ای کامرس کا معاشی ترقی میں کردار
14 جنوری 2021 (12:18) 2021-01-14

کمپیوٹر، انٹرنیٹ اور اسمارٹ فونز نے ہماری زندگیوں میں جو  انقلاب برپا کیا ہے ،  دو دہائی قبل ایک عام آدمی کے لیے اس کا تصور بھی ممکن نہیں تھا۔ معیشت، تجارت اور بینکنگ میں جو جدت اور آسانیاں پیدا ہوئی ہیں اس سے ان شعبوں میں ترقی کی رفتار میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوا ہے کہ اس سے معاشی مواقع کثرت سے پیدا ہوئے ہیں اور نوجوان نسل جس کی معاشی سرگرمیوں میں شرکت ہماری معاشی ترقی کی ضمانت ہے، اس نے انفارمیشن ٹیکنالوجی سے بھرپور فائدہ اُٹھانا شروع کردیا ہے۔  جس کی ایک مثال ای کامرس ہے۔ ای کامرس سے نئے کاروباری رجحانات کو جنم دیا ہے۔آج  تجارت کے فروغ کے لیے کاروبار میں ڈیجیٹل بنیادوں پر ترقی کے مواقع پیدا کرنا بھی ہے۔ نوے کی دھائی میں جب ڈاٹ کام سامنے آئی تو اس کے ساتھ ہی ای کامرس نے بھی معاشی ترقی میں اپنا کردار ادا کیا۔ ایک زمانہ تھا کہ انٹرنیٹ پروٹوکول کے ذریعے کاروبارکو محفوظ تصور نہیں کیا جاتا تھا لیکن آج حال یہ ہے کہ انٹرنیٹ کے بغیر معیشت اور تجارت کا پہیہ چلتا ہی نہیں ہے۔ ای کامرس کی بنیاد پر سب سے پہلے  Jeff Bezos نے ایمازون کمپنی کا آغاز کیا تھا جس کے بعد مزید لوگ اس طرف مائل ہوئے اور آج ای کامرس دنیا کی ایک بڑی صنعت شمار کی جاتی ہے۔ جس نے ایک نئی کاروباری دنیا سامنے آئی ہے۔ 

گزشتہ چند سالوں سے پاکستان میں بھی دراز ڈاٹ کام اور زمین ڈاٹ کام جیسے ادارے بہت زیادہ منافع کمانے کے ساتھ ساتھ  روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا کررہے ہیں۔کرونا وبا کے بعد تو آن لائن شاپنگ کے تصور نے مزید وسعت حاصل کی ہے۔پاکستان کے بڑے صنعتی شہر کراچی، فیصل آباد اور سیالکوٹ کے علاوہ اب چھوٹے پیمانے پر بھی آن لائن شاپنگ کی بے شمار ویب سائٹ ایسی ہیں جہاں مختلف مصنوعات دستیاب ہیں۔ لیکن ایک افسوس ناک پہلو جس کا تعلق ای کامرس سے زیادہ ہماری سماجی تربیت کا ہے۔ بے شمار شکایات ایسی بھی سامنے آئی ہیں کہ آن لائن فراہم کی گئی مصنوعات کا معیار ناقص اور غیر معیاری بتایا گیا ہے۔ ای کامرس کے فروغ کے لیے ضروری ہے کہ اس قسم کی شکایات کو سنجیدگی سے لیا جانا چاہیے اور ایک ایسا پلیٹ فارم ہونا چاہیے جہاں ان شکایات کا ازالہ ہوسکے۔  اس قسم کی شکایات صرف مصنوعات کی فروخت کے حوالے سے نہیں ہیں بلکہ یار لوگوں نے تو تعلیم کے نام پر بھی آن لائن کورسز  کے ذریعے لوٹنا شروع کردیا ہے۔ جس کا ذکر راقم نے دو ہفتے قبل اپنے کالم میں کیا تھا۔ 

کرونا وبا کے پھیلائو کے بعد سے ملازمتوں کے مواقع مزید کم ہوگئے ہیں ایسے میں ای کامرس کا پھیلائو روایتی ملازمتوں میں کمی کو پورا کرسکتا ہے۔  پاکستان میں ای کامرس کے حوالے سے جو لوگ سرگرم ہیں ان میں ایک نام ثاقب اظہر کا بھی ہے۔ ثاقب اظہر Enablers  سربراہ ہیں اور ای کامرس پر کتاب Passive Income  کے مصنف بھی ہیں۔ ثاقب اظہر ای کامرس کے آگاہی دینے میں مصروف عمل ہیں ۔ ان کا مقصد ہے کہ نوجوان نسل اپنے کاروبار کو ای کامرس سے منسلک کرکے  غربت اور بے روزگاری کو شکست دے سکیں۔ثاقب اظہر صرف ای کامرس کی آگاہی ہی نہیں دیتے بلکہ ای کامرس کے ذریعے کاروبار کی تربیت بھی دیتے ہیں۔ان کے پاس اس قسم کے منصوبے ہیں کہ عام افراد مطلوبہ مہارت حاصل کرنے کے بعد کس طرح ایما زون کی طرز پر کام کرکے سے ہزاروں ڈالر کما سکتے ہیں۔ 

ثاقب اظہر جنہوں نے چندروز قبل  قبل صدر مملکت عارف علوی سے بھی ملاقات کی ہے۔ جس میں ریاست اور حکومت کی سطح پر ای کامرس کو آگے بڑھانے کے عمل پر تبادلہ خیال ہوا اور صدر نے ان کے ادارے کے ساتھ مل کر ای کامرس کے فروغ پر رضامندی کا اظہار کیا ہے۔ قومی حوالے سے کسی بھی نئے نظریے اور خیال کا پھیلائو اسی صورت میں ممکن ہوسکتا ہے کہ جب حکومتی سطح پر اس کی سرپرستی کی جاتی ہے۔خاص کر معیشت اور ٹیکنالوجی کا پھیلائو اس کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ 

معروف دانشور، تجزیہ نگار سلمان عابد نے اس حوالے سے چند تجاویز پیش کی ہیں۔ ان کہنا ہے کہ سب سے پہلے تو یہ طے کرنا ہوگا کہ ہمیں گلوبل ای کامرس کا حصہ بننا ہے جس کے لیے معاشی ترجیحات میں بھی اسے نمایاں حیثیت دی جانی چاہئے۔اس کے لیے Pay Pal جیسی کمپنیوں کو فعال کرنا ہوگا۔دوسرا یہ کے انٹرنیٹ فور جی کو عام کرنا ہوگا۔تیسرا یہ کہ تعلیمی نصاب میں مینجمنٹ، مارکٹینگ، اشتہارات، سیلز کے ساتھ ساتھ ای کامرس کو بھی بنیاد بنانا ہوگا۔ 

اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ سی پیک ہمارے ملک کی معاشی ترقی کے لیے بے پناہ اہمیت کا حامل ہے۔ اب تک ہمارے ملک میں جاگیردارانہ ذہنیت نے صنعت کا فروغ ہونے دیا نہ تعلیم کا۔توجہ طلب پہلو یہ ہے کہ جاگیرداروں نے زراعت کا فروغ بھی زرعی زمینوں کی نسبت سے نہیں کیا۔ ہمارا دعویٰ ہے کہ پاکستان ایک زرعی ملک ہے لیکن آج ہم دالیں، سبزیاں، گندم اور چینی بھی درآمد کرنے پر مجبور ہیں۔ اس صورتحال کو ختم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ سرمایہ ، ہنر اور محنت کو یکجا کرکے ترقی کے سفر کو اختیار کیا جائے۔ان تینوں کے مابین جس قدرہم آہنگی اور مضبوطی ہوگی اسی طرح ترقی اور خوشحالی کا سفر جلد طے ہوگا اور پاکستان کے عوام خوشحال ہونگے۔


ای پیپر