ایک وہ ٹائم تھا۔۔۔
14 جولائی 2018 2018-07-14

دوستو، ایک وہ ٹائم تھا ، ایسا جملہ ہے جوبڑے بوڑھے تو کثرت سے بولتے ہی ہیں۔۔ انتخابی موسم میں سیاسی جماعتیں بھی اس جملے کو کثرت سے رگڑتی ہیں۔۔کسی محفل میں بیٹھے ہوں، مہنگائی کا رونا پیٹنا مچا ہوا ہو اچانک محفل میں بیٹھے کوئی بزرگ اچانک بول اٹھتے ہیں، ہمارے زمانے میں ایک روپے کا سولہ سیر آٹا، ایک روپے کا دو سیر بکرے کا گوشت، چارآنے کی ایک من لکڑیاں، ایک آنے کی ایک کلو چینی ملا کرتی تھی، ایک ٹائم تھا کہ ہمارے گھر میں اصلی گھی سے پکوان بنتے تھے اور اب مصنوعی گھی کھاکھاکر نوجوان نسل نے تو اپنی صحت ہی تباہ و برباد کرلی۔۔مجال ہے بزرگ کی ان باتوں کی کوئی مخالفت کرسکے ، اگر کوئی اعتراض اٹھابھی دے تو آگے سے جواب مل جاتا ہے کہ، میاں تمہیں کیا معلوم تو اس وقت دنیا میں ہی نہیں تھے۔۔ایسے ہی ایک دادا میاں اپنے پوتے کو بتارہے تھے کہ ، ہمارے زمانے میں دس روپے کے اندر، آٹا،گھی،چاول، دالیں، تمام قسم کے مصالحے، چینی وغیرہ اتنا آجاتا تھا کہ مہینہ کے بعد بھی بچ جاتا تھا ، جس پر پوتے نے انتہائی معصومیت سے جواب دیا، داداجی، آپ کے زمانے میں سپراسٹورز میں سی سی ٹی وی کیمرے نہیں لگتے ہونگے، اب ایسا کروگے تو پکڑے جاؤگے۔۔

آج کل دھوکے بازی،فراڈ تو عام سی بات ہوگئی ہے، ایک وہ وقت بھی تھا جب اگر کوئی بازار میں کھوٹہ سکہ چلادے تو اسے بہت بڑا فراڈی سمجھا جاتا تھا ۔۔جی جی،حیرت ہوئی ناں آپ کو بھی۔۔بالکل ایسا ہی تھا ، اگر آپ کے گھر میں کوئی بزرگ ہوتو ان سے پوچھئے گا،یہ ان دنوں کا ذکر ہے جب۔۔ماسٹر اگر بچے کو مارتا تھا تو بچہ گھر آکر اپنے والدین کو نہیں بتاتا تھا ،اور اگر کوئی غلطی سے بتابھی دیتا تھا تو الٹا اس کے گھر والے اس کی پٹائی کردیتے تھے، یہ وہی دور تھا جب والدین ماسٹروں کو کہتے تھے،بچہ اب آپ کے حوالے، اس کی کھال آپ کی، ہڈیاں ہماری ۔۔یہ وہی دور تھا جب ٹیوشن سینٹرز اور اکیڈیمیوں کا کوئی تصور نہیں ہوتا تھا ، اور ٹیوشن پڑھنے والے بچے کو انتہائی نکماشمارکیاجاتا تھا ۔۔ ایک ٹائم یہ بھی تھا کہ بڑے بچوں کے جب کپڑے چھوٹے ہوجاتے تھے تو اس سے چھوٹے کو وہ کپڑے پہنادیئے جاتے تھے، پہننے والا اور دیکھنے والا بھی اسے معیوب نہیں سمجھتا تھا ۔۔یہ اسی زمانے کا ذکر ہے جب لڑائی ہاتھوں اور لاتوں سے ہوتی تھی، کسی بھی قسم کا ہتھیار نکالنے کا کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا ، لڑائی کے موقع پر صرف اتنا ہی کہنا کافی ہوتا تھا کہ ، تمہارے ابا یا تمہاری امی سے شکایت کروں گا، بس یہ سنتے ہی حریف کا خون خشک ہوجاتا تھا ۔۔اس وقت کے والدین بھی کمال کے ہوتے تھے، عشا کے فوری بعد بچوں کو سلادیاجاتا تھا ، صبح سویرے فجر میں بچوں کو زبردستی نماز کے لئے اٹھایاجاتا تھا ، گھروں میں قرآن پاک کی تلاوت اور نوافل کا اہتمام کیاجاتا تھااور گھرگھرکا معمول تھا ۔۔کسی کے گھرمہمان آجاتاتھا تو اردگرد کے ہمسائے حسرت بھری نگاہوں سے اس گھر کو دیکھتے تھے اور فرمائشیں کی جاتی تھیں کہ ’’ مہمانوں ‘‘ کو ہمارے گھر بھی لے کرآئیں۔جس گھر میں مہمان آتا تھا وہاں پیٹی میں رکھے، فینائل کی خوشبو میں بسے بستر اور نئی نویلی رضائیاں نکالی جاتی تھیں، کڑھائی والے تکئے دیئے جاتے، مہمان کے لئے دھلا ہوا تولیہ لٹکایا جاتااورغسل خانے میں نئے صابن کی ٹکیا رکھی جاتی تھی۔جس دن مہمان نے رخصت ہونا ہوتا تھا ، سارے گھر والوں کی آنکھوں میں اداسی چھلکتی تھی، کچھ کی آنکھیں نم بھی ہوجاتیں۔ مہمان جاتے ہوئے کسی چھوٹے بچے کو دس روپے کا نوٹ پکڑانے کی کوشش کرتا تو پورا گھر اس پر احتجاج کرتے ہوئے نوٹ واپس کرنے میں لگ جاتا ، تاہم مہمان بہرصورت یہ نوٹ دے کر ہی جاتا۔۔۔شادی بیاہوں میں سارا محلہ شریک ہوتا تھا ۔۔ خوشی اور غمی میں آنے جانے کے لیے ایک جوڑا کپڑوں کا علیحدہ سے رکھا جاتا تھا جو اِسی موقع پر استعمال میں لایا جاتا تھا ۔ جس گھر میں شادی ہوتی تھی ان کے مہمان اکثر محلے کے دیگر گھروں میں ٹھہرائے جاتے تھے۔ محلے کی جس لڑکی کی شادی ہوتی تھی بعد میں پورا محلہ باری باری میاں بیوی کی دعوت کرتا تھا ۔۔۔کبھی کسی نے اپنا عقیدہ کسی پر تھوپنے کی کوشش نہیں کی، کبھی کافر کافر کے نعرے نہیں لگے، سب کا رونا ہنسنا سانجھا تھا ، سب کے دکھ ایک جیسے تھے۔۔مائیں سب کی سانجھی تھیں، بچے جس گھر میں چلے جائیں، اسے کھانا کھلایا جاتا تھا ۔۔کوئی غریب تھا نہ کوئی امیر ، سب خوشحال تھے۔ کسی کسی گھر میں بلیک اینڈ وائٹ ٹی وی ہوتا تھا اور سارے محلے کے بچے وہیں جاکر ڈرامے دیکھتے تھے۔۔کسی ایک کے گھر لینڈ لائن فون ہوتا تھا تو آس پاس کے محلے والے بھی اسی کا نمبر اپنے دوردراز کے رشتہ داروں کو دیتے، جن کے فون کرنے پر فون والا گھر باقاعدہ ایڈریس پوچھ کر اطلاع دینے جاتے اور بات کرانے میں دلی خوشی محسوس کرتے تھے۔

ایک وہ ٹائم تھا ، آج کل کے بچے کیا سمجھیں گے کہ ہم نے کتنی مشکل میں پڑھائی کی، کیونکہ ہمارے زمانے میں تو ٹیچر صرف اپنا موڈ فریش کرنے کے لئے ہی ہماری پٹائی کردیا کرتا تھا ۔۔آج کل کے بچے تو ریفریش ہونے کے لیے جہاں پارک، گیم سینٹر، سینما ، پکنک وغیرہ پہ جانے کی ضد کرتے ہیں، وہیں ہم ایسے بچے تھے جو والدین کی ’’چپیڑ‘‘ یا ایک ’’پھٹکے‘‘ سے فریش ہوجاتے تھے۔۔ وہ بھی کیا دن تھے جب گھر آئے کسی مہمان نے دس روپے دیئے تو مہمان کے جاتے ہی ماں نے آٹھ روپے ’’ٹیکس‘‘ کاٹ کر دو روپے ہمارے ہاتھوں میں تھما دیئے۔۔ ایک وقت تھا جب گھر کا ٹی وی نے خراب ہوجائے تو والدین کہتے تھے کہ بچوں نے خراب کیا ہے، اور اب بچے خراب ہوتے ہیں تو والدین کہتے ہیں کہ ٹی وی خراب کیا ہے۔۔آج کل کے والدین صبح صبح اسکول وین میں بچوں کو بٹھا کر ایسے بائے بائے کرتے ہیں جیسے ہم بچپن میں رشتہ داروں کو ریلوے اسٹیشن پر ٹرین پر بٹھانے اور ٹرین کے چلنے پر انہیں بائے بائے کرتے تھے، اور ایک ہم تھے روزانہ لات کھاکراسکول جاتے تھے۔۔ وہ تو بھلا ہو ’’ہنی سنگھ‘‘ اور ’’جان سینا‘‘ کا ، جنہوں نے فیشن کے نام پر بچوں کو بال چھوٹے رکھنا سکھا دیئے۔۔ہماری تو سب سے زیادہ پٹائی ہی ’’بالوں ‘‘ پر ہوتی تھی کہ بال اتنے بڑے کیوں ہیں، کٹواتے کیوں نہیں۔۔ہم دل جلے کے اجے دیوگن بنے گھومتے تھے اور جس دن ابا کے ہاتھ لگ جاتے تھے تو وہ ہمیں ’’ فاسٹ اینڈ فیوریس‘‘ کا ’’ وین ڈیزل‘‘ بناکرگھر لاتے تھے۔۔

ہمارے پیارے دوست کہتے ہیں۔۔مرغی کی نیت اور قابلیت کتنی ہی اچھی ہو لیکن گندے انڈوں سے بچے پیدا نہیں کرسکتی لہذا’’ تبدیلی ‘‘کے شوشہ سے بچ کر رہیں۔۔ہمارے پیارے دوست کی باتیں ہم پر قطعی اثرانداز نہیں ہوسکتیں کیوں کہ ہمارے گھر میں ہماری کوئی چیز اگر ٹیبل پر پڑی ہے تو ایک ماہ بعد بھی وہ اسی جگہ پڑی ہوگی، تبدیلی کاتو سوچنا ہی فضول ہے۔۔ویسے انتخابی موسم چل رہا ہے، مختلف سیاسی کیمپوں میں تازہ ترین حالات کچھ یوں ہیں کہ۔۔ کھلاڑیوں کے کیمپ والے کہہ رہے ہیں۔۔اج خوشیاں دے نال مینوں چڑھ گئے نے حال۔۔متوالے کہہ رہے ہیں۔او،دنیا کے رکھوالے سن درد بھرے میرے نالے۔۔ جیالوں کے لبوں پر ہے۔۔کہیں پہ نگاہیں ،کہیں پہ نشانہ۔۔ ہم تو اس بزرگ کی عقل و فہم کے دل سے قائل ہوگئے جب ان سے کسی نے پوچھا۔۔ MMA کیا ہے؟ تو بزرگ نے ماچس کی ڈبی سے تیلی نکالی اس کے مصالحے والی سائیڈ کو ایک آنکھ میچتے ہوئے گھمایا اور مسکراکر کہا۔۔’’ موٹے موٹے اللہ والے۔۔‘‘۔۔ہمارے پیارے دوست فرماتے ہیں کہ موٹرسائیکلوں کو ہلاہلاکر پیٹرول چیک کرنے والی قوم سے اپیل ہے کہ ووٹ دیتے وقت بھی اپنے نمائندے کو ہلاہلاکر چیک ضرور کرنا۔


ای پیپر