مریم نواز شریف کی تخیلاتی ڈائری
14 جولائی 2018 2018-07-14

فیصلہ تو بالکل واضح ہے لیکن اس پر عمل کرنا بہت مشکل ہے ، خیالات ہیں کہ ذہن پر چھائے ہوئے ہیں ، سوالات ہیں کہ فیثا غورث کے الجھاوے کی طرح حل ہونے کا نام ہی نہیں لے رہے ، جواب ہیں کہ مٹھی سے ریت کی طرح پھسلتے جا رہے ہیں۔ لندن آ ئے بہت دن ہو چکے ہیں ، دن رات امی کے پاس گزر جاتے ہیں۔ ان کے پاس بیٹھے ہوئے وقت کا پتہ ہی نہیں چلتا ، معلوم کہ وہ کوما میں ہیں ، وینٹی لیٹر پر ہیں ، مجھے سن نہیں سکتیں ، دیکھ نہیں سکتیں مگر اس کے باوجود میں گھنٹوں ان کے پاس بیٹھی ان کے چہرے کو تکتی رہتی ہے ، جب بھی موقع ملتا ہے اپنے دل کی ساری باتیں ان سے شیئر کرتی ہوں۔ وہ سب سوالات جو میرے ذہن میں گھومتے ہیں ۔فیصلہ تو بالکل واضح ہے لیکن میں اس امید پر امی کی طرف دیکھتی ہوں کہ شاید مجھے کسی سوال کا جواب سمجھا سکیں۔ تفصیل سے بتائیں کہ بیٹی ایسا کرنا کچھ آسان نہیں۔ کچھ ایسی فکریں مجھے ابو کی آنکھوں میں بھی نظر آتی ہیں۔ وہ ان دنوں بہت کم بولتے ہیں ، جیسے کھو سے گئے ہیں ۔ مگر کچھ ان کہی نصیحتیں مجھے ان کی آنکھوں میں نظر آتی ہیں کہ مریم ! وادی کارزار میں قدم رکھنا آسان نہیں ، تم پاکستان میں ایک نہ کردہ گناہ کی سزا کاٹنے پہنچ تو جاؤ گی ۔ جیل بھی چلی جاؤ گی ، پاکستانی اہلکاروں کی مشکلات اور بے عزتیوں کو بھی سہو گی۔ لیکن سوچ لینا کیا تم یہ سب کر پاؤ گی ۔ میرا زندگی کا سفر تمہارے سامنے میں۔ ہر بار سر اٹھانے پر ایک ہی طرح سے نکالا گیا ۔ وہی کہانی ، وہی پلاٹ ۔ بس تاریخیں ، مقام اور کردار تبدیل ہوئے ۔ کیا تم بھی یہ سب سہہ پاؤ گی؟۔ اپنے ہی ملک کی خدمت کے صلے میں یہ سلوک برداشت کر پاؤ گی؟۔ شاید ابو مجھے روکنا چاہتے ہیں۔ سمجھنا چاہتے ہیں لیکن یہ بھی جانتے ہیں کہ میں بھی ان کی بیٹی ہوں۔ میں فیصلہ کر چکی ہوں۔ شاید اب پیچھے نہ ہٹ سکوں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آج ایک ماہ کے کومے کے بعد امی نے آنکھیں کھولیں ، انجان نظروں سے مجھے دیکھا، میں خوشی سے پاگل ہو گئی کہ امی کو ہوش آ گیا ۔ ایک امید پیدا ہوئی کہ انشاء اللہ وہ ٹھیک ہو جائیں گی ، ہمارے درمیان واپس آ جائیں گی ۔ میرا من چاہا کہ میں ان کے پاس ہی رہ جاؤں۔ ان کے سرہانے اسی طرح بیٹھی گھنٹوں انہیں دیکھتی رہوں ۔ میرے دن میں حسرت پیدا ہوئی کہ کاش امی مجھے اسی پیار کی نظر سے دیکھتیں۔ میں انہیں بتاتی کہ میں پاکستان جا رہی ہوں جیل کاٹنے۔ آپ کی گڑیا پاکستان میں اپنے گناہوں کی سزا کاٹنے جا رہی ہے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آج وداع کا دن تھا اور میرا دل ایسے جیسے دھڑکنا بھول چکا تھا ، میں جیسے خواب میں تھی ، سب کچھ جیسے خواب ہو رہا ہے ۔ ہاں میرے اندر حوصلہ ہے ، میں بہادر ہوں لیکن بہادری کی ایک خاص حد سے آگے آپ کی حسیات ،جذبات سے مبرا ہو جاتی ہوں شاید۔ ہم سب ہسپتال پہنچے تو مجھے ایسا معلوم ہوا کہ یہ سب مناظر تو میں پہلے بھی کہیں دیکھ چکی ہوں۔ تاریخ کے کسی جھروکے میں ، یا شاید خواب میں سوتے لاشعور کے کسی سفر میں۔ خواب خواب میں ہی حسن نے مجھے گلے لگا لیا ، حسین نے مجھے پرسہ دیا ۔ ان کے بھاری دلوں کا بوجھ مجھے محسوس ہو رہا تھا مگر میں کمزور نظر نہیں آنا چاہتی تھی ، جنید مجھے حسرت سے دیکھتے ہوئے زمین پر بیٹھ گیا۔ آج شاید اس کا حوصلہ جواب دے رہا تھا ، وہ حسرت سے میری طرف دیکھ رہا تھا ، مجھے اس کی آنکھوں کی تپش محسوس ہو رہی تھی مگر میں سب کو خدا حافظ کہتے ہوئے اس کی طرف دیکھ کر پتھر کا نہیں ہونا چاہتی تھی ۔ شاید اسے دیکھتی تو اپنے فیصلے پر قائم نہ رہ پاتی ۔ ہاں میری آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔ مگر یہ سب تو خواب خواب سا تھا نہ؟ ۔ پھر ابو اور میں ، امی کے کمرے میں الوداع کہنے گئے۔ امی تو کومے میں تھیں مگر مجھے ایسا لگا جیسے وہ ہم دونوں کو الوداع کہہ رہی ہیں۔ ان کی بند آنکھیں ، پرسکون چہرہ جیسے مجھے پرسہ دے رہا تھا۔ ابو بیڈ کے کنارے کھڑے کتنی ہی دیر امی کی طرف دیکھتے رہے۔ شاید یہ ان کا اپنی بات کہنے کا کوئی طریقہ تھا ، جیسے میرا امی سے رابطے کا ایک اپنا طریقہ تھا۔ مگر اس وقت میں خواب سے ہوش میں آگئی جب ابو نے امی کے ماتھے پر پیار سے الوداعی ہاتھ رکھا ، ضبط کے بندھن ٹوٹ گئے۔ شاید خدانخواستہ وہ سوچ رہے ہوں گے کہ دوبارہ امی کو اس طرح دیکھ سکیں گے یا نہیں۔ بس

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہمارا طیارہ لاہور کی فضائیوں میں داخل ہو چکا ہے اور میں کن اکھیوں سے ابو کی طرف دیکھ رہی ہوں۔ شاید میں انہیں دل میں اتارنا چاہ رہی ہوں ۔ ان کے تصور ، ان کے نقش و نگار یاد کرنا چاہ رہی ہوں۔ کیا معلوم اہل وطن ہمیں کس طرح سے ٹریٹ کریں ، جیل کی کوٹھڑی میں جانے کے بعد میرے ساتھ کیا سلوک ہو ، میں کتنی دیر ابو کونہ دیکھ سکوں۔ مجھے آج معلوم ہوا کہ میرے ابو صرف میرے ہی نہیں دشمنوں کے بھی ہیرو ہیں۔ صبح سے ہماری آمد کی اطلاعات کے بعد لاہوریوں پر جو مظالم ڈھائے گئے ان کی مجھے قطعا امید نہ تھی۔ موبائل ، انٹرنیٹ سروس بند کر دی گئی ، پورے شہر کو کنٹینرز سے بند کردیا گیا۔ کارکنوں اور پولیس کی ٹولیوں میں سارا دن آنکھ مچولی چلتی رہی ۔ شاید دشمن میرے ابو کو کوئی ریمبو سمجھ رہے ہیں جو لاہور ایئر پورٹ پر ٹانگ مار کر جہاز کا دروازہ کھولیں گے اور کسی بھاری ہتھیار سے سامنے کھڑے دشمنوں پر فائرنگ کھول دیں گے اور پھر میرا بازو پکڑ کر مجھے جیپ میں بٹھا کر اسلام آباد کی طرف نکل پڑیں گے۔ دشمنوں کو شاید ایسا ہی لگ رہا ہو۔ مگر انہیں شاید معلوم نہیں ہم قانون کی عزت کرنے یہاں آئے ہیں۔ ہماری ایک آواز پر شاید عوام ایئر پورٹ کی سب رکاوٹیں توڑ کر ہمارے پاس آ پہنچیں مگر ہمیں وہ قبول نہیں ۔ جہاز اتر چکا ہے اور اداروں کے لوگ آن پہنچے ہیں۔ ابو کھڑے ہو کر ان سے بات کر رہے ہیں مگر مجھے معلوم ہے کہ اس وقت انہیں دنیا کی ہر چیز سے زیادہ میری فکر ہے ، میں نے اپنے چہرے پر ایک مسکراہٹ سجا لی ہے ، کوشش کر رہی ہوں کہ میرا ہنسنا ابو کو بچا لگے ، انہیں لگے میں بہادری سے کھڑی ہوں ، اپنے فیصلے پر قائم ہوں۔ وہ مجھے دیکھ کر کمزور نہ پڑ جائیں۔ ہمارے پاسپورٹ قبضے میں کرنے کے بعد ہمیں ایک دوسرے چارٹر طیارے میں سوار کروا کر نیو اسلام آباد ایئر پورٹ لایا گیا ہے۔ یہاں سے ہم الگ الگ بکتر بند گاڑیوں میں کوئی 35,40گاڑیوں کے قافلے میں سوار کہیں لیجانے میں مصروف ہیں۔ شاید اڈیالہ جیل ۔ میں بکتر بند گاڑی میں بیٹھی ہوں۔ یہ ایک عجیب سی گاڑی ہے جو میں نے پہلے نہیں دیکھی ۔ ابو بھی ایسی ہی کسی گاڑی میں میرے آگے یا پیچھے ہیں۔ مگر یہ احساس ضرور ہے کہ ساتھ ہیں اور میں حیران ایک سوال کا جواب ڈھونڈے میں مصروف ہوں کہ وقت ، کردار اور مقام ضرور بدلا ہے مگر تاریخ وہی دہرائی جا رہی ہے ۔ شاید 1999ء میں بھی کوئی ایسی ہی سڑک اور بکتر بند گاڑی ہو گی جہاں سے ابو کو لیجایا گیا ہو گا۔ شاید ذوالفقار علی بھٹو کو بھی انہی سڑکوں سے جیل لے گئے ہوں؟ اور کیا کیری لوگر مل سے امریکہ نے ہم پاکستانیوں پر کوئی احسان کیا ہے یا ہم سود و زیاں کہ اک نئے بھنور میں دھنس گئے ہیں اور وہی پرانی کہانی نئے طریقے سے دہرائی جا رہی ہے؟


ای پیپر