یومِ شہدائے کشمیر ۔۔۔!
14 جولائی 2018 2018-07-14

یہ یوم شہدائے کشمیر ہے ۔۔۔!
بوڑھے چنا ر کے نیچے بیس عدد کشمیری مرد و زن بے حس و حرکت بیٹھے ہیں ۔ ان کے جامد چہروں کی لکیروں میں پچھلی تین نسلوں کا دکھ ، بے بسی، لاچارگی، اور اذیت منجمد ہو چکے ہیں، ان کے اوپر اٹھے ہوئے ہاتھوں میں مختلف سائزوں کے بینرز ہیں۔ پیلے ، سفید، زرد، نارنجی، سیاہ اور مٹیالے۔ جن میں سے ایک پرلکھا ہے ۔ half widow۔ دوسرے پر لکھا ہے ۔ ہمارے پیارے کہاں ہیں؟ کچھ پر لکھا ہے ۔
ہمارے بچے کہاں ہیں۔ ان کے سامنے لوہے کی خارذار باڑھ ہے جس کے پیچھے ریت کے تھیلوں کی ایک چھوٹی سی پہاڑی دکھائی دیتی ہے ۔جس کی اوٹ میں کھڑے بھارتی پیرا ملٹری کے جوان ، گنیں سیدھی کئے انہیں نفرت سے دیکھ رہے ہیں ۔۔ان کی انگلیاں ٹریگرز پرسختی سے جمی ہیں ۔ جیسے ابھی حرکت میں آئیں گی اور سامنے کھڑے ہوؤں کو گولیوں کی باڑھ پر رکھ لیں گی۔ چنار کے خشک پتوں کی سر سراہٹ ان کی گھٹی گھٹی سانسوں سے ٹکرا کر گزر رہی ہے ۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے پیارے پچھلے کئی برسوں سے لاپتہ ہیں ۔ ان لاپتہ کشمیریوں کی تعداد سر کاری اعداد و شمار کے مطابق آٹھ سے دس ہزار ہے ۔۔ غیر سر کاری اعداد و شمار اس سے مختلف ہیں۔
یہ وہ کشمیری ہیں جنہیں آزادی کی خواہش رکھنے ، آزادی پسندوں کا ساتھ دینے اور ان کے مقصد سے اتفاق کرنے کے کے جرم میں لاپتہ کر دیا گیا ۔
طاقت، پیسہ اور ظلم ، سے دباؤ ان پاگل کشمیریوں کو ۔ اگر نہ مانیں تو گولیوں سے بھون دو ان گمراہ کشمیریوں کو۔
جبکہ نہتے کشمیری ۔ ہمیں آزادی چاہئے ۔ سورج قید میں ہے ۔ کا نعرہ لگاتے ہیں ۔۔ اور اجتماعی آواز میں ایک ہی مطالبہ کر دہراتے ہیں ۔ گو بیک انڈیا گو بیک۔۔ حزب اللہ مجاہد برہان و انی کی شہادت کو تین برس ہو نے کو آئے۔ یہ تحریکِ آزادی ءِ کشمیر کا وہ شعلہ جوالہ تھا ، جس نے آزادی کی تحریک کو نئی جہت عطا کی ۔ اسے نئی نسل کی روح میں بھر دیا ۔ اور پچھلے ایک عشرے سے دھیمی پڑ جانے والی آزادی کی لو ، ایک دفعہ پھر پوری تابانی سے جبر کے اندھیروں روشنی بکھیرنے لگی ۔ جبکہ گزرے وقت میں بھارت نے کشمیر میں ظلم اور جبر کی نئی مثا لیں قائم کر دیں۔ پیلٹ گن ، آنسو گیس، اور ربڑ بلٹس کے علاوہ اسلحے کے استعمال سے سو سے زائد کشمیری شہید ہوئے اورپندرہ ہزار سے زیادہ ذخمی ہوئے ۔ وقفے وقفے سے وادی میں کرفیو نافذ رہا ۔ جس کی وجہ سے کاروبار بری طرح متاثر ہو ا، جس کے نتیجے میں ٹورسٹ انڈسڑی جو کشمیر کی معا شیات میں مرکزی حیثیت رکھتی ہے اس وقت تقریباَ ختم ہو چکی ہے ۔ محبوبہ مفتی کی کٹھ پتلی حکومت بھی جا چکی ہے ۔ چنانچہ اب کشمیر میں گورنر راج ہے ۔ جس کے تحت کشمیریوں پر روز و شب کی سختیاں بڑھ چکی ہیں ۔
تاریخی حقائق کے مطابق کشمیر کا آزاد حصہ جسے مجاہدین نے بھارتی فوج کے غاصبانہ قبضے سے چھڑا لیا تھا ، اور بارہ مولا تک جاپہنچے تھے ، وہاں سے سری نگر
صرف ۳۵ کلومیٹر کے فاصلے پر تھا . سرینگر کی جانب مجاہدین کی یلغار کی خبر پا کر ڈوگرہ راجہ نے نہتے اور بے گناہ شہریوں کو تہہ تیغ کر وا دیا اور شہر کو آگ لگوا دی۔۔منزل فقط چند قدموں کے فاصلے پر تھی ..اگر مجاہدین آ گے بڑھ کر سری نگر کے ہوائی اڈے پر قبضہ کر لیتے تو آج کشمیر کی تاریخ اور
جغرافیہ یہ نہ ہوتا جو اب دکھائی دیتا ہے۔۔۔ کشمیر پر بھارت کے غاصبانہ قبضے کی سازش کے اندر سے ..بہت سے سوال جھانکتے ہیں۔۔۔ مثلاً
مہاراجہ ہری سنگھ اوربھارتی سازش کو کامیاب کرانے میں اگر جنرل گریسی کا ہاتھ نہ ہوتا تو ...؟؟؟
سردار ولبھ بھائی پٹیل اور لارڈ ما ؤنٹ بیٹن کے منظورِ نطر و ی پی مینن کا مہاراجہ سے گٹھ جوڑ نہ ہو چکا ہوتا تو ؟
اس ضمن میں مجاہدین کے بھیس میں شیخ عبداللہ اور بھارتی ففتھ کالم کے جاسوسوں کا کردار بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا جنہوں نے طرح طرح کی افواہیں پھیلا کر مجاہدین کی صفوں میں بد دلی پھیلائی ...او ر جیتی ہوئی جنگ اس وقت ہار دی گئی جب کہ منزل سامنے کھڑی بلاتی تھی ۔۔۔! جب بھی کشمیر کی بات ہوتی ہے ، مجھے اس کی تاریخ کا یہ حصہ بہت تکلیف دیتا ہے ۔۔۔سری نگر جو کشمیریوں کی جنت ہے ..گم گشتہ جنت ،جس کے لئے وہ صد ہزار قربانیاں گزار کر بھی اس سے دست بردار ہونے کو تیار نہیں . ہمارے سیاست دان اور حکمران اس حقیقت کو جانتے ہیں اور یہ بھی جانتے ہیں کشمیر کو اگر بھارت اپنی شہہ رگ مانتا ہے تو کشمیر پاکستان کے دل کا بھی وہ نازک حصہ ہے ، جس پرغاصبانہ قبضہ ختم کرنے اور اس کی آزادی کے لئے پاکستان دو جنگیں لڑ چکا ہے ۔ مگر اس کے باوجود انہوں نے کشمیر کو کشمیر ڈے کی فائل میں بند کر کے اس فائل پر نو کمنٹ لکھ کر اسے کسی دیمک زدہ الماری میں بند کر رکھا ہے البتہ کشمیری کہ،آزادی کی خواہش سے دستبردار ہونے کو تیار نہیں ..کسی طور اسے چھوڑنے کو تیار نہیں ۔۔۔!
کشمیر کی جدو جہدِ آزادی صرف نوے ہزار شہداء ، اور آٹھ سے دس ہزار لاپتہ افراد (غیر سر کاری اعداد و شمار اس سے مختلف ہیں) پر ہی مشتمل نہیں ۔ اس کے پیچھے تین نسلوں کا لہو ہے ، شہید برہان وانی کی شہادت کے بعد گرچہ بھارت نے کشمیر میں ظلم اور جبر کی نئی مثا لیں قائم کر دیں مگر کشمیری اس ظلم کے سامنے جھکنے کو تیار نہیں۔
دنیا کو یاد ہوگا برہان وانی کی پہلی برسی پر بھارتی افواج نے وادی کو بڑی سی فوجی چھاؤنی میں تبدیل کر کے رکھ دیا تھا ۔ برسی کے موقع پر وادی میں ہائی الرٹ تھا ۔ قابض فوج نے انٹرنیٹ سروس معطل کر دی تھی۔ سری نگر کی تاریخی جا معہ مسجد جو تحریک آزادء، کشمیر میں مرکزی حیثیت رکھتی ہے اس پر جمعے کے دن تالے لگ گئے۔ مرکزی حریت قیادت کو نظر بند کر دیا گیاریلیوں اورمظاہروں کی نگرانی کے لئے ہیلی کاپٹر طلب کر لئے گئے ۔اور دو سو اکیس کمپنیوں کی اضافی فوج کو نہتے کشمیریوں کی گوشمالی کے لئے تعینات کر دیا گیا ،ان ا قدامات کے ساتھ۔ حکم یہ تھا کہ طاقت، پیسے اور جبر سے دباؤ ان پاگل کشمیریوں کو ۔ اگر نہ مانیں تو گولیوں سے بھون دو ان گمراہ لوگوں کو ۔
مگر یہ لوگ جو پچھلی تین نسلوں سے گمراہ ہیں ، اس وقت گمراہی کی ایک نئی حد پر جا پہنچے ہیں ۔ ظلم اور جبر کے نت نئے ہتھکنڈوں کے سامنے اک نئی شان سے سر اٹھائے کھڑے ہیں ۔ ان کے ہاتھوں میں پتھر ہیں ۔۔ ان کے لبوں پر آزادی کے ترانے ہیں ۔
جبر اور ظلم جیسے ہر آن انہیں اک نئی طاقت فراہم کرتا جا رہا ہے ۔ گو بیک انڈیا گو بیک ۔۔ یہ نعرہ بچے بچے کی زبان پر ہے ۔ جسے بہری اور اندھی بھارتی سر کار سننے کو تیار نہیں ۔ سید صلاح الدین کو دہشت گرد قرار د ینے والی اس اندھی سر کار نے برہان وانی کی برسی پر وادی میں دفعہ 144 نا فذ کر کے اور مجاہد برہان وانی کے آبائی گاؤں کو جانے والے راستے کو بند کر کے اپنے تئیں آزادی کے پاؤں میں بیڑیاں ڈالنے کا پورا سامان کیا۔۔ مگر کیا ان گھٹیا اقدامات سے وہ اس جزبے کو روک سکے ، جو کشمیر کے بچے بچے کے دل میں لہو کے ساتھ دھڑک رہا ہے ؟ جسے ہر نئی پابندی جلا بخش رہی ہے ۔
اس یومِ شہدائے کشمیر پر بھی غاصب فوج نے اپنے پرانے ہتھکنڈوں کے ساتھ حریت پسندی کو دبانے کی کوشش کی، حریت لیڈر یاسین ملک تو پہلے ہی نظر بند تھے ، میر واعظ فاروق کو بھی گرفتار کر لیا گیا ۔ تاکہ یومِ شہد ائے کشمیر کی روح کو کچلا جا سکے ۔مگر کیا ایسا ممکن ہے ؟
کشمیر کی تاریخِ آزادی بتاتی ہے کہ غاصبوں کی ہر کوشش ناکام ہو گی ،اب یہ شعلہ بجھ نہیں سکتا ، جسے شہیدوں کے لہو نے جلایا ہے۔ رہا کشمیر کی آزادی میں ہمارا کردار تو اسے بہت عرصہ ہوا تبدیل کر دیا گیا ہے۔
اب ہم اس دن کوایک رسم کی طرح نبھانے کے عادی ہوچکے ہیں، شاید کسی کو یاد ہو کمانڈو صدر نے اپنے روشن خیال دور میں فور پوائنٹ ایجنڈا پیش کر کے کشمیریوں کی سات دہائیوں پر پھیلی ہوئی جدو جہد کی نفی کر دی تھی۔ یہrmula fourجس میں پاکستان نے کشمیر پالیسی پر یو ٹرن لے کرکشمیریوں کو ہکا بکا کر دیا تھا ۔ کامیاب نہ ہو سکا ۔ مسئلہِ کشمیر پر پاکستانی حکومتوں کا مسلسل معزرت خواہانہ رویہ بھارت کو مزید ظلم پر اکساتا چلا گیا ۔ حقِ خود ارادیت ، اور بھارتی جبر و تسلط سے رہائی ، یہی تھے نہ کشمیریوں کے جائز اور اصولی مطالبے جنہیں نہرو سے لے کر مودی تک ہر کسی نے ناجائز مان کر جبر سے دبانے کی کوشش کی ،مگر کب تک ؟
برہان وانی کی شہادت کے بعد گرچہ بھارت نے جبر و تشدد کی ہر حد پار کر لی ۔ مگر کشمیری اپنی جگہ سے ایک انچ نہیں ہلے اور نہ ہی ہلیں گے۔موجودہ تحر یک کے خال وخد بتاتے ہیں ہر آنے والا دن بھارت کے لئے مشکل اور تحریک کے لئے ایک نئے سنگِ میل کا آغاز ہو گا ۔۔ طاقت کسی مسئلے کا حل ہے نہ علاج ۔ نہتے کشمیریوں نے گزشتہ برسوں میں ثابت کر دیا ہے کہ اب وہ آزادی لے کر رہیں گے ۔
ہر گزرتا ہوا دن انہیں اپنی منزل سے قریب کر تا جا رہا ہے ۔ یہ نوشتہ ءِ دیوار ہے جسے مودی سرکار پڑھنے کو تیار نہیں ۔ ٹرمپ مودی گٹھ جوڑ چاہے جتنے جتن کر لے ۔ اب اس شمع کو بجھانا ممکن نہیں جو کشمیر کے چپے چپے پر جل اٹھی ہے ۔


ای پیپر