Shah Mehmood Qureshi Big Statement about Kashmir
14 جنوری 2021 (22:43) 2021-01-14

اسلام آباد:وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی  نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کی سنگین صورتحال پر  اب  دنیا کی  خاموشی ٹوٹ رہی ہے،برطانوی پارلیمنٹ، جسے پارلیمان کی ماں کہا جاتا ہے، اس پارلیمنٹ میں مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی مظالم کے حوالے سے بحث کا آغاز ہو چکا ہے،دس سے زائد برطانوی پارلیمنٹیرینز، جن میں وزرا بھی شامل ہیں انہوں نے اس حوالے سے اظہار خیال کیا ہے، مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری بھارتی بربریت کے حوالے سے  جاری کردہ  بیان میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ میں خدا کا شکر بجا لاتا ہوں کہ دنیا جو مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور مظالم پر مصلحتا خاموشی اختیار کئے ہوئے تھی اب وہ خاموشی ٹوٹ رہی ہے۔

شاہ محمودقریشی کا کہنا تھا ہم شروع سے کہتے آ رہے ہیں کہ ہندوستان، عالمی دنیا کو غلط تاثر دینے کی کوشش کر رہا ہے کہ یہ ان کا اندرونی مسئلہ ہے جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے،مسئلہ کشمیر عالمی سطح پر تسلیم شدہ متنازعہ مسئلہ ہے جو عرصہ دراز سے اقوام متحدہ سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر ہے، دس برطانوی اراکین پارلیمنٹ کہہ رہے ہیں کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں کالے قوانین کا سہارا لے کر بھارتی قابض افواج نے بنیادی حقوق کو سلب کر رکھا ہے ،یسین ملک، آسیہ اندارابی جسی بہت سی شخصیات ایسی ہیں جنہیں بلاجواز قید میں رکھا گیا ہے ،نہتے کشمیری نوجوانوں کو اٹھا لیا جاتا ہے اور انہیں سال ہا سال تک محصور رکھا جاتا ہے اور ان کی کوئی شنوائی نہیں ہوتی ۔

انہوں نے کہا یہ ساری وہ باتیں ہیں جو ہم 5اگست 2019کے بھارتی یکطرفہ اقدامات کے بعد ہم تمام عالمی فورمز پر اٹھاتے چلے آ رہے ہیں،آج دنیا ہماری تشویش سے اتفاق کر رہی ہے  یہ پاکستان کی سفارتی محاذ پر ایک بڑی کامیابی ہے،چند روز قبل یورپ کی ڈس انفولیب نے اپنی حالیہ رپورٹ میں بھارت کے عزائم کو بے نقاب کیا ہے اور بتایا ہے کہ کس طرح بھارت جعلی این جی اوز اور فرضی ویب سائٹس کا سہارا لیتے ہوئے عالمی سطح پر پاکستان کی ساکھ کو نقصان پہنچاتا چلا آ رہا ہے۔

 شاہ محمود قریشی نے کہا کہ 20جنوری کو امریکہ میں بائیڈن انتظامیہ منصب سمبھالنے جا رہی ہے ڈیموکریٹس انسانی حقوق کے تحفظ کے داعی ہیں ،مقبوضہ جموں و کشمیر کے لاکھوں مظلوم توقع کرتے ہیں کہ ان پر ڈھائے جانے والے مظالم کے خلاف امریکہ، برطانیہ، یورپ اور دنیا بھر کی جمہوری طاقتوں کے پلیٹ فارمز سے آواز اٹھائی جائے گی۔


ای پیپر