نواز شریف کی آمد اور گرفتاری۔ ایک تجزیہ
14 جولائی 2018 2018-07-14

پہلے تو ایک بات کلیئر کر لیں۔ یہ جو میڈیا میں کہا جا رہا ہے۔ نواز شریف اور مریم کو لاہور پہنچنے پر گرفتار کر لیا گیا۔ جبکہ حقیقت یہ ہے انہیں گرفتار نہیں کیا گیا۔ نواز شریف اور مریم نے گرفتاری دی ہے۔ وہ اپنی مرضی سے لندن سے چل کر لاہور گرفتاری دینے آئے تھے۔ اگر وہ نہ آتے تو کون انہیں گرفتار کر سکتا تھا۔ چنانچہ دونوں منظر ناموں میں زمین آسمان کا فرق ہے۔

دوسری بات جو یہ کہی جا رہی ہے۔ کہ نیب والے نواز شریف اور مریم کو گرفتار کرکے پنڈی بھی لے گئے۔ جبکہ شہباز شریف اپنی ریلی لے کر ائرپورٹ نہ پہنچ سکے۔ یوں یہ ن لیگ کی ایک بڑی ناکامی ہے۔ سارا دن کی عظیم و شان کاوش کو ضائع کر دیا گیا۔ اور اس کے پیچھے کسی سازشی نظریے کو تلاش کیا جا رہا ہے تو یہ حقیقت نہیں۔ لاہور میں لاکھوں کی تعداد میں لوگ سڑکوں پر نکلے ہوے تھے۔ ایک اندازے کے مطابق ان جلوسوں میں 90 فیصد لوگ لاہورئے تھے۔ یہ مجمع بہت چارجڈ تھا۔ اور انرجی اور غصے اور جوش و خروش کی انتہاوں پر تھا۔ اس کا اندازہ آپ کو ان وڈیوز کو دیکھ کر ہو سکتا ہے۔ جن میں یہ بپھرے ہوئے عوام اپنے ہاتھوں سے بائیس بائیس فٹ کے کنٹینر اٹھا کر سڑکوں سے رکاوٹیں ہٹا رہے تھے۔ اور ائرپورٹ کی جانب مارچ کر رہے تھے۔ کچھ مقامات پر ن لیگی کارکنوں کی پولیس کے ساتھ جھڑپیں ہوئیں۔ شیلنگ پھینکی گئی۔ لیکن شام ہوتے ہوتے پولیس سڑکوں سے غائب ہو چکی تھی۔ رکاوٹیں ختم ہو چکی تھیں۔ ایسے میں لاکھوں افراد پر مشتمل اس چارجڈ کراؤڈ کو کنٹرول کرنا آسان کام نہ ہوتا۔ تصور کریں یہ ریلی ایئرپورٹ پہنچ جاتی۔ جذباتی نوجوان اپنے لیڈر نواز شریف کو اپنے درمیان نہ پا کر مشتعل ہو جاتے۔ اس اشتعال کو خفیہ ہاتھ الاؤ میں تبدیل کر دیتے۔ اور ایئرپورٹ میدان جنگ بن جاتا۔ اچھا خاصا نقصان ہو جاتا۔ اور اسٹیبلشمنٹ جو پہلے ہی الیکشن ملتوی کرنا چاہتی ہے۔ اسے بہانہ بنا کر الیکشن ملتوی کر دیتی۔ ن لیگ پر کریک ڈاون شروع ہو جاتا اور ساری جمہوری جدوجہد ظائع ہو جاتی۔ نواز شریف کا یہ مزاج نہیں۔ چناچہ ن لیگی بڑوں کا یہ صاد فیصلہ تھا۔ ریلی کو ایئرپورٹ نہ لیجایا جائے۔

نواز شریف کی لاہور آمد پر ن لیگ نے اپنی طاقت کا مظاہرہ کرنا تھا۔ اپنی پارٹی کو متحرک کرنا تھا۔ کارکنوں کی ہمت اور دلیری کو انگیخت کرنا تھا۔ ان کے جزبوں کو جلا بخشنی تہی۔ ان کی ناامیدی اور بے بسی کو ان کی قوت اور حوصلے میں بدلنا تھا۔ تاکہ وہ پچیس جولائی کو جوق در جوق اپنے گھروں سے نکلیں۔ اور اپنے ووٹوں سے ملک میں تبدیلی لے آئیں۔ اور ہمارے خیال میں تیرا جولائی کو ن لیگ نے اپنے ان تمام اہداف کو حاصل کر لیا۔

اور نواز شریف کا یہ استقبال پورے پنجاب میں ہوا۔ جگہ جگہ ناکے لگاے گئے۔ رکاوٹیں کھڑی کی گئیں۔ گرفتاریاں کی گئیں۔ سختیاں کی گئیں اور یوں پورے پنجاب میں انرجی اور کرنٹ اور سرگرمی کی لہر دوڑ گئی۔ جو پچیس جولائی تک اپنے عروج پر پہنچ جاے گی۔

روائتی طور پر اہل پنجاب بہادروں کو پسند کرتے ہیں۔ یہ دلا بھٹی اور احمد سیال کھرل جیسے بہادر سپوتوں کی سر زمین ہے۔ نواز شریف کا اپنی بیٹی کے ہمراہ خود چل کر لندن کی آرام دہ زندگی سے آنا اور خود کو جیل کی کال کوٹھڑی کے حوالے کر دینا۔ اہل پنجاب کے لیے

دلیری کی ایک فوک کہانی کا درجہ اختیار کر گیا ہے۔ جس نے ن لیگی ووٹرز اور سپورٹرز کا سر فخر سے بلند کر دیا ہے۔ وہ اپنے اس فخر کا اعلان اب پچیس جولائی کو کرے گا۔

نواز شریف کی آمد صرف ان کی گرفتاری تک محدود نہیں ہے۔ اسٹیبلشمنٹ نواز شریف کو جس جیل میں مرضی رکھ لے لیکن اگر ان کی ضمانت نہ ہوتی۔ تو جیل میں اپنی بیٹی کے ساتھ پڑا نواز شریف اتنا طاقتور اور قد آور رہنما بنتا جاے گا۔ کہ پہر اس سے مقابلہ کرنا ناممکن ہو جائے گا۔ ذرا سوچیں۔ جب روز کئی کئی جلوس اڈیالہ جیل کی جانب مارچ کر رہے ہوں۔ تو کیا صورتحال ہو گی۔

نواز شریف نے پاکستان آکر اور گرفتاری دے کر اسٹیبلشمنٹ کے تمام پلان ناکام کر دیے ہیں۔ نواز شریف کو سیاست سے مائنس کرنے کا فارمولا مکمل فلاپ ہو گیا ہے۔ اس فارمولے کے تحت قدم بقدم کچھ اقدامات اٹھائے گئے۔ پہلے نواز شریف کو وزارت عظمیٰ سے نکالا گیا۔ تاحیات نااہل کیا گیا۔ پھر ن لیگ کی صدارت چھینی گئی۔ سینیٹ چیئرمین کا الیکشن چرایا گیا۔ پھر نواز شریف پر مقدمے چلائے گئے۔ سو سے زائد پیشیوں سے انہیں توڑنے کی کوشش کی گئی۔ ن لیگ کو توڑنے کی سازش کی گئی۔ ن لیگی امیدواروں کو توڑا گیا۔ بیگم کلثوم کی بیماری پر غلیظ پروپیگنڈہ کیا گیا۔ اور آخر میں یہ سوچ کر انہیں دس سال کی سزا سنا دی گئی کہ وہ ڈر کر باہر ہی بیٹھے رہیں گے۔ انہیں بزدل اور بھگوڑا ڈکلیئر کر دیا جائے گا۔ اور آخری پلان یہ تھا۔ نواز شریف کو الطاف حسین بنا دیا جائے گا۔ نواز شریف نے واپس آ کر یہ تمام منصوبہ بندی فیل کر دی۔ اور اب اسٹیبلشمنٹ کے پاس کوئی بھی پلان نہیں۔

اس چکر میں اسٹیبلشمنٹ، عدلیہ اور میڈیا بری طرح ایکسپوز ہوا۔ اور نواز شریف کا بیانیہ ووٹ کو عزت دو، گھر گھر پہنچ گیا ہے۔ نواز شریف کی آمد اور گرفتاری نے سول سپریمیسی کی تحریک کو بام عروج پر پہنچا دیا ہے۔


ای پیپر