’’خدا کرے کہ قیامت ہو اور تو آئے‘‘
14 جنوری 2021 (12:20) 2021-01-14

خبر یہ نہیں کہ انڈین سپریم کورٹ نے کئی ماہ سے جاری کسانوں کے احتجاج کے بعد نئے قوانین کو معطل کرتے ہوئے سٹے آرڈر جاری کر دیا ہے اور نہ ہی یہ خبر ہے کہ صدر جوبائیڈن کے حلف اٹھانے کے موقع پر امریکہ میں وسیع پیمانے پر ٹرمپ کے حامیوں کے دنگے فساد کا شدید خطرہ ہے بلکہ اصل خبر یہ ہے ایک بار پھر پاکستان میں چینی اور آٹے کا بحران پہلے سے زیادہ شدت کے ساتھ آنے والا ہے جس کی وجوہات ہماری سمجھ سے باہر ہیں کیونکہ حکومت کہہ رہی ہے کہ اس کی وجہ سے ملک میں وسیع پیمانے پر ذخیرہ اندوزی ہے۔ اگر یہ بات صحیح مان لی جائے تو رٹ آف سٹیٹ یا ریاست کی عمل داری پر بہت بڑا سوالیہ نشان اٹھتا ہے۔ اس سے بھی بڑی خبر یہ ہے کہ ایک بین الاقوامی سروے کے مطابق براعظم ایشیاء میں افراط زر کی شرح کے کا بین الاقوامی قیمتوں سے کوئی تعلق نہیں اگر ایسا ہوتا تو بنگلہ دیش انڈیا سری لنکا سب مہنگائی کی زد میں آجاتے مگر وہاں زندگی معمول کے مطابق رواں دواں ہے۔ 

وزیراعظم عمران خان کی کابینہ کی میٹنگز کا ریکارڈ اٹھا کر دیکھ لیں ہر میٹنگ کے ایجنڈے میں مہنگائی پر قابو پانے پر بطور خاص زور دیا جاتا ہے اور یہ اگلی میٹنگ پر پتہ چلتا ہے کہ مہنگائی پچھلی میٹنگ سے زیادہ بڑھ چکی ہے۔ وزراء اپنے اپنے دائرہ کار میں بیورو کریسی کو کنٹرول کرنے میں ناکام اور بے بس نظر آتے ہیں۔ شہری حکومتیں ناکامی کا منظر پیش کرتی ہیں مگر حکومت اپنے مشیران کی فوج کے ذریعے ملک میں میڈیا اور چینلز پر کنٹرول حاصل کر کے سب اچھا ہے کی گردان الاپ رہے ہیں گورننس میں بہتری کی بجائے حکمت عملی یہ ہے کہ پراپیگنڈا کی رفتار بڑھا دی جائے اور یہی ہو رہا ہے اسی اثناء میں بجلی کی فی یونٹ قیمتوں میں ایک دفعہ پھر اضافہ کر دیا گیا ہے۔ 

پی ڈی ایم کی لانچ کردہ تحریک پر تھکاوٹ کے آثار نظر آتے ہیں جس سے حکومت ایک دفعہ پھر شیر ہو گئی ہے حکومت کو پتہ ہے کہ پی ڈی ایم کا لہجہ صرف رحم کی اپیل جیسا ہے اور اس طرح کی تحریکیں کامیاب نہیں ہوا کرتیں۔ حکومت احتجاجی تحریک کے سامنے گھٹنے ٹیکنے کی پوزیشن میں تب آتی ہے جب اسے یقین ہو جائے کہ اگر اپوزیشن کی بات نہ مانی تو انہیں اقتدار سے الگ ہونا پڑے گا۔ عوامی ردعمل اور پریشر کی طاقت سے حکومت دب جاتی ہے لیکن ابھی تک پی ڈی ایم اس پوزیشن میں نہیں آئی کہ وہ حکومت کے لیے خطرہ بن سکے۔ اسمبلیوں سے استعفیٰ دینے کی باتیں بھی اب دم توڑ رہی ہیں کیونکہ پی ڈی ایم اتحادی سینیٹ الیکشن کا بائیکاٹ کا رسک نہیں لینا چاہتے۔ 

یہ ایک حقیقت ہے کہ پاکستان کو اس وقت ماہرین سیاسیات کی بجائے ماہرین معاشیات کی ضرورت ہے جو ملک کو قرضوں کے پہاڑ سے نجات دلا سکے۔ پاکستان مجموعی قرضے پاکستان کی GDP کا 82 فیصد تھے جب موجودہ حکومت برسر اقتدار آئی تھی۔ اس وقت یہ شرح 106فیصد ہو چکی ہے۔ پتہ 

نہیں اس پر حکومتی مؤقف کیا ہے۔ ٹیکس دینے والوں کی تعداد میں مطلوبہ اضافہ نہیں کیا جا سکا۔ FBR چیئرمین جنہیں چند ماہ بعد اپنے عہدے سے مستعفی ہونا پڑا سید شبر زیدی کہتے ہیں کہ ٹیکس نیٹ میں اضافہ تقریباً ناممکن کام ہے وہ جیسے بڑے آدمی پر ہاتھ ڈالتے تھے تو انہیں کہا جاتا تھا کہ یہ تو ہمارا ڈونر ہے۔ جب شبر زیدی کے لیے کام کرنا ممکن نہ رہا تو انہوںنے خاموشی سے علیحدگی اختیار کر لی۔ 

آج کل حکومت ملک میں سمگل شدہ پٹرول کے بارے میں پراپیگنڈا کر رہی ہے ۔ وزیراطلاعات کا فرمان ہے کہ ملک میں 192پٹرول پمپوں کو سیل کر دیا گیا ہے جبکہ اس دھندے میں ملوث پٹرول اسٹیشن کی تعداد2000 سے زیادہ ہے۔ آپ نے دیکھا ہو گا کہ محلے کی گلی کے کونے پر واقعہ گیس سلنڈر بیچنے والے اس کو غیر قانونی فروخت کیسے کرتے ہیں یہ کام 100 فیصد علاقہ SHOکی ملی بھگت اور منتھلی دینے کی وجہ سے چلتا ہے۔ حیرت کی بات ہے کہ ملک کے 2000 پٹرول پمپ کے بارے میں حکومت ٹی وی پر اعتراف کر رہی ہے کہ یہ سمگلنگ کا پٹرول بیچ رہے ہیں مگر نہ تو انہیں پکڑا جاتا ہے اور نہ ہی انہیں سپلائی کرنے والی خلائی مخلوق کا کوئی سراغ ملتا ہے۔ اس سے ملک کو 180 ارب روپے کا نقصان ہونے کی اطلاعات ہیں یہ اعداد و شمار وزیر اطلاعات کے فراہم کردہ ہیں جس کا مطلب ہے کہ حکومت مجرموں کو پکڑنے کی بجائے کی بجائے نقصانات کا تخمینہ لگانے میں مصروف ہے۔ 

ہماری سیاست میں آپ نے پنڈورا باکس کا نام ضرور سنا ہوگا۔ پینڈورا دراصل زمانہ قدیم کی یونان کی ایک جادوگرنی تھی جس کے پاس ایک ڈبہ یا باکس تھا وہ جب بھی یہ باکس کھولتی تھی تو اس ڈبے سے آفات باہر نکلتیں اور اردگرد کے لوگوں کو مصیبت میں گرفتار کر لیتی اس باکس کی خصوصیت یہ تھی کہ اس میں ہر کسی کے لیے مصیبت کا سامان مہیا ہو جاتا تھا اسی لیے کہتے تھے کہ پینڈورا باکس کو نہ کھولا جائے۔ ایسا ہی ایک پینڈورا باکس حال ہی میں برطانوی عدالت نے کھولا ہے جس میں پاکستان کے تمام سیاسی اداروں کے لیے شرمندگی کا وافر سامان موجود ہے۔ اس سے ہماری مراد برطانوی پرائیویٹ کمپنی Broadsheet ہے جس نے حکومت پاکستان کے خلاف مقدمہ جیت لیا ہے بات ذرا لمبی ہے۔ جنرل پرویز مشرف نے برسراقتدار آنے کے بعد 2000ء میں ایک Stolen Asset Recovery کمپنی کے ساتھ معاہدہ کیا کہ وہ نواز شریف اور دیگر سیاستدانوں کے خلاف بیرون ملک بنائی گئی خفیہ جائیدادوں کا سراغ لگائے۔ اس کمپنی نے 3 سال تک اس پراجیکٹ پر کام کیا جس میں پاکستان کا قومی احتساب بیورو (NAB) اس کے ساتھ کو آرڈینشن کر رہا تھا۔ 2003ء میں معاہدہ ختم ہو گیا مگر براڈ شیٹ کو فیس یا معاوضہ نہ دیا گیا۔ کمپنی کے چیئرمین کو وے موسوی کا کہنا ہے کہ جب تک جنرل امجد نیب کے چیئرمین تھے یہ ادارہ واقعی لوٹی ہوئی دولت کو پاکستان لانے میں سنجیدہ تھا جب جنرل امجد سبکدوش ہو گئے تو بعد میں آنے والے چیئرمینوں جنرل خالد مقبول اور جنرل منیر حفیظ نے نیب کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا شروع کر دیا۔ چیئرمین براڈ شیٹ موسوی کا کہنا ہے کہ انہوں نے 200 افراد کی فہرست تیار کی تھی اور انہیں نیب کی طرف سے آئے روز کہا جاتا تھا کہ اس میں سے فلاں آدمی کا نام نکال دیں۔ موسوی کا کہنا ہے کہ ہم نے نواز شریف کو بری نہیں کیا البتہ ایون فیلڈ فلیٹس کے تحقیقات سے پہلے ہی حکومت نے ہمارا معاہدہ ختم کردیا اور فیس بھی نہیں دی۔ 

2016ء میں کمپنی نے برطانیہ میں اپنی فیس وصول کرنے کے لیے پاکستان پر مقدمہ دائر کر دیا عدالت نے فیصلہ کیا کہ پاکستان 20 ملین پاؤنڈ کمپنی کو ادا کرے ہماری موجودہ حکومت نے فیصلے کے خلاف اپیل کی تو لینے کے دینے پڑ گئے۔عدالت نے 20 ملین کے علاوہ پاکستان کو 13 ملین جرمانہ ادا کر دیا جس سے مجموعی رقم 28 ملین پاؤنڈ یعنی تقریباً 700 کروڑ روپے نکال کر براڈ شیٹ کو دیئے جائیں۔ اطلاعات ہیں کہ اس پر عمل درآمد ہو چکا ہے ۔ یہ ہماری نیب کی پرفارمنس کی ایک ہلکی سی جھلک ہے۔نیب کی ریکوری پر کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے: 

ہم انتظار کریں گے تیرا قیامت تک

خدا کرے کہ قیامت ہو اور تو آئے


ای پیپر