ثریا عظیم سے ثریا عظیم تک
14 جولائی 2018 2018-07-14

اگر وکیل، ڈاکٹر اور پولیس والا اچھا مل جائے تو بندہ زمین سے اوپر ہی رہتا ہے ورنہ چھ فٹ نیچے جانے میں دیر نہیں لگتی۔ امی کی دوائیوں کو ریویو کرتے ہوئے ڈاکٹرعبدالجبار شاکر نے نہایت ہی متانت بھرے لہجے میں کہا۔ بات نہ صرف سچ تھی بلکہ ثریا عظیم ہسپتال کے فورتھ فلورکے روم نمبر ۲ میں میری والدہ کی موجودگی اس بات کا ثبوت بھی تھی۔گزشتہ جمعہ اچانک امی کی طبیعت خراب ہو گئی ، پیچس رُکنے کا نام نہیں لے رہ تھے، مزید کسی پیچیدگی سے بچنے کے لیے ہم امی کو لے کر گھر کے قریب ثریا عظیم ہسپتال چوک چوبرجی لاہور پہنچے ۔ ڈیوٹی پرموجود نوجوان ڈاکٹر نے امی کی میڈیکل ہسٹری دیکھے بغیر دوائی تجویز کی،بھائی جوہوم کیئر نرسنگ کے شعبے سے وابستہ ہے وہLasix نامی انجکشن کی 60ایم جی کی ایک ساتھ تین ڈوذ دیکھ کر حیران رہ گیا، ڈاکٹر سے بحث کی یہ غلط ہے، موصوف اڑ گئے کہ میں ڈاکٹر ہوں یا تم۔ بھائی نے

بتایا کہ ان کا بلڈ پریشراتنا زیادہ ہائی نہیں ہے اور وہ ہڈیوں کی تکلیف کا شکار ہیں۔ مگر ڈاکٹر کا مؤقف تھا کہ میں ان کی کیفیت سمجھ رہا ہوں، اس لیے یہی دوا بہتر ہے۔ بھائی جا کر میڈیسن لے آیا ،امی کا علاج شروع ہوا۔ دوائیں ایک ساتھ ہی ایک ڈرپ میں لگادیں۔ امی کو کچھ دیر بعد ہی حاجت ہوئی، واضح رہے کہ ثریا عظیم ہسپتال کی ایمرجنسی میں باتھ روم کوئی نہیں، امی کو بار بار ویل چیئر پر بٹھا کرکیفے کے پاس بنے باتھ روم میں لے کر جانا پڑتا تھا جہاں صفائی کا ناقص انتظام دکھائی دیا یا رات کے بارہ ایک بجے کوئی صفائی والا موجود نہیں تھا جبکہ گنگا رام میں ، میں نے رات ۳ بجے بھی ایمرجنسی کو صاف شفاف اور عملے کو متحرک پایا ہے۔ امی کی طبیعت میں تھوڑا سا فرق آیا تو انہوں نے گھر جانے کی بات کی،ڈاکٹر نے بھی جانے کی اجازت دے دی، گھر واپسی پرہر پانچ منٹ کے بعد باتھ روم جانے کے باعث ایک گھنٹے کے اندر اندر امی کی حالت بگڑگئی اور وہ بے ہوش ہو گئی۔

اب تیز بخار اور کپکپی طاری تھی۔میں انہیں گود میں لے کربیٹھی تھی،ہم نے دوبارہ ثریا عظیم جانے کی بجائے گنگا رام ہسپتال کی ایمرجنسی جانے کا فیصلہ کیا۔ گنگا رام ہسپتال کی ایمرجنسی میں بھی ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹرنے اندازہ لگا لیا تھا کہ کیس بگڑ گیا ہے،اس نے دو پینا ڈول دے کر اور کچھ دوائیں تجویز کر کے ڈسچارج کر دیا۔ گھر واپس آئے، میری ماں بستر پر شاید۔۔ نہیں،میں امی کو کسی ظلم کا شکار نہیں ہونے دوں گی۔پہلی پوسٹ سوشل میڈیا پر لگائی، دوسرے انجکشن کے بارے میں معلومات حاصل کیں، لندن سے ڈاکٹر آصف منیر اورلاہور سے میری بھانجی وردہ قریشی نے مجھے مکمل معلومات فراہم کیں۔امی پر وہ انجکشن اپنا اثر دکھا چکا تھا اور ساری علامات جس بات کی جانب اشارہ کر رہے تھے، ہم سب اس کے لیے تیار نہیں تھے۔ نوجوان کالم نگار نور الہدی سے بات کی، اس نے ثریا عظیم ہسپتال کے حوالے سے ذاکر اللہ مجاہد سے بات کرنے کا مشورہ دیا۔ انہیں فون کیا، ساری صورت حال گوش گوار کی،انہوں نے ایم ایس سے رابطہ کرنے کا کہا اور مکمل تعاون کا یقین دلایا ۔

ایم ایس (ر)برگیڈئیرڈاکٹرارشدضیاء جن سے پہلے بھی تعارف تھا، انہیں کال کی ، بات سننے کے بعد انہوں نے کہا میں دیکھتا ہوں،اور کال بند۔ میرے منہ سے بے ساختہ گالی نکلنے والی تھی کہ ان کی کال آ گئی۔انہوں نے امی کی حالت بارے پوچھا اور صرف اتنا کہا، اپنا پتہ مجھے میسج کریں، ہسپتال کی گاڑی آپ کی والدہ کو لینے آ رہی ہے، ہسپتال ڈاکٹر کی غفلت کو تو دیکھے گا مگر آپ کی والدہ کی صحت اہم ہے،ہسپتال ان کو علاج کی مکمل سہولیات فراہم کرے گا۔ ایم ایس پر واضح کر دیا کہ ہم اہل ہاشم ہیں ،ہم پر زکوٰۃ نہیں لگتی، انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ ساری ذمہ داری میری۔فیملی سے مشورہ کرنے کے بعد ایم ایس صاحب کو انفارم کیا ،انہوں نے ایمبولیس بھیجی ۔ ہم امی کو لے کر ہسپتا ل پہنچے۔ جہاں امی کو ضروری کارروائی کے بعد روم میں شفٹ کر دیا گیا ،اور ان کے معالج ڈاکٹر عبدالجبار شاکر کے آنے تک کسی قسم کا علاج فراہم نہیں کیا گیا۔ امی کی وہی حالت تھی۔ ڈاکٹر شاکر آئے، انہیں مکمل چیک اپ کیے،بلڈ سمپل لئے گئے ،اور امی کا علاج شروع ہو ا۔ اس وقت تک امی کا رفع حاجت کا سلسلہ شدت اختیار کر چکا تھا اور وہ اپنے ہوش میں نہیں تھا۔ اگلے 48سے 72 گھنٹے اہم تھے۔ سوشل میڈیا پر میری پوسٹس کا سلسلہ جاری تھا۔ امی کو موت کے دہانے پہنچانے والے ڈاکٹر کو معطل کرکے اس کے خلاف کارروائی کا سلسلہ شروع کر دیا گیا۔ ایم ایس ارشد ضیاء کے بروقت فیصلے اور لمحہ لمحہ امی کی صحت کے بارے انہیں خبر دی جا رہی تھی۔ ڈاکٹر عبدالجبار شاکر امی کے ذاتی معالج ہیں ،ان کی شوگر اور بلڈ بریشر کو نارمل رکھنے میں ان کا علاج اہم ہے۔ امی خود کوئی دوا کھانا بھول جائیں تو الگ بات ۔ اس حالت میں تو انہوں نے جس قدر جانفشانی سے امی کا علاج کیا، وہ قابل تعریف ہے۔ امی کی حالت تیس گھنٹوں بعد نارمل ہونا شروع ہو گئی جو کہ کسی معجزے سے کم نہیں تھا۔ خاندان بھر کی دعائیں، جہاں جہاں ہمارے دوست احباب تھے، کیا مسلم ، کیا غیر مسلم۔ سب احباب کی جانب سے میری والدہ کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں اور اللہ کے فضل سے آئی ٹل گئی۔ تین تین راتیں اور دو دن ہم نے ہسپتال میں گزارے۔میں اس ساری صورت حال سے ایک بیٹی کے طورپر گزری اور بطور کالم نگار اسے مانیٹر کیا۔

ہمارا نظام تعلیم پہلے ہی ونٹیلیٹرپر ہے، اور نجی میڈیکل کالجوں میں جس طرح ڈگریوں کی بندر بانٹ ہوتی ہے ۔اس سے سامنے آنے والے ڈاکٹر اسی طرح کی غفلت کا مظاہرہ کرتے ہیں جیسے اس ڈاکٹر نے امی کے معاملے میں کیا۔ دوسری جانب چین سے ڈگری لے کر آنے والوں کا تو اللہ ہی حافظ ہے چند ایک نے ہی کچھ سیکھا ہو گا ، اکثریت کا اللہ ہی حافظ ہے جبکہ ہمارے ہسپتال ڈاکٹروں کی تقرری کرتے وقت صرف ان کی تعلیمی ڈگری دیکھتے ہیں اورکچھ نہیں۔ اس کے بر عکس ایک پی ایچ ڈی استاد جب کسی سکول، کالج اور یونیورسٹی میں ملازمت اختیار کرتا ہے تو اس کی باقاعدہ ڈیمو لی جاتی ہے، سینئر اساتذہ کی ٹیم موجود ہوتی ہے جو اسے مانیٹر کرتی ہے تو یہ نجی ہسپتال والے یہ کام کیوں نہیں کر سکتے۔؟ اگرچہ سرکاری سطح پر اب صورت حال بدل چکی ہے ۔پنجاب ہیلتھ کمیشن پوری طرح فعال ہے ،مگر بات ہے شعور،آگاہی اور خود کے حوصلے کی۔ وطن عزیز میں ہزاروں افراد ڈاکٹروں کی غفلت کا شکار ہو جاتے ہیں اور ہم اللہ کی رضا جان کر چپ کر جاتے ہیں۔ ہمیں اس بات کا شعور ہونا چاہیے کہ ہمیں کیا کرنا ہے اور کیا نہیں۔ میں نے ہمت کی اور اللہ کی رحمت سے اپنا مقدمہ لڑااور اپنی والدہ کے لیے اسی ہسپتال سے نہ صرف سہولت لی بلکہ ڈاکٹرکے خلاف بھی قدم اٹھایا،کیونکہ میں شکوہ ظلمت شب کی قائل نہیں ہوں، آپ بھی اپنے حصے کی شمع جلائیں، اسی طرح پاکستان آگے بڑھے گا اور ظلم کا خاتمہ ہو گا جب ہم اپنے آئینی حقوق کی نہ صرف حفاظت کریں گے بلکہ ان کے لیے کھڑے بھی ہوں گے۔


ای پیپر