نیب کو سرے سے تسلیم ہی نہیں کرتا اور کبھی ان کے سامنے پیش نہیں ہونگا , مولانا فضل الرحمان
کیپشن:   نیب کو سرے سے تسلیم ہی نہیں کرتا، مولانا فضل الرحمان
14 جنوری 2021 (23:15) 2021-01-14

لورالائی:جمعیت علماء اسلام و پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ملک میں آئین کی بالادستی چاہتے ہیں ، آئین قانون اور پارلیمان کی بالادستی قائم نہیں کی گئی تو ملک میں جمہوریت ایک مذاق بن سکتی ہے۔ نیب کو سرے سے ہم تسلیم ہی نہیں کرتے ،نیب کے سامنے کبھی پیش نہیں ہونگا ، پی ڈی ایم میں کوئی اختلاف نہیں ہم سب ایک پیج پر متحد ہیں. 

پی ڈی ایم کے سربراہ جے یو آئی کے مرکزی امیر مولانا فضل الرحمان نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے  کہا کہ ہم ملک میں آئین کی بالادستی چاہتے ہیں ،جو قوتیں آئین کو اہمیت نہیں دیتے اسکی وجہ سے آئین پر عمل نہیں ہو رہا جسکے باعث ملک میں سیاسی انتشار نے جنم لیا ۔انہوں نے کہا کہ ملک میں آئین قانون اور پارلیمان کی بالادستی قائم نہیں کی گئی تو ملک میں جمہوریت ایک مذاق بن سکتی ہے، عمران خان فارن فنڈنگ کیس میں الیکشن کمیشن کے طلب کرنے کے باجود کیوں پیش نہیں ہو رہا جس لگتا ہے کہ دال میں ضرور کچھ کالا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آصف علی زرداری اور مسلم لیگ ن کے قائد میاں نواز شریف پر کرپشن کا الزام لگانے والے وزیر اعظم کی پوری کابینہ چاروں سے بھری پڑی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیب کو سرے سے ہم تسلیم ہی نہیں کرتے ان کے ارسال کردہ تمام نوٹس کی کوئی اہمیت ہی نہیں ہے میں نیب کے سامنے کبھی پیش نہیں ہونگا ۔ نیب جعلی حکومت کا ادارہ ہے جو اصل حکومتی وزراء کو چھوٹ دیکر انھیں بیرون ملک فرار کرادیتا ہے جبکہ ملک کے باعزت سیاسی رہنماوں کی پگڑیاں  اچھالنے اور انھیں بدنام کرنے پر تلا ہوا ہے ۔اب ہم وزیر اعظم اور پوری حکومت کا  عنقریب احتساب کرینگے ۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کے خلاف اپنی تحریک کو مزید سخت کرنے کے فیصلے کا وقت آگیا ہے انیس جنوری کو الیکشن کمیشن اسلام آباد کے باہر پرامن ریلی نکالیں گے اور الیکشن 2018    میں دھاندلی کے خلاف اپنا احتجاج ریکارڈ کرائے گے ۔انہوں نے کہا کہ اکتیس جنوری تک وزیر اعظم مستعفی نہ ہوئے تو پی ڈی ایم اپنی حکمت عملی کا اعلان کر دے گی ۔

انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم میں کوئی اختلاف نہیں ہم سب ایک پیج پر متحد ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جعلی اور ناجائز حکومت کو جلد رخصت کر دینگے ملک میں آمریت کی وجہ سے جمہوریت کو کمزور کر دیا گیا ہے۔   انہوں نے کہا کہ دیامر اور بھاشا  ڈیم کے لیئے قوم سے وصول کردہ سو ارب روپے چندے کی رقم کا بھی وزیر اعظم اور سابقہ چیف جسٹس کو حساب دینا ہوگا ۔ انہوں نے کہا کہ احتساب سے کھبی نہیں بھاگے لیکن یکطرفہ احتساب کو کسی صورت تسلیم نہیں کرینگے۔


ای پیپر