جانے کہاں گئے وہ دِن!
14 جولائی 2020 2020-07-14

نامورٹی وی کمپیئرطارق عزیز کی وفات پر لکھے جانے والے اپنے گزشتہ کالم میں، میں عرض کررہا تھا ایک زمانے میں ہماری فلموں میں اخلاقیات کا ہرممکن حدتک خیال رکھا جاتا تھا، زیادہ تر فلمیں ایسی ہوتی تھیں جو اپنے بزرگوں اور عزیزوں کے ساتھ بیٹھ کر بھی دیکھی جاسکتی تھیں۔ آج کی فلمیں بھی اپنے بزرگوں کے ساتھ بیٹھ کر دیکھی جاسکتی ہیں، کیونکہ اب پہلے جیسی فلمیں نہیں رہیں نہ پہلے والے بزرگ رہے ہیں، .... رات کے اڑھائی بج چکے تھی، لاہور کے ایک ماڈرن علاقے کے فیزسکس میں قیام پذیر ایک ”بزرگ“ اپنی پوتی کی فکر میں گھر کے لان میں ٹہل رہے تھے وہ ابھی تک گھر نہیں پہنچی تھی، اُس کا موبائل بھی بند مل رہا تھا، تین بجے رات گھر کے گیٹ پر ہارن ہوا، چوکیدار نے گیٹ کھولا، بزرگ نے آگے بڑھ کر بڑے ادب اور پیار سے بیس سالہ پوتی سے پوچھا ”میری چندہ اتنی رات تک کہاں تھی؟ ، وہ بولی ”دادا ابو میں اپنے بوائے فرینڈ علی کے ساتھ تھی“ ....بزرگ بولے ” اچھا رات بہت ہوگئی جاکر آرام کرو، میں سمجھا تم شاید کسی غلط جگہ پر تھی “ .... پرانے زمانے کی فلموں کے گانوں کی شاعری بھی ویسی نہیں ہوتی تھی جیسی آج کی فلموں کے گانوں کی ہوتی ہے ”کنڈی نہ کھڑکا سوہنیا سیدھا اندر آ“ .... پرانے زمانے کے گانوں میں ایک شرمیلا پن، شرم حیا ہوتی تھی، ” چل چلئے دنیادی اوس نکرے جتھے بندہ نہ بندے دی ذات ہووے“....اِس گانے میں دو پیار کرنے والے ایک دوسرے سے کہہ رہے ہیں ”کسی ایسی جگہ پر چلیں جہاں ہمیں دیکھنے والا کوئی نہ ہو“ ،....فلمی دنیا نے اخلاقیات کا دامن جب مکمل طورپر چھوڑ دیا طارق عزیز اُس سے کنارہ کش ہوگئے۔کیونکہ وہ ایک غیرت اورشرم وحیا والے انسان تھے، .... کیا زمانہ تھا، کیا فلمیں تھیں، سینما گھر آباد ہوتے تھے، فلم کو بہت بڑی تفریح سمجھا جاتا تھا، کوئی نئی فلم کسی سینما گھر میں لگتی وہاں فلم دیکھنے والوں کا اتنا رش ہوتا تھا بڑی بڑی سفارشوں سے اس فلم کی ٹکٹیں حاصل کی جاتی تھیں، لاہور کا تھانہ قلعہ گجر سنگھ ”منتھلی“ کے حوالے سے آج بھی ”تگڑا تھا“ سمجھا جاتا ہے، اُس زمانے میں اس لیے بھی تگڑا تھا لاہور کے سینماﺅں کی ”منڈی“ ایبٹ روڈ پر واقع تھی، یہ علاقہ تھانہ قلعہ گجر سنگھ کی حدود میں آتا تھا، اِس تھانے کے ایس ایچ او کے بڑے بڑے افسران کے ساتھ ذاتی تعلق صرف اس بناءپر ہوتے تھے کوئی بھی نئی فلم اس کے علاقے کے کسی سینما گھر میں لگتی ایس ایچ او اس سینما کا پورا ”بکس‘، اعلیٰ افسران اور ان کی فیملیز کے لیے مفت میں بک کروادیا کرتا تھا، ”بکس“ کسی بھی سینما کی سب سے اعلیٰ جگہ تصور کی جاتی تھی۔ بلکہ کسی سینما کے ”بکس“ میں بیٹھ کر فلم دیکھنا باقاعدہ ”اسٹیٹس سمبل “ سمجھاجاتا تھا۔ سینما کے ایک چھوٹے سے کمرے کو ”بکس“ کہا جاتا تھا جہاں پانچ چھ لوگ وہاں رکھے آرام دہ صوفوں پر بیٹھ کر مزے سے فلم دیکھ لیا کرتے تھے، فلم مزے کی نہ بھی ہوتی بکس میں بیٹھ کر کچھ لوگ اپنے مزے کا کوئی نہ کوئی اہتمام کرہی لیا کرتے تھے، لوگ ”بکس “ کی ٹکٹیں سنبھال کر رکھتے فلم سے واپسی پر وہ اپنے دوستوں، عزیزوں خصوصاً محلے داروں کو بڑے فخر سے بتاتے وہ بکس میں بیٹھ کر فلم دیکھ کر آئے ہیں، اُس زمانے میں یہ ایسے ہی تھا جیسے آج ایمرٹس ایئرلائن کی بزنس کلاس میں کوئی سفر کرلے .... بکس کے بعد سینما کی دوسری اہم جگہ ”گیلری “ ہوتی تھی۔سب سے مہنگی ٹکٹیں بکس کی اُس کے بعد گیلری کی ہوتی تھیں، بکس تھوڑی اُونچی جگہ پر ہوتے تھے، اُن کے بالکل نیچے گیلری ہوتی تھی، گیلری میں بیٹھے اکثر لوگ وقتاً فوقتاً پیچھے مڑ کر نظر مار لیا کرتے تھے کہ بکس میں بیٹھے لوگ فلم دیکھ رہے ہیں یا اپنی کوئی فلم چلا رہے ہیں؟، سینما گھروں میں لمبی قطاریں ہوتی تھیں، ایبٹ روڈ پر ایک ”زریں خان“ ہوتے تھے، وہاں اُن کا ایک ریسٹورنٹ تھا، اکثر سینما مالکان کے ساتھ اُن کے ذاتی تعلقات تھے۔ اس کے باوجود انہوں نے جب بھی فلم دیکھنا ہوتی وہ اُس کی ٹکٹ لائن میںلگ کر لینا پسند کرتے تھے، ایک ٹکٹ میں دومزے لینے کا محاورہ شاید اُنہی کی وجہ سے بنا ہوگا، سنا ہے ایک دوبار لائن میں لگنے پر وہ گرفتار بھی ہوئے، بعد میں اُنہی لڑکوں نے اُنہیں رہا کروایا جنہوں نے اُنہیں گرفتار کروایا تھا، .... کسی سینما میں لگنے والی نئی فلم چاہے کتنی ہی بے کار کیوں نہ ہوتی ابتدائی دنوں میں خاص طورپر پہلے دن اس کا رش سنبھالے نہیں سنبھلتا تھا، وہاں پولیس کی بھاری نفری اس لیے تعینات کرنا پڑتی رش کی وجہ سے کوئی فساد برپا نہ ہوجائے۔ فلم کی ٹکٹ حاصل کرنے کے لیے سینما گھروں میں لگی قطاریں اکثر اوقات سینما گھروں سے باہر سڑک پر آجاتے تھے جس سے ٹریفک کا نظام درہم برہم ہو جاتا،.... لاہور میں ایک مون لائٹ سینما ہواکرتا تھا، اب بھی شاید ہوگا، اُس کی شہرت اس وجہ سے بڑی خراب تھی وہاں زیادہ تر گندی انگریزی وپشتو فلمیں لگتی تھیں، بے حیائی کا کھلا لائسنس اُس سینما کو اس لیے ملا ہوا تھا اُس کے مالک یا شاید مالکہ کے بڑے بڑے افسران خصوصاً پولیس افسران کے ساتھ کافی تعلقات تھے، ہمارا اکثر جی چاہتا تھا مون لائٹ سینما جاکر فلم دیکھیں پر ہم اس خوف سے وہاں نہیں جاتے تھے کسی جاننے والے نے ہمیں وہاں دیکھ لیا وہ ہمارے گھر میں شکایت نہ لگادے، بہرحال ایک بار بڑا حوصلہ کرکے میں اور میرا عزیز دوست یوسف عالمگیر ین وہاں مسرت شاہین کی ایک پشتو فلم دیکھنے چلے گئے، رش کی وجہ سے ہمیں سینما کی سب سے پہلی یعنی سب سے اگلی لائن میں سیٹ ملی جہاں آواز کی گونج سے فلم دیکھنا محال ہورہا تھا، حالانکہ جس قسم کی وہ فلم تھی یا جس قسم کی پشتو وانگریزی فلمیں وہاں چلتی تھیں اُن میں آواز بند بھی ہو کوئی فرق نہیں پڑتا تھا، میرے دوست یوسف عالمگیرین نے ”احتیاطی تدابیر“ کے تحت یا اس خوف کے تحت سر پر ہلمٹ لے لیا کہیں اُس کا کوئی جاننے والا اُسے دیکھ نہ لے، ہلمٹ کی وجہ سے اُسے تو کوئی پہچان نہیں رہا تھا، مجھے سارے دیکھ رہے تھے کہ یہ ہلمٹ والے کے ساتھ کون بیٹھا ہوا ہے؟، لہٰذا میں ایک زوردار مکہ یوسف عالمگیرین کی ”وکھی“ میں مارا اور اُس سے کہا فوراً ہلمٹ اُتارو۔ اُس نے اپنا ہلمٹ دھویا، بعد میں سر پر رکھنے کے لیے اُس نے ایک دوسرا ہلمٹ خرید لیا .... زندگی کے وہ دن بڑے مزے کے ہوتے تھے، تب دوست بھی بڑے اچھے ہوتے تھے، ....جہاں تک ایبٹ روڈ کے سینماﺅں کا تعلق ہے وہ مکمل طورپر اب اُجڑپجڑ گئے ہیں، کسی سینما گھر میں پارکنگ اسٹینڈ بن گیا، کسی کو اسی نوعیت کے مقصد کے لیے استعمال کیا جارہا ہے، سینماﺅں کے عروج وزوال کی دل ہلال دینے والی داستان ہے۔ (جاری ہے)


ای پیپر