’’عمران خان، براڈ شیٹ کی بات مان لیں ‘‘
14 جنوری 2021 (12:17) 2021-01-14

امریکہ کے مشہور زمانہ لکھاری، اداکار اور مزاح نگار ول روجرز کا ماننا تھا کہ جب آپ گردش حالات کا شکار ہوں تو حواس باختہ ہو کر ہاتھ پائوں مارنے سے بہتر ہے کہ پہلے صورتحال کو سمجھیں اور پھر ان مسائل سے نبرد آزما ہونے کی تدبیر کریں۔ انہی کے الفاظ میں ’’جب آپ خود کو کسی گڑھے میں پائیں، تو کھودنا چھوڑ دیں‘‘۔

اگر ہم یہ جاننے کی کوشش کریں گے کہ حکومت پاکستان نے نیب پر ہونے والے عالمی کیس میں جو 87 لاکھ ڈالر کا جرمانہ ادا کیا وہ پاکستانی روپوں میں کتنا بنتا ہے؟ تو معلوم ہو گا کہ کیس ہارنے پر نیب کی طرف سے گمنام زمانہ برطانوی جاسوس کمپنی براڈ شیٹ کو 4 ارب 58 کروڑ روپے کی رقم ادا کی گئی ہے۔ 4ارب روپے میں 9صفر استعمال ہوتے ہیں ۔ کسی بھی سمجھدار، پڑھے لکھے معاشرے میں اگر کسی ادارے کو ایسی حزیمت، خفت کا سامنا کرنا پڑتا تو آئینی اداروں میں اس ادارے سے سوال جواب ہوتے، اسے قانون کے کٹہرے میں لایا جاتا اور سوال کیا جاتا کہ آیا ایک غریب ملک کے نااہل ادارے کے طور پر آپ سے کیوں ایسا بلنڈر ہوا لیکن ہوا یہ ہے کہ عوام کو بے وقوف بنانے کیلئے دوبارہ ایک نئے سرے سے وہی ’’سیاستدان چور ہیں‘‘ کا منجن فروخت کیا جانے لگا۔ اس منجن کی عوام میں بہت مانگ ہے۔ پسماندہ معاشروں میں اکثر کامیاب ہونے والے لوگوں سے ناکام لوگ ان کے پیسے کی بنیاد پر نفرت کیا کرتے ہیں اس لئے یہ منجن اس بار بھی بہت بک رہا ہے اور اس کی ریکارڈ سیل کا آغاز اس وقت ہوا جب پاکستان کو 10ہندسوں کا چونا لگانے کے بعد براڈ شیٹ کے سربراہ ایک بار پھر میدان میں آئے اور انہوں نے براہ راست یہ منجن بیچا اور پس پردہ پاکستانی حکومت کو ایک خفیہ پیغام دیا کہ ہمارے ذریعے آپ مزید کچھ عرصہ پاکستانی عوام کی آنکھوں میں ’’سیاستدان چور ہیں‘‘ کا گھٹیا کوالٹی کا سرمہ ڈال کر انہیں کلر بلائنڈ یا نابینا کر سکتے ہیں۔ 

جنرل پرویز مشرف کو پاکستان کا آئین توڑنے کے بعدملک کی بہتری اور احتساب کا بھوت چڑھا تو انہوں نے برطانوی کمپنی براڈ شیٹ سے رابطہ کر لیا۔ یہ ایک گمنام کمپنی تھی۔ اگر آپ انٹرنیٹ پر جائیں تو آپ کو اس کمپنی کی آفیشل ویب سائٹ بھی نہیں ملتی ، اس کمپنی کے سی ای او ’’کیوے موسوی‘‘ کا ایک 

انٹرویو ان دنوں سوشل میڈیا پر وائرل ہے اور مزے کی بات ہے کہ یہ کیوے موسوی براڈ شیٹ کے سی ای او ہونے کے ساتھ ساتھ ایک چھلاوا بھی ہیں جن کا اس سے قبل انٹرنیٹ پر کوئی سراغ ہی نہیں ملتا اور ان کی مشہوری کی واحد وجہ شریف فیملی کیخلاف یہ انٹرویو ہے۔ براڈ شیٹ کا دعویٰ تھا کہ وہ ایسٹس ریکوری فرم ہے۔ اسے شریف فیملی کے ساتھ دیگر پاکستانیوں کے نام دئیے گئے کہ ان کی کرپشن کے ثبوت ڈھونڈ نکالو۔ 2000ء میں سیاستدانوں کی کرپشن کھودنے کا آغاز کرنے والی براڈ شیٹ سے معاہدہ 3سال بعد 2003ء میں ختم کیا گیا۔ معاہدہ کے مطابق کرپٹ عناصر سے وصول کئے جانے والے کرپشن کے پیسے میں سے اس کمپنی کا بھی شیئر رکھا گیا لیکن تین سال تک یہ عالمی کمپنی پاکستان کے ہیرو واجد ضیا کی طرح کوئی کارکردگی نہ دکھا سکی،جگا جاسوس کمپنی ایک روپے کی کرپشن نہ ڈھونڈ سکی اور جب پاکستان کی اس دور کی جبری فوجی حکومت نے اس سے کارکردگی پوچھی تو یہ مزید وقت لیتے رہے جس پرمشرف حکومت نے کمپنی سے معاہدہ ختم کر دیا تو انہوں نے نیب پر کیس کر دیا جو پاکستانی عوام کی جیبوں پر ڈاکے کی صورت میں نکلا۔آج اس گمنام کمپنی کے ڈائریکٹر ایک پاکستانی نوزائیدہ یو ٹیوبر کو انٹرویو دیتے ہوئے جب یہ دعویٰ کرتے ہیں ان کے پاس بہت ثبوت ہیں تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اتنے سال تک انہوں نے یہ ثبوت کیا اپنی آنیوالی نسلوں کیلئے یادگار کے طور پر سنبھال کر رکھے تھے؟۔ کیوں ان ثبوتوں کے بدلے پاکستانی حکومت سے ڈیل نہ کی اور اتنے سال عدالتوں میں دھکے کھاتے رہے؟۔ 

پاکستان میں سیاستدانوں کی کرپشن کا منجن بہت بوسیدہ اور گھسا پٹا ہے۔کرپشن کوئی بھی کرے اسے کڑی سزا ملنی چاہیے لیکن یہ عمل پاکستان کی طرح صدیوں اور ڈیلوں پر محیط نہیں ہوا کرتا ۔ ایک سیاستدان کرپشن کرتا ہے تو اسے عدالت کی طرف سے کرپشن پر سزا ملتی ہے۔ اس کیخلاف کرپشن کے کیسز ثابت ہوتے ہیں، اس کے لئے ملک کے بہترین تفتیشی ادارے ثبوت ڈھونڈ کر لاتے ہیں اور عوام کا پیسہ کھانے والے کو قانون کے کٹہرے کے پیچھے دھکیلا جاتا ہے۔ لیکن اگر کسی منتخب وزیر اعظم کو کرپشن کے الزام پر عہدے سے ہٹایا جائے اور پھر اسے اقامہ رکھنے یا بیٹے سے چند ہزار ریال کی تنخواہ وصول کرنے یا نہ کرنے پر سزا دی جائے تو دال میں کچھ کالا ہوتا ہے۔ یعنی یہ کرپشن کی کہانی بالکل بھی نہیں بلکہ ’’یہ معاملہ کوئی اور ہے ‘‘۔ چلیں ہم بہت بے وقوف بنتے ہوئے یہ بھی تسلیم کر لیں کہ یہ بھی تو کرپشن ہے تو سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ کرپٹ نواز شریف کیوں جیل کی سلاخوں کے پیچھے تنخواہ وصول کرنے کی سزا نہیں کاٹ رہا؟۔ اگر وہ کرپٹ تھا تو جیل سے باہر کیوں ہے؟۔ اب اگر آپ یہ دلیل برائے دلیل دیں گے کہ ہمیں رحم آگیا تو آپ کے الفاظ میں یہ جواب دیا جا سکتا ہے ’’یہ تمہارے باپ کا پیسہ یا قانون تھا جسے تم نے اپنی مرضی کے مطابق موڑتے ہوئے ایک کرپٹ کو ملک سے باہر علاج کیلئے بھیج دیا ؟۔ 

ہمیں پاکستانی تاریخ کو دوبارہ پڑھنا پڑے گا، تعصب کی عینک اتارنا ہو گی، پیسے والے سے نفرت ختم کرنا ہوگی اور خود محنت کر کے امیر بننے کی کوشش کرنا ہوگی، دلوں سے نفرتیں اور کدوتیں ختم کرنا ہو گی تو تب ہمیں یہ سمجھ آئے گی کہ نوے کی دہائی کے عمران خان ( یعنی نواز شریف) نے پیپلز پارٹی کیخلاف جو انتقامی سیاست کی وہ صرف الزامات تھے۔آصف علی زرداری نے 14سال جیل میں کرپشن کی نہیں سیاسی انتقام کی سزا کاٹی، نواز شریف کو ہر بار کرپشن پر نہیں سیاسی انتقام پر حکومت سے نکالا گیا ۔ہمیں سمجھنا ہو گا کہ کسی کو بھی کرپشن کے الزام میں پہلے حکومت سے جیل اور پھر جیل سے باہر کے ملک صرف اسی لئے بھیجا جاتا ہے کہ اقتدار پر قبضہ کرنا مقصود ہوتا ہے۔ کرپشن ہوتی ہے اور مگر پاکستان میں انتقام کا نام ’’کرپشن‘‘ رکھ دیا گیا ہے۔ ہر بار منتخب وزراء اعظم کرپشن کے الزامات پر نکال دئیے جاتے ہیں اور پھر ان پر ایک روپے کی کرپشن ثابت نہیں کی جاتی اور پوری دنیا سے اکٹھے کئے جانے والے دس ڈبوں کے اندر موجود ثبوتوں پر سرکاری افسر نہ جانے کتنے سال تک بھنے چنے کھاتے رہتے ہیں۔ 

آج یہ کایاں براڈ شیٹ پاکستانی حکومت کو دانہ ڈال رہے ہیں کہ دوبارہ معاہدہ کرو، اس بار ہمارے پاس ثبوت ہیں۔ عمران خان کیوں کہ ضدی ہیں، مانتے وہ کسی کی نہیں تو انہیں یہ مشورہ ہے کہ آپ کرپشن ڈھونڈنے کیلئے ان سے ضرور معاہدہ کریں کیونکہ واجد ضیاء کے دس ڈبوں میں سے صرف اقامہ اور تنخواہ نکل سکی ۔ مگر اس بار معاہدہ ضرور ٹھیک والا کر لیں۔ تماشا تو لگے گا، دھول بھی اڑے گی، پاکستانی سیاستدان بدنام بھی ہوں گے، مگر جب 73سال کی طرح رزلٹ میں سیاسی انتقام کے علاوہ کچھ اور نہ نکلے تو بیچارے عوام پر ایک بار پھر اربوں روپے کا جرمانہ نہ ڈال لینا۔ 


ای پیپر