یادیں اور یوسفی صاحب !
14 جولائی 2018 2018-07-14

منفرد کالم نگار برادر یوسف عالمگیرین پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ صحافت میں میرے کلاس فیلو تھے۔ مجھ سے میرے ” پڑھ لکھے“ ہونے کا کوئی ثبوت مانگے میں عرض کرتا ہوں یوسف عالمگیرین سے پوچھ لیں۔ مجھے اِس موقع پر میرا مرحوم دوست دلدار پرویز بھٹی یاد آرہا ہے۔ وہ اکثر کہتا تھا کوئی ” بٹ “ زیادہ سے زیادہ کتنا پڑھا لکھا ہوسکتا ہے“.... سیکھنے سیکھانے کے ابتدائی سفر میں یوسف عالمگیرین نے مجھے بہت سنبھالا دیا۔ وہ آج کل پاک فوج کے ترجمان رسالے ” ہلال “ کے ایڈیٹر ہیں۔ ہم اُن کے بارے میں کہہ سکتے ہیں وہ ” ہلال “ کی کمائی کھاتے ہیں، کل اُنہوں نے ملک کے ممتاز ترین مزاح نگار مشتاق احمد یوسفی جِن کا کچھ روز پہلے انتقال ہو گیا کے حوالے سے بڑا خوبصورت کالم لکھ کر مجھے اچھا خاصا شرمندہ اِس لحاظ سے کر دیا کہ اپنے اِس کالم میں انہوں نے میرے اور یوسفی صاحب کے قلبی تعلقات کا حوالہ دیا اور میں سوچ رہا تھا اصل وہ مجھے یہ پیغام دے رہے ہیں کہ مرحوم یوسفی صاحب آپ سے اتنی محبت کرتے تھے اور آپ کو اُن کی وفات پر دو لفظ اُن کے بارے میں لکھنے کی توفیق نہیں ہوئی۔ بلکہ سچ تو یہ ہے مجھے اُن کی زندگی میں بھی اُن کے بارے میں لکھنے کی توفیق نہیں ہوئی۔ ہم اُن کے حق کے مطابق اُن کے بارے میں شاید لکھ بھی نہیں سکتے۔ جتنی خدمت اُردو ادب کی اُنہوں نے کی کبھی کبھی مجھے یوں محسوس ہوتا تھا وہ اُردو ادب کو اپنا ” والدین “ سمجھتے ہیں۔ خصوصاً مزاح نگاری کے حوالے سے جو مقام لوگوں کے دِلوں میں اُنہوں نے بتایا اُس پر ہم اُنہیں جتنا خراج تحسین پیش کریں کم ہے۔ ہماری بدقسمتی ہے ایسے خوبصورت لوگوں سے ہم محروم ہوتے جا رہے ہیں اور اُس سے بھی بڑی بدقسمتی یہ ہے ہم اِس یقین میں مبتلا ہیں یہ دھرتی آئندہ کِسی مشتاق احمد یوسفی کو جنم نہیں دے سکے گی۔ ہمارے اُردو ادب میں ” مزاح نگاری “ کی جگہ اب پھکڑ بازی اور فحش لطائف نے لے لی ہے۔ اِسی کو ” مزاح “ سمجھا جاتا ہے اور سراہا بھی جاتا ہے، جو ” مزاح “ یوسفی صاحب لکھتے تھے اُسے سمجھنے کے لئے جن ” دماغوں “ کی ضرورت ہوتی تھی وہ اب نہیں رہے۔ یوسفی صاحب اُداس دلوں کی دھڑکن تھے۔ اپنی تحریروں کے ذریعے جتنی مسکراہٹیں دنیا میں اُنہوں نے تقسیم کیں اُس کی بنیاد پر مجھے یقین ہے جنت میں وہ اعلیٰ ترین مقام پر فائز ہوں گے اور ہمارے دِلوں میں اب جنت کی تمنا ” حوروں “ کے علاوہ اِس لئے بھی پیدا ہوا کرے گی کہ وہاں یوسفی صاحب ہوں گے۔ اور جہاں یوسفی صاحب ہوں وہاں کوئی اور نہ بھی ہو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ایسے لوگ دنیا سے چلے جاتے ہیں دِلوں سے نہیں جاتے.... اِس گھٹن زدہ معاشرے میں اُن کا دم بڑی غنیمت تھا۔ وہ صِرف بہت بڑے مزاج نگار ہی نہیں بہت بڑے انسان بھی تھے۔ یہ میں کوئی سُنی سنائی بات نہیں کر ۔ اب مجھے صحیح طرح یاد نہیں۔ مگر یہ شاید 1994 کی داستان ہے جب میں ” ادارہ ہم سخن ساتھی “ لاہور کا صدر تھا۔ یہ علمی ادبی و ثقافتی ادارہ ہم نے گورنمنٹ کالج لاہور کے زمانہ طالب علمی میں نامور ادیبہ بشریٰ رحمان کی سرپرستی میں قائم کیا تھا۔ اُن کا بڑا صاحبزادہ بشر عبدالرحمان گورنمنٹ کالج لاہور میں ہمارے ساتھ تھا۔ ہم اُس کے ساتھ اکثر اُس کے گھر جاتے تھے۔ جو لاہور کے ایک خوبصورت علاقے گارڈن ٹاﺅن کے احمد پارک میں تھا۔ بشریٰ رحمان صاحبہ نے ” وطن دوست “ کے نام سے ایک اشاعتی ادارہ بھی قائم کیا ہوا تھا جو صِرف اُنہی کی کتابیں چھاپتا تھا۔ میں زرہ مذاق اُن سے کہتا ” آپ کو اپنی کتابیں چھاپنے کے لئے اپنا ادارہ قائم کرنا پڑا“ .... ” وطن دوست “ کے نام سے وہ ایک ادبی رسالہ بھی نکالتی تھیں۔ اُن کے گھر کے باہر اُن کے نام کے بجائے ” وطن دوست “ کی پلیٹ لگی تھی۔ یہ اُن کی وطن کے ساتھ محبت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ گویا ہم یہ کہہ سکتے ہیں ”وطن دوست “ ایک ادبی ادارے کا نہیں باقاعدہ ایک تحریک کا نام تھا۔ یہ تحریک ممکن ہے اب بھی جاری و ساری ہو، مگر میری محرومی اور بدقسمتی یہ ہے اُن کے ساتھ رابطہ اب نہ ہونے کے برابر رہ گیا ہے، زمانہ طالب علمی میں ، میں جب اُن کے گھر جاتا اُن کے گھر کے باہر ” وطن دوست “ لکھا دیکھ کر مجھے بڑی خوشی ہوتی۔ ورنہ ہمارے ہاں اکثر لوگ اپنے گھروں کے نام بھی ویسے ہی عجیب و غریب رکھ لیتے ہیں جیسے اپنے بچوں کے نام بڑے عجیب و غریب رکھ لیتے ہیں۔ ابھی پچھلے دنوں ہمارے ایک جاننے والے کے گھر بیٹا ہوا اُس کا نام انہوں نے ” طمانچہ“ رکھا۔ میں نے اِس کی وجہ پوچھی وہ بولے ” اصل میں میرے کچھ دوست سمجھتے تھے میں ” صاحب اولاد“ ہونے کے قابل نہیں رہا۔ میرا یہ بیٹا میرے اُن دوستوں کے منہ پر طمانچہ ہے“۔ میرے خیال مین محترمہ بشریٰ رحمان اب بھی شاید اُسی گھر میں رہتی ہیں۔ اگلے روز ٹوئٹر میں مجھے کسی نے بتایا کچھ روز پہلے اُن کے میاں ، میاں عبدالرحمان انتقال فرما گئے ہیں۔ وہ بھی بڑے کمال کے انسان تھے۔ بڑے رکھ رکھاﺅ والے ، بڑے رعب دبدبے والے اور بہت ہی مہمان نواز تھے۔ بشریٰ رحمان کا ادب میں بڑا مقام ہے اور اُس سے بھی بڑا مقام اُن کا یہ وہ میاں عبدالرحمان کی بیگم تھیں۔ وہ اپنے شوہر کو بہت عزت دیتی تھیں جو ہر بیوی کو دینی چاہئے۔ مگر آج کل کچھ لوگوں کی بیویاں اپنی کم پرائی زیادہ ہوتی ہیں۔ شوہروں کے معاملات بھی کچھ ایسے ہی ہیں۔ ایک صاحب دفتر جانے لگے۔ گھر کے دروازے سے نکلتے ہوئے اُن کی بیوی نے بڑی محبت سے اُن کی شرٹ کا بٹن پکڑ لیا اور اُن سے کہنے لگی ” آفس جا رہے ہیں؟“۔ صاحب نے زور سے اُس کا ہاتھ جھٹکا اور بولے” پرے کرو اپنا ہاتھ ۔۔ صبح صبح نحوستی ڈال رہی ہو“۔ اُن کی بات سُن کر بیگم کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ وہ اُن سے کہنے لگی ” آپ ہر وقت میرے ساتھ سڑے سڑے رہتے ہیں۔ وہ سامنے والے حاجی صاحب کو دیکھیں وہ جب دفتر جانے لگتے ہیں اپنی بیگم سے کتنا پیار کرتے ہیں۔ آپ کا جی نہیں چاہتا ؟۔ صاحب بولے ” جی تو بہت چاہتا ہے پر حاجی صاحب سے ڈرلگتا ہے“۔۔ کہنے کا مطلب یہ ہے ” میاں بیوی “ کے رشتے میں جو ادب اور احترام ہوتا تھا وہ اب بہت کم ہو کر رہ گیا ہے۔ اکثر لڑکیاں اپنے خاوند کو اپنا ”بوائے فرنڈ“ سمجھتی ہیں۔ اور اکثر لڑکے اپنی ”بیویوں “ کو اپنی گرل فرینڈ“ سمجھتے ہیں۔ ایک لڑکی نے اپنے بوائے فرینڈ سے کہا ” دس بارہ سال بیت گئے ہم دونوں کو پیار کرتے ہوئے اب شادی نہ کر لیں؟“ بوائے فرینڈ بولا ” تم پیار ختم کرنا چاہتی ہو؟“۔ میرے خیال میں وہ انسان دنیا کا خوش قسمت ترین انسان ہے جسے اُس کی بیوی ساتھ عزت بھی دے۔۔ میں بشریٰ رحمان اور اُن کے مرحوم شوہر میاں عبدالرحمان کو یاد کر رہا ہوں تو یہ بھی بتاتا چلوں محترمہ بشریٰ رحمان جتنی بتاتونی ہیں یا ایک زمانے میں جو جتنی باتونی ہوتی تھیں اُن کے شوہر میاں عبدالرحمان اتنے کم گو تھے۔ میں نے ایک بارا زرہِ مذاق بشریٰ رحمان صاحبہ سے کہا ” لگتا ہے آپ کے میاں صاحب نے اپنی زبان بھی آپ کے منہ میں ڈال دی ہے “۔ میرے اس جملے پراُنہوں نے بہت انجوائے کیا۔ کہنے لگیں ” تم بہت مزاحیہ ہو“۔ عرض کیا ” ہاں تھوڑا بہت یوسفی صاحب کو پڑھتا ہوں‘۔۔ ( جاری ہے )


ای پیپر