کامران خان....کیوں کامیاب وکامران نہ ہوسکے
14 جولائی 2020 2020-07-14

قارئین کرام، پچھلی دفعہ میں نے ذکر کیا تھا، کہ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار بھی ہم جیسے انسان ہیں، اور ان سے انٹرویو کے خواہاں کامران خان بھی ایک انسان ہیں، اگرچہ وہ ملک کے انتہائی نامور میزبان ہیں، اور بہت پڑھے لکھے انسان بھی،1980ءسے صحافت کے دشت بیکراں کا وہ مسافر بنے، ان کو یہ بھی اعزاز حاصل ہے، کہ ان کے تجربے، وغیرہ، واشنگٹن پوسٹ، ٹریبون، سنڈے ٹائمز میں چھپتے رہے ہیں، اور یہ پاکستان کے سب سے زیادہ معاوضہ لینے والے میزبانوں میں سے ایک ہیں ، جن کو لوگ بڑے شوق، انہماک اور دلچسپی سے دیکھتے ہیں، اور ان پر اعتبار کرتے ہیں، اور ان کا کوئی سکینڈل دیکھنے اور سننے کو نہیں آیا۔

جہاں تک وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کا تعلق ہے، وہ بھی انتہائی شریف نمازی، اور پرہیز گار انسان ہیں، دواچھے اگر باہم مل بیٹھتے، تو یقیناً یہ عثمان بزدار صاحب کے لیے اچھا ہوتا، ہمارا کامران خان سے ذاتی کوئی تعلق نہیں، مگر عثمان بزدار اور ان کے والدمحترم سردار فتح محمد خان، میرے خالہ زاد بھائی کے قریبی دوست تھے ، بلکہ ان سے گھریلو تعلقات بھی ہیں، عثمان بزدار صاحب کو اپنا حوصلہ بلند رکھتے ہوئے بحیثیت بلوچ، ایک پٹھان سے سامنا کرنا چاہیے تھا، جو مستقبل قریب میں ان کے لیے سبق آموز اور فائدہ مند ہوتا مگر بہ زبان سید مظفر شاہ

آج بھی درد محبت کا مداوانہ ہوا

آج کا دن بھی گیا، وہی شام ہوئی

وزیراعلیٰ پنجاب اپنے سابقہ ہم منصبوں پہ نظر ڈالیں، جنہوں نے پنجاب پہ مکمل ذمہ داری کے ساتھ اپنی مضبوط گرفت رکھی، اور کسی کو انگشت نمائی کا موقعہ نہیں دیا، ویسے تو غلام حیدر وائیں، عارف نکئی، اور شاہ محمود قریشی کے والد محترم بھی پنجاب پر حکمران رہے، ان کے بارے میں مشہور ہے کہ ان کے پاس کوئی سائل آتا تھا، تو کہتے تھے، میرے پاس تو اختیارات ہی نہیں ہیں، مگر میں سید کا بچا ہوں، یہ ہوسکتا ہے، کہ آپ کے ساتھ مل کر دونوں دعاکریں، اللہ تعالیٰ آپ کا کام امید ہے کردے گا۔ جبکہ عارف نکئی بالکل ان سے علیحدہ مزاج کے آدمی تھے، ان کے پاس کوئی سائل آیا، کہ ہمارے بندے کو ناجائز پولیس نے تھانے میں بند کررکھا ہے، کہنے لگے، فکر نہ کرو اور ان کے ساتھ گاڑی پہ بیٹھ کر تھانے پہنچ گئے، اور تھانیدار وزیراعلیٰ کو سامنے دیکھ کر ہکا بکا رہ گیا لہٰذا عثمان بزدار کو حوصلہ بلند رکھنا چاہیے، میٹرک والے اگر پنجاب پہ حکومت کرسکتے ہیں، حتیٰ کہ راجہ رنجیت سنگھ اپنی تاریخ میں دھاک بٹھا سکتا ہے، تو ایک ماسٹر ڈگری لینے والا وزیراعلیٰ ایسا کیوں نہیں کرسکتا؟ دونوں انسان ہیں، سو بارجب عقیق کٹتا ہے، توپھر نگین بنتا ہے، اگر وزیراعلیٰ کو میری ان سیدھی سادھی باتوں کی سمجھ نہ آئے، تو پھر میں شروع سے شروع کرتا ہوں، کہ اسلامی نقطہ نظر سے ایک انسان کسے کہتے ہیں، تو پھر سنیے، کہ جسم اور روح کے باہم ملنے کے بعد ایک انسان وجود میں آتا ہے۔

اس وقت زمین پہ جو اربوں انسان ہیں ان کی ابتداءحضرت آدمؑ کے سبب سے ہوئی، اللہ تعالیٰ کے حکم سے حضرت جبرائیلؑ زمین سے ایک مٹھی بھر مٹی لائے، پھر اس مٹی سے خمیر بنایا گیا، تو وہ مٹی کیچڑ بن گئی، پھر اس مٹی سے آدمؑ کا پتلا بنایا گیا پھر اس پتلے میں روح پھونکی گئی، جب روح پھونکی گئی، تو پھر گوشت پوست اور خون سب کچھ بن گیا، اور حضرت آدمؑ بن گئے، اور گفتگو بھی کرنے لگے، جسم کے بعد اب روح کی بات کرلیتے ہیں۔ روح نیند کے وقت آزاد ہوجاتی ہے، تو وہ اپنی صلاحیت کے مطابق مشاہدات کرتی ہے۔ نیند کے وقت عارضی طورپر روح آزادہو جاتی ہے۔ اور چونکہ موت سے مکمل آزادی مل جاتی ہے، اس لیے پھر روح کے علوم اور ہاف کمال پر پہنچ جاتے ہیں، مگر شریعت کی تمام جزئیات سے آگاہ نہیں ہوسکتی، حضرت ابن عمرؓ نے کہا کہ ایک مرتبہ حضرت عمرفاروقؓ سے حضرت علیؓ شیر خدا سے دریافت فرمایا کہ آپ اکثر اوقات حضور کے پاس ہوتے ہیں، میں آپ سے تین سوالات کرتا ہوں، اگر معلوم ہوں تو بتا دیجئے۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے فرمایا ،دریافت کیجئے، انہوں نے پوچھا ، کہ کبھی کسی کو کسی سے محبت ہوتی ہے، حالانکہ وہ اس کا کوئی سلوک محبت نہیں دیکھتا اور کسی کو کسی سے خواہ مخواہ دشمنی محسوس ہوتی ہے حالانکہ انہوں نے اس کی برائی نہیں دیکھی ہوتی۔

حضرت علیؓنے جواب دیا، کہ ہاں میں حضرت محمدمصطفیٰ سے یہ بھی سنا ہے کہ ارواح جمع شدہ لشکرہوتی ہیں، اور فضا میں ملتی جلتی ہیں پھر جن ارواح کا آپس میں تعارف ہوجاتا ہے ان میں محبت پیدا ہو جاتی ہے، اور جن میں اجنبیت رہتی ہے، دنیا میں بھی اجنبیت قائم رہتی ہے۔

حضرت عمر ؓ نے دوسرا سوال پوچھا، کہ انسان بات کرتا ہے، تو بعض اوقات بات کیوں بھول جاتا ہے، اور پھر اچانک اسے بات یاد آجاتی ہے، اس کی کیا وجہ ہے؟ وہ بولے حضور فرماتے تھے، کہ ہرانسانی دل کے اندر چاند اور بادل ہوتے ہیں، جیسے چاند پر بادل چھا جائیں، تو روشنی مٹ جاتی ہے اور جب چاند آجاتا ہے، تو روشنی چھا جاتی ہے، اسی طرح انسانی ذہن پر بادل چھا جاتے ہیں، تو ایسی کیفیت پیدا ہوجاتی ہے۔

قارئین ، میں اتنی لمبی تمہید باندھنے کے بعد یہ بتانے میں شاید حق بجانب ہوں کہ وزیراعلیٰ پنجاب کے دل پہ ہی نہیں دماغ پہ بھی بادل آگئے ہوں، اور وہ بات بھول گئے ہوں، اگر کامران خان انسان ہیں، عثمان بزدار بھی تو انسان ہیں، اور پنجاب کے کروڑوں انسان بھی اپنے آپ کو انسان سمجھ کر سوچیں، کہ آج کل ساون کی رُت آئی ہوئی ہے،ہوسکتا ہے، بزدار کے آگے بادل نہیں بلکہ ساون کی گھنگھور گٹھائیں آگئی ہوں، ویسے بھی بقول نیر

وجود سے خود چھڑاﺅں دامن

یہ کیسی وحشت کا سامنا ہے

وصال محور نہیں ہے ممکن

عبث مداروں میں بھاگنا ہے


ای پیپر