حکومت اور پی ڈی ایم خواب یا سراب…
14 جنوری 2021 (12:19) 2021-01-14

وطن عزیز میں پی ڈی ایم عوام کو کوئی امید دلانے کے بجائے اپنے گنجل سلجھانے میں لگی ہوئی ہے دوسری طرف وزیر اعظم بھی اپنی کابینہ کی کارکردگی سے نالاں ہیں اور ڈھائی سال بعد بھی مسائل کا حل تو ایک طرف اصلاحات نہ ہونے پر برہم ہیں۔ عوام کو دکھائے گئے خواب سراب بنتے جا رہے ہیں۔ ہر طرف مایوسی کی دھند چھائی ہوئی ہے جو کسی طور بھی چھٹنے کا نام نہیں لے رہی۔

پی ڈی ایم اور حکومت اپنی اپنی انا کے محاذوں پر لڑ رہے ہیں۔ ایک طرف پی ڈی ایم کی توپوں کا رخ بدستور اسٹیبلشمنٹ کی طرف ہے اور اپوزیشن قیادت براہ راست فوج کو نشانہ بنا رہی ہے جو کہ قطعاً مناسب رویہ نہیں۔ گو کہ ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار نے اپنی پریس کانفرنس میں وضاحت بھی کر دی کہ فوج کا سیاست سے کوئی لینا دینا نہیں۔ لیکن اپوزیشن نے 2018 کے انتخابات کے حوالے سے فوج کے بارے میں جو گرہ باندھ لی ہے اسے کھولنے کو تیار نہیں۔ لیکن دیکھا گیا ہے کہ اس طرح کی ہاتھ سے لگائی گرہیں بعض اوقات سیاستدانوں کو دانتوں سے کھولنا پڑتی ہیں اور وہ پھر بھی کھل نہیں پاتیں اور ہمارا ماضی اس حوالے سے مستند گواہ ہے۔ موجودہ حالات کے پیش نظر اگر یہ کہا جائے کہ اسٹیبلشمنٹ اور اپوزیشن آمنے سامنے آ گئی ہیں تو بے جا نہ ہو گا۔

فوجی ترجمان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ پی ڈی ایم کی راولپنڈی (جی ایچ کیو) آنے کی کوئی وجہ سامنے نہیں آتی۔ لیکن اگر وہ آ بھی گئے تو انہیں چائے پانی پلائیں گے۔ اس پریس کانفرنس کی ٹائمنگ بھی پی ڈی ایم کے جلسے سے قبل کی تھی اور اس میں جو اہم پیغام دیا گیا تھا وہ یہ تھا کہ کسی سے بیک ڈور رابطہ نہیں ہے۔ اس پیغام کی ذرائع یہ توضیح پیش کرتے ہیں کہ اپوزیشن اس جلسے میں بیک ڈور رابطوں کے حوالے سے کچھ انکشافات کرنے جا رہی تھی جسے ڈیفیوز کرنے کے لیے بیک ڈور رابطوں والی بات کی گئی۔

لیکن مولانا فضل الرحمان کا فوجی ترجمان کے چائے پانی کے بیان کا جواب طنز سے زیادہ معنی خیز تھا ان کا کہنا تھا کہ ہمیں چائے پانی پر ٹرخا رہے ہیں اور خود پاپا جونز کے پیزے کھا رہے ہیں۔ اس ایک فقرے سے لگتا ہے کہ اپوزیشن اور اسٹیبلشمنٹ میں مثبت روابط کی جو خبریں آ رہی تھیں وہ دم توڑ رہی ہیں۔ مولانا نے اسی پر بس نہ کیا بلکہ یہاں تک کہہ دیا کہ ملک میں غیر اعلانیہ مارشل لا ہے قوم اب اسلام آباد کے بجائے راولپنڈی کا رخ کرے اور یہ کہ جی ایچ کیو کے سامنے احتجاج ان کا حق ہے۔ یہ صورتحال تشویش ناک ہے اپوزیشن کا حکومت وقت کے خلاف احتجاج تو سمجھ آتا ہے لیکن براہ راست فوج سے ٹکراؤ کی روش ریاست کے لئے مناسب نہیں اور نہ ماضی میں اس کی کوئی مثال ملتی ہے۔

حکومتی پارٹی کے کچھ کرتا دھرتا اس پر جشن منا رہے تھے کہ اپوزیشن اور اسٹیبلشمنٹ کے آمنے سامنے آنے سے عمران خان کی حکومت کو کافی ریلیف ملے گا لیکن انہیں حالات کی سنگینی کا ادراک نہیں کہ یہ ٹکراؤ ملک کو کس طرف لے جائے گا۔

کسی بھی سیاستدان نے فوجی ترجمان کے اس بیان پر یقین کرنے سے زیادہ اسے سنجیدہ نہیں لیا کہ فوج کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ پھر ایوب 

خان سے ضیا الحق اور مشرف تک جو کچھ ہوتا رہا کیا سب خواب تھا، سراب تھا؟

سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے تو سوال داغ دیا کہ اگر فوجی ترجمان کا بیان ٹھیک ہے تو جو اب تک ہوتا رہا ہے وہ کیا تھا؟ الیکشن 2018 کس نے چرایا اور رزلٹ ٹرانسمیشن سسٹم (آر ٹی ایس) کیسے بیٹھا؟ ان سوالات کا جواب تو الیکشن کمیشن نے بھی نہ دیا جس کی وجہ سے غلط فہمیوں کی خلیج گہری ہوتی چلی گئی۔ عباسی صاحب کی لندن یاترا کا بہت چرچا ہے لیکن انہوں نے نواز شریف سے کرونا کی وجہ سے ملاقاتوں کی تردید کر دی ہے۔ پھر نواز شریف صاحب کی انہی دنوں پبلک میں میڈیا ٹاک کیا تھیں۔ کیا وہاں کرونا کا خطرہ نہ تھا؟ البتہ مسلم لیگی حلقے ان ملاقاتوں کو ’’ورچوئل ملاقاتوں‘‘ کا چولا پہنا رہے ہیں۔ شنید یہی ہے کہ نواز شریف نے اسٹیبلشمنٹ کی شرائط پر بات چیت کو رد کر دیا ہے جن میں کچھ نئی آئینی ترامیم اور کچھ میں رد و بدل شامل تھا اور کچھ رعایتیں بھی اس پیکیج کا حصہ تھیں۔ لگتا یہی ہے کہ عباسی صاحب کی لندن یاترا خشک ثابت ہوئی ہے۔ یہ سطریں چھپنے تک شاہد خاقان عباسی وطن پہنچ چکے ہوں گے۔ مریم نواز سے ان کی ایک طویل نشست بھی متوقع ہے اور شہباز شریف سے بھی ان کی ملاقات ممکن ہے۔ ان ملاقاتوں کے بعد مسلم لیگ نواز کی حتمی پالیسی سامنے آئے گی۔

دوسری طرف پی ڈی ایم جو ایک پیج پر ہونے کے بجائے نوٹ بک بن چکی ہے جس کے صفحے دن بہ دن کھلتے چلے جا رہے ہیں اور ہر صفحے پر ہر پارٹی کا اپنا بیانیہ ہے۔ مولانا فضل الرحمان صاحب جو ڈفلی بجا رہے پپپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن اس سے ہٹ کر راگ الاپ رہی ہیں۔ پیپلز پارٹی کے بعد مسلم لیگ ن نے بھی دھرنے کا رخ راولپنڈی (جی ایچ کیو) سے اسلام آباد کی طرف موڑ دیا ہے جبکہ مولانا فضل الرحمان اب تک راولپنڈی کو منزل بنائے ہوئے ہیں۔ استعفے تو خواب ہی بن گئے ہیں اسلام آباد دھرنا بھی سراب لگتا ہے۔

حکومتی ایوانوں میں بھی راوی چین نہیں لکھ رہا۔ وزیراعظم اپنی کابینہ کی مایوس کن کارکردگی پر برہم ہیں اور وزرا کو وارننگ دی ہے کہ ڈھائی سال گزرنے کے باوجود اداروں اور گورننس میں اصلاحات نہ لانا ہرگز قابل قبول نہیں۔ کاش یہ خیال وزیر اعظم کو پہلی سہ ماہی یا ششماہی میں آ جاتا تو اتنی بربادی نہ ہوتی۔ ساتھ ہی وزیراعظم نے یہ بھی کہا کہ ڈھائی سال گزر چکے وزیروں کو عوامی مسائل حل کرنے کیلیے محنت کی ضرورت ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ میڈیا ان مسائل کی صحیح نشاندہی کر رہا تھا۔ وزیر اعظم کی برہمی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ انہوں نے پارٹی پالیسی کی خلاف ورزی کرنے والے وزرا کو گھر بھیجنے کا کہہ دیا ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے کارکردگی اور پارٹی پالیسی کی خلاف ورزی کرنے والے وزراء کو مستعفی ہو جانے کا کھلا پیغام دے دیا ہے وزراء کی کارکردگی کی نشاندہی تو میڈیا بارہا کرتا چلا آ رہا ہے لیکن اسے مثبت تنقید کے بجائے حکومت مخالف رویہ گردانا گیا۔

انہوں نے واضح کیا کہ ان کے فیصلوں کی مخالفت کرنی ہے تو بے شک مستعفی ہو جائیں، اگر روش برقرار رکھی تو خود فیصلہ کروں گا کہ کابینہ میں رکھنا ہے یا نہیں۔ یہ بات وہ عمران خان کر رہا ہے جس کا ماضی میں یہ بیانیہ تھا کہ وزرا حکومتی پالیسیوں پر دماغ، آنکھ و کان بند کر عمل کرتے ہیں اور اپنی سوچ اپنا نکتہ نظر بیان نہیں کرتے۔ جب ان کے وزرا اپنے ضمیر کے مطابق بات کرتے ہیں تو انہیں گھر بھیجنے کی بات کرتے ہیں۔ جب میڈیا اور اپوزیشن اداروں میں اصلاحات کی بات کرتے تو اسے اپنی حکومت کے خلاف گٹھ جوڑ قرار دیتے۔ آج اداروں میں اصلاحات نہ لانے پر خود برہم ہیں۔ اصلاحات سے متعلق مشیر عشرت حسین کی کابینہ کو بریفنگ کے دوران وزیراعظم اداروں میں اصلاحات لانے میں تاخیر پر نالاں تھے۔

سوشل میڈیا پر وزیراعظم عمران خان کا ایک اور متنازع بیان آیا ہے جس میں انہوں نے پاناما پیپرز کے بعد براڈ شیٹ کو بھی اشرافیہ کی بڑے پیمانے پر کرپشن اور منی لانڈرنگ کو بے نقاب کرنے کا کریڈٹ دے دیا ہے۔ جی ہاں وہی براڈ شیٹ جس کو حکومت پاکستان اربوں روپے ہرجانہ دے چکی ہے۔ ذرائع کہتے ہیں براڈ شیٹ کو اس حوالے سے کوئی ٹاسک سونپا جا سکتا ہے۔

جواب آں غزل کے طور پر اپوزیشن نے حکومت کو مشورہ دیا ہے کہ براڈشیٹ کمپنی سے معاہدہ کر کے جنرل عاصم باجوہ کے اثاثوں کو ڈھونڈ کر لائیں۔ خدارا عقل کو ہاتھ ماریں اور ملک کو براڈ شیٹ کے کسی نئے امتحان کی طرف نہ دھکیل دیں۔

قارئین اپنی رائے کا اظہار 03004741474 پر وٹس ایپ، سگنل یا ٹیلیگرام پر دے سکتے ہیں۔


ای پیپر