nadeem afzal chan,resign,firdos ashiq awan,pm imran khan
14 جنوری 2021 (13:12) 2021-01-14

لاہور : ندیم افضل چن ایک عوامی نمائندے ہوتے ہوئے ٗ عوام کی مشکلات کی ترجمانی کرتے رہے ہیں۔ لیکن وزیر اعظم عمران خان اپنے تمام وزرا سے یہ اپیل کرتے رہے ہیں کہ اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے ادا کریں اور جو اختلافات ہیں جو اندرونی میٹنگ میں ڈسکس کریں۔ اپنے آزادی اظہار رائے کو پارٹی کیخلاف استعمال نہ کریں۔ میں چاہوں گی کہ ندیم افضل چن اپنے استعفے کی وجوہات خود بیان کریں۔ 

حکومتی اقدامات ٗ عوام کی فلاح کے اقدامات اور پاکستان کے مفاد میں اٹھائے تمام اقدامات حکومتی ترجمان نے عوام تک پہنچانے ہیںاور یہ اس کی آئینی اور قانونی ذمہ داری میں شامل ہے اور میں نے بھی وہی ذمہ داریاں ادا کی ہیں۔میرے بعد والے بھی وہ ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں لیکن وزیر اعظم اپنی جماعت میں جس نظم و ضبط کو لانا چاہتے ہیں ٗ وزیر اعظم نے اس کی نشاندہی کی ہے۔ وزیر اعظم عوام کا دکھ اور درد اپنے دل میں لے کر حقیقی معنوں میں عوام کے دکھوں کا مداوا کرنا چاہتے ہیں۔

وزیر اعظم نے کیبنٹ میٹنگ کے اندر جو گفتگو کی اس کا محور و مرکز یہ تھا کہ کسی بھی جماعت کے ممبر کو آزادی اظہار رائے کا جمہوری حق حاصل ہے ۔ لیکن جب جماعت فیصلہ کر لے اور لیڈر شپ ان کا موقف سننے کے بعد اکثریتی رائے سے ایک فیصلہ کر لے تو پھر تمام ممبران پر اس کی پاسداری لازم و ملزوم ہے۔ پھر کوئی ذاتی رائے کی آڑ میں حکومتی پالیسیوں پر تنقید کرے تو پھر اسے کیبنٹ میں نہیں بیٹھنا چاہیے اور اخلاقی طور پر مستعفی ہو  جانا  چاہیے۔ کیبنٹ کے فیصلوں کو اگر آپ باہر جاکر تنقید کا نشانہ بنائیں اوراپروول اندر ہو جائے تو یہ نامناسب رویہ ہے اور اس کی نفی ہونی چاہیے۔

اپوزیشن کا ماضی داغدار ہے اور اسی لئے جب حکومت اپنی پرفارمنس بتاتی ہے تو اس کے ساتھ اپوزیشن کی کارستانیاں دہرانا بھی ہماری ذمہ داریوں میں شامل ہے۔ کوئی بھی قانون سے اوپر نہیں ٗ سب کو اوپر میں رہ کر کام کرنا ہے اور وزیر اعظم کے کھینچے دائرے میں رہ کر اس کو اجاگر کرنا ہے۔عوام کو مہنگائی سے نجات دلانے کیلئے وزیر اعظم پرعزم ہیں۔


ای پیپر