مشن امپاسبل“ کی تکمیل کا ٹاسک دے دیا ہے ، والدین، بچے کو شعور کے حصول کے بجائے مستقبل میں بہتر نوکری کے حصول میں مدد گار کاغذات کے پیچھے بھگاتے ہیں اور اس بھاگ دوڑ میں والدین، بہن بھائی، معاشرہ اور ہم سب کہیں بہت پیچھے رہ جاتے ہیں!
یہ ہے وہ زندگی جو ہمیں” گزار “رہی ہے اور یہ ہیں وہ ترجیحات جو ہمیں ”طے “کرتی ہیں، ایسا نہیں ہے کہ یہ ترجیحات تبدیل نہیں ہوتیں یا ہو نہیں سکتیں، ہو جاتا ہے یہ ”معجزہ“ بھی کبھی کبھی جب چھتیس سال کی عمر میں اچانک آپ کو ہارٹ اٹیک ہو جائے یا خدانخواستہ کینسر کا مرض تشخیص ہو جائے تب آپ کے پاس نماز، قرآن اور ڈاکٹر کے لیے وقت ہی وقت نکل آتا ہے تب آپ اپنے دوستوں، رشتہ داروں سے اپنے کردہ، ناکردہ غلطیوں کی معافی بھی مانگنے پر آمادہ ہو جاتے ہیں۔ موت اور اس کے خوف میں وہ طاقت ہے جو آپ کی ترجیحات کوڈرامائی انداز میں تبدیل کر سکتی ہے ، اس معاشرے اور اس میں بسنے والے افراد کی ترجیحات کو سدھانے کے لیے قدرتی آفات کا ”ہارٹ اٹیک“ اور بے حسی، مردہ دلی، ڈپریشن جیسا ”موذی کینسر“ بھی اندر ہی اندر ہمیں کھوکھلا کرتا چلا جا رہا ہے مگر ہم مجموعی طور پر موت کی جانب بڑھتے چلے جا رہے ہیں، ہمارے ارد گرد بھوک، ننگ اور بیماریاں پھیل رہی ہیں اور ہم رمضان کے ”فاقے“ کاٹنے کے بعد کیک، برگر، کھانے یا سارا دن بستر پر سونے کی ایکٹنگ کرنے کے نام پر عید منانے کی تیاریاں کر رہے ہیں!
مجھے شاید ایک دن پورا سونے کے لیے مل جائیگا لیکن آپ سب کو میری طرف سے پیشگی ” عید مبارک “!


ای پیپر