شہر کی تخلیقی فضا کی بحالی کے لئے ایک قابل تحسین کوشش
14 جولائی 2019 2019-07-14

لیجئے پہلے نامور ڈرامہ نگار شاعر ماہر تعلیم ڈاکٹر اصغر ندیم سید کی نظم ملاحظہ فرمائیں:

ایک نظم کیا کرسکتی ہے

اتنے بہت سے انسان اور

اور ان کے اتنے بہت سے خواب

کیسے ایک نظم میں سما سکتے ہیں

بہت سی بھوک اور بہت سی خوراک جو ضائع ہو جاتی ہے

کیسے ایک نظم میں سما سکتے ہیں

بہت سے نظریئے اور بہت سے افکار

کیسے ایک نظم میں آ سکتے ہیں

اتنے بہت سے جھوٹ اور اتنے بہت سے سچ

کیسے ایک نظم سنبھال سکتی ہے

اتنے بہت سے خوف اور اتنی بہت سی خوشی

ایک ساتھ کیسے میری نظم میں آ سکتے ہیں

اتنی بہت سی قراردادیں اور اتنی بہت سی خفیہ دستاویزات

کیسے ایک نظم میں چھپ سکتی ہیں

اتنے بہت سے جھگڑے اور اتنی بہت سی محبتیں

ایک نظم میں نہیں آ سکتیں

کہ نظم تو پرندے کی اڑان جیسی ہوتی ہے

کہ نظم تو ایک قیدی کی تنہائی جیسی ہوتی ہے

لیکن کبھی کبھی ایک نظم اتنی طاقتور ہوجاتی ہے

کہ ایک ظالم بادشاہ کے سامنے ڈٹ جاتی ہے

خود نہیں مرتی

اسے مار دیتی ہے

ان کی یہ نظم بھلے پرانی ہے مگر ایسی زندہ نظمیں ہمیشہ تروتازہ ہوا کرتی ہیں۔ یہ نظم انہوں نے گزشتہ دنوں ایک شعری نشست میں پیش کی تو بے حد داد حاصل کی ، یہ کوئی باقاعدہ مشاعرہ تو نہیں تھا مگر شعراءکی اچھی تعداد کو مدعو کیا گیا تھا۔ قصہ کچھ یوں ہے ممتاز شاعر کالم نگار اور ڈرامہ نویس جناب عطاءالحق قاسمی نے اپنے ادبی جریدے ”معاصر“ کے دفتر میں ایک ظہرانے کا اہتمام کیا جس میں انہوں نے شہر بھر کے چند اہل قلم اور دانشوروں کو مدعو کیا، اس ادبی بیٹھک (مل بیٹھے) کے حوالے سے انہوں نے کہا آج کی نشست کا مقصد اپنے اہل قلم کو یکجا کرنا ہے، خاص طور پر ایسے دوست جو کسی غلط فہمی یا کمی کوتاہی اور ادبی شکایت کے حوالے سے ایک دوسرے سے دور ہیں، انہیں اپنی تمام رنجشیں بھلا کر شہر کی فضا کو خوشگوار اور باوقار کرنا چاہیئے، انہوں نے کہا کہ بعض اوقات حساس لوگوں میں معمولی بات بھی دل آزاری کا باعث ہو جاتی ہے، ایک زمانے میں لاہور میں نظریاتی اختلاف کے باوجود بہت ادبی فضا ہوتی تھی ہم چاہتے ہیں شہر کے اہل قلم کو پھر وہی تخلیقی ماحول کے فروغ دینے میں اپنا اپنا کردار ادا کرنا چاہیئے، ہم اپنے سب احباب کو اکٹھا کریں گے، آخر میں انہوں نے کہا حضرات گرامی ! چونکہ شعراءکی تعداد دوسرے تخلیق کاروں سے زیادہ ہے لہٰذا غیررسمی شعری دور بھی لازم ہے، سو تمام شعراءنے اپنا اپنا کلام پیش کیا راقم کے علاوہ ابرار ندیم، عزیز احمد، وصی شاہ، فرحان صادق حسین عباسی، ناصر بشیر، غافر شہزاد، کیپٹن عطا محمد خان، خالد شریف، باقی احمد پوری، اصغر ندیم سید کے ساتھ ساتھ عطاءالحق قاسمی شعراءمیں شامل تھے۔ سامعین میں جو نام یاد رہ گئے ان میں حسین شیرازی، مظہر کلیار، علی رضا احمد، رﺅف طاہر، نوید چوہدری، ناصر ملک، جواد شیرازی اور کئی دوسرے احباب شامل تھے، جہاں اتنے شعراءہوں وہاں کی محفل کا رنگ کیا ہو گا اس کا اندازہ آسانی سے لگایا جا سکتا ہے، لطیفے، قہقہے، چٹکلے اور سیاسی سماجی اور ادبی موضوعات پر تبصرے دیر تک جاری رہے، بعد میں نہایت پرتکلف کھانا پیش کیا گیا، شعراءخوش گپیوں میں اور کھانے کے بعد دھیرے دھیرے رخصت ہو گئے، آخر میں چند لوگ ہی رہ گئے۔ چائے پر قاسمی صاحب نے بہت سے پرانے احباب کا محبت سے تذکرہ کیا۔ ڈاکٹر اجمل نیازی کا ذکر ہوا تو کہا میں ان کے گھر جانا چاہتا ہوں یار کسی دن طے کرو۔ باقی احمد پوری نے ملک حکیم سلیم اختر کی بیماری کا تذکرہ بھی کیا تو محفل قدرے اداس ہو گئی اور پھر ہم جلدی دوبارہ ملنے کے لئے الوداع ہو گئے۔

مجھے ذاتی طور پر بہت خوشی ہوئی کہ شہر کے ایک نہایت سینئر شاعر اور ادبی شخصیت نے اچھی روایت کا آغاز کیا کہ جس میں ہم سب ایک ہو کر شہر میں خوشگوار اور تخلیقی ادبی فضا کے لئے اپنا اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ سچ بھی یہی ہے کہ یہ دنیا فانی ہے، سب نے آخر کو یہ دنیا چھوڑ جانا ہے ہمیں جتنی بھی مہلت میسر ہے ہم تمام تعصبات و اختلافات سے بالاتر ہو کر نہایت محبت اور امن کے لئے دوسروں کے لئے مثال بن سکتے ہیں۔ آخر میں عطاءالحق قاسمی ہی کے اشعار ملاحظہ فرمائیں:

جو بھی کہنا ہے کہو پھر اَن کہا رہ جائے گا

قربتوں کے درمیان بھی فاصلہ رہ جائے گا

تتلیاں ہجرت کریں گی موسموں کے ساتھ ساتھ

اور شہر گل میں آشوب ہوا رہ جائے گا

بادلوں سے آگ برسے گی فضائے شہر پر

نقش مٹ جائیں گے اک نقشِ فنا رہ جائے گا


ای پیپر