الیکشن کمیشن سے اک سوال
14 جولائی 2018 2018-07-14

امانت، دیانت ، شرافت وژن رکھنے کے باوجود انتخابی میدان میں اتر نا ہر کسی کے بس کی بات نہیں رہی۔ ہمارا انتخابی نظام بھی سرمایہ دارانہ اوصاف رکھتا ہے اسکے موڈ کو بھانپتے ہوئے اب الیکشن کمیشن اسکی راہ پے چل نکلا ہے، امیدواران کے لئے نرم گوشہ رکھتے ہوئے انہیں انتخابی مہم کیلئے لاکھوں روپے خرچ کرنے کی اجازت دی گئی ہے ان حالات میں کسی سفید پوش کا ’’ رسک ‘‘ لینا عمر بھر کی پونجی لٹانے کے مترادف ہے لیکن یارلوگ اس کھیل کو ’’ سرمایہ کاری ‘‘ کے طور پر ’’ انجوائے ‘‘ کرتے ہیں اور کامیابی کی صورت میں کئی لاکھ کما تے ہوئے اپنے سرمایہ اور اثاثہ جات کو بڑھانے کی کوشش میں مصروف رہتے ہیں اس عمل نے عام آدمی کی پارلیمنٹ میں ر سائی کو ناممکن بنادیا ہے۔

معاشرہ میں شدید اخلاقی انحطاء ہے اور سیاسی جماعتوں کے اندر بھی بدعنوان عناصر کو نہ صرف برداشت کیا جاتا ہے بلکہ افسوس ناک حد تک انہیں پرکشش کرنے کا رجحان فروغ پارہا ہے یہی وجہ ہے کہ قومی جماعتیں اپنی غلطیوں کی وجہ سے محدود ہوکر مقامی جماعتیں بنتی جارہی ہیں، پارٹیوں میں شورایت اور جمہویت کے فقدان نے گروہ بندیوں کو عام کیا اور وفاداریاں شخصیات اور خاندانوں کے گرد گھوم رہی ہیں۔ سیاست میں اصل قوت اخلاقی برتری اور کردار ہوا کرتا تھا اب یہ قصہ پارینہ ہے ماضی میں نظریات پر مبنی پالیسیاں تشکیل پاتی تھیں وہ سب غیر موثر ہوگئی ہیں ایک دوسرے کو ضعف پہنچانے کے لیے کٹر مذہبی فرقے منظم کیے جارہے ہیں۔انتخابی نظام مضبوط ہونے کی بجائے کمزور ہورہا ہے۔

عوامی حلقے محو حیرت ہیں کہ مہنگے ترین انتخابات کے باوجود مسلکی گروہوں کو سیاسی جماعت کے طور پر متعارف کروانا اور پھر ہر حلقہ میں امیدواران کو کھڑا کروانا آخر کس کا ایجنڈا ہے ؟مذہب سے وابستہ یہ سیاسی گروہ جنہوں نے گذشتہ ضمنی انتخابات میں جنم لیا اب قومی انتخابات میں ملک بھر میں امیدوار تلاش کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں جن کے وسائل بھی کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ان کے مقابلہ میں قومی سطح کی حامل جماعتیں امیدوار کی تلاش میں نہ صرف سرگرداں رہیں بلکہ تمام حلقوں میں امیدوار نامزد کرنے میں بری طرح ناکام دکھائی دیں۔ سیاسی اور سماجی حلقوں میں یہ سوال ضرور اٹھ رہا ہے کہ آخر انکی کیا قومی خدمات ہیں کہ انہیں قومی سطح پر پذیرائی دی جارہی ہے اور محض مسلک کی بنیاد پر ووٹ حاصل کرنے کی راہ ہموار ہورہی ہے فروعی اور مسلکی بنیادوں پر سماجی تقسیم کی بھاری قیمت یہ قوم ادا کررہی ہے اب تلک بعض سیاسی حلقے سابق آمر جنرل ضیاء الحق کو اسکا ذمہ دار گردانتے رہے ہیں کراچی میں لسانی بنیادوں اور ملک بھر میں فروعی طرز کی تنظیموں کو کھڑا کرنے کا ذمہ دار انہیں ٹھہرایا جاتا رہا ہے اسکی بدولت ہمارے ہمسایہ ممالک سے تعلقات بھی سر د مہری کا شکار رہے ہیں اورارض پاک میں بدامنی کا جادو سر چڑھ کا بولتا رہا۔سرمایہ کاری کی راہ میں اس نوع کی تنظیموں کو بڑی رکاوٹ خیال کیا جاتا رہا ہے قبائلی علاقہ جات میں جرائم میں ملوث ہونے کی شہادتیں بھی ملتی رہی ہیں۔

اک طرف قومی سطح پر فرقہ روایت کو ختم کرنے ، مدارس کے نظام کو جدید تر کرنے ،مساجد میں ایک ہی خطبہ نافذکرنے کی سعی ہوتی رہی ہے مسالک میں ہم آہنگی کی کاوش گراس روٹ لیول تک کی جاتی رہی ہیں دوسری طر ف پھر سے فروعی جماعتوں کو سیاسی میدان میں اتارنے کا عمل د ال میں کچھ کالا ضرور ظاہر کرتا ہے یہ کل ہی کی بات ہے ان فروعی جماعتوں میں سے اک دھڑے نے وفاقی دارالحکومت میں دھرنا دے کرکاروبار ریاست کو معطل کیے رکھا۔اس کے خاتمے کیلئے آرمی چیف تک کو مداخت کرنا پڑی جو انکی منصبی ذمہ داری بھی نہیں تھی ۔اس عمل کو میڈیا کی آنکھ سے پوری دنیا نے دیکھا کہ چند ہزار افراد کے سامنے ریاست کس طرح بے بس دکھائی دے رہی تھی۔ اس صورت حال کے باوجود الیکشن کمیشن کااس طرز کی مذہبی اور فروعی جماعتوں کو بطور سیاست جماعت رجسٹرڈ کرنا بہت سے سوالات کو جنم دیتا ہے۔

ہمارا سماج جو پہلے ہی لسانی ، گروہی ، برادری کی بنیاد پر اک شناخت ہی نہیں رکھتا بلکہ ایسی وفاداری جتاتا ہے جو انہیں ریاست سے زیادہ عزیز ہوتی ہے اس ماحول میں مسلکی طور پر سماج کومزید تقسیم کرنا کونسی دانشمندی ہے؟

یہ بھی اطلاعات ہیں کہ وہ جماعتیں جنہیں ماضی میں اس لئے پابندی کا سامنا رہا کہ وہ سماج میں مذہبی منافرت پھیلا رہی ہیں انہیں اک بار پھر نام کی تبدیلی کے ساتھ سیاسی میدان میں قدم رکھنے کا پروانہ جاری کردیا گیا ہے باوجود اس کے ان کے بعض راہنماؤں کے خلاف سنگین مقدمات بھی تھے اگر پسند اور ناپسند کو سامنے رکھ کر قانون کے نفاذ کو حرکت دی جائے گی تو اسکے خطرناک نتائج اس قوم کو بھگتنا ہوں گے۔ لسانی، فروعی اور مسلکی گروہوں کے معدودے چند کلیدی راہنماؤں کے اثاثہ جات کی خبر لی جائے تو انکا حال بھی دوسری بدعنوان سیاسی قیادت سے قطعی مختلف نہیں ہوگا۔ جو اس بات کی شہادت ہے کہ قومی وسائل پر ہاتھ صاف کرنے میں یہ طبقہ بھی کسی سے پیچھے نہیں اگر دوسرے قائدین ’’ عوامی خدمت ‘‘ کا لبادہ اوڑھ کر یہ فریضہ انجام دے رے ہیں تو یہ مذہب کی آڑ میں کام تمام کررہے ہیں۔

ان انتخابات کی خوبی یہ ہے کہ ان میں 63% ووٹ نوجوانان قوم کا شامل ہے جو انتخابی نتائج پراثر انداز ہونے کی پوزیشن میں ہیں۔اس لئے قیادت کے انتخاب میں بڑی ذمہ داری ان پے بھی عائد ہوتی ہے انہیں فرط جذبات میں ڈھلنے کی بجائے شعوری طور پر اپنے حق رائے دہی کو استعمال کرنا ہے اور کسی ایسے امیدوار کے حق میں انہیں رائے نہیں دینی چا ہیے جو بدکردار، بددیانت اور سماج کو نسلی ،گروہی ، فروعی طور پر تقسیم کرنے کا علم اٹھائے ہوئے ہو۔اس وقت اس دھرتی کو اتحاد و اتفاق کی جتنی ضرورت ہے وہ شاید اس سے پہلے نہ تھی ہماری تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ لسانی جھگڑا کو ہوا دینے میں غیروں نے کلیدی کردار ادا کیا تھا اور اسکے بعد ہم ایک حصہ سے محروم کردیئے گئے اب بھی ایسے بہت سے کردار مسلکی تعصب کو تیز کرنے کیلئے بے تاب ہیں۔ زیادہ بہتر تو یہ تھا کہ الیکشن کمیشن ایسی جماعتوں کو رجسٹرڈ ہی نہ کرتا جو محض فروعی دوکانداری چمکانے کا پروگرام رکھتی ہیں نہ ہی ایسی جماعتوں کو اجازت ملنی چاہیے تھی جن کے اندر جمہوری اقدار ہی مضبوط نہیں ۔ہمیں اس سے مفر نہیں کہ انتخابات میں حصہ لینا انکا جمہوری حق ہے لیکن جماعتوں کے الیکشن کمیشن کے ہاں رجسٹرڈ ہونے کے بھی قواعد و ضوابط جنکا اطلاق عالمی معیار ہی کے مطابق ہونا چاہیے تھا۔

بدقسمتی سے ہمارے ہاں فی الوقت بھی سینکڑوں سیاسی جماعتیں صرف الیکشن کمیشن میں اپنا نام رکھتی ہیں حالانکہ ان کے ہاں کو ئی جمہوری روایت نہیں فرد واحد بغیر اراکین اور ممبران کے جماعت کو رجسٹرڈ کروا کر انتخابی میدان میں اتر جاتا ہے۔

لسانی، فروعی اور مسلکی گروہوں کی قیادتیں عوام کیلئے اگر اتنا ہی درد رکھتی ہیں تو انہیں قومی سطح کی حامل جماعتوں میں ا پنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرنا چاہیے ۔محض لسانی، فروعی اور مسلکی نعرہ لگانا کونسی قومی خدمت ہے؟اس انداز میں قوم کی ہمدردی حاصل کرنا خود امت کوخانوں میں تقسیم کرنے کے مترادف ہے گمان یہ کیا جاتا ہے کہ داخلی اور خارجی پالیسیوں کے نفاذ میں اس نوع کے گروہوں کی ہمدردیاں حاصل کرنے کی پاداش میں ان پے دست شفقت رکھا جاتا ہے آج کی دنیا میں اس فعل کو پسندیدہ نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا۔ کیا ہمارے پالیسی ساز اور الیکشن کمیشن اس صورت حال سے آگاہ نہیں؟۔


ای پیپر