ایمانداری کاسوال
14 جنوری 2021 (12:16) 2021-01-14

لوٹ مارکے دروازوں اورچوری چکاری والی کھڑکیوں کوبندہوئے غالباًنہیں بلکہ یقیناًڈھائی سال ہوگئے ہیں۔ نوازشریف اورآصف علی زرداری جیسے روایتی سیاستدانوں وحکمرانوں کے ادوارمیں جوجھولیاں اور بوریاں بھربھرکرقومی خزانے کولوٹاجاتاتھاپچھلے ڈھائی سال سے عمران خان کی حکومت میں ملک وقوم کولوٹنے کی بجائے کفایت شعاری ۔۔سادگی ۔۔ایمانداری اورامانت داری کے سائے تلے جھولیاں بھربھرکر قومی خزانے کوشب وروزبھراجارہاہے۔۔لوٹنے والاکام توعمران خان کے اقتدارمیں آنے کے ساتھ ہی بندہوچکا۔ڈھائی سال سے تو صرف خزانے میں بوریوں پربوریاں خالی کرنے کاکام ہورہاہے۔۔نوازشریف اور زرداری جیسے چوروڈاکوحکمرانوں کی حکمرانی میں وہ جوروزانہ اربوں روپے کی کرپشن اورچوری ہوتی تھی اب وہ بھی نہیں ہوتی بلکہ وہ اربوں روپے بھی روزانہ قومی خزانے میں جمع ہورہے ہیں۔۔اس کے علاوہ ہماری غربت،،محتاجی اورفقیرانہ روپ کودیکھ کران ڈھائی سال میں آئی ایم ایف۔۔سعودی عرب اورچین سمیت دیگرممالک اوراداروں نے بھی کشکول بھر بھر کر ہمیں دیئے۔۔ آٹا۔۔  چینی۔۔ گھی۔۔بجلی اورگیس کی قیمتوں کوڈھائی سال میں ڈبل اورٹرپل کرکے غریب عوام کی جیبوں سے بھی کروڑوں نہیں بلکہ اربوں روپے نکالے گئے۔۔ بقول وزیراعظم صاحب کے نیب نے بھی دو سال میں ریکارڈ389ارب اور انٹی کرپشن نے  27ماہ میں 206ارب روپے وصول کئے۔۔ اوپرجس طرح صرف پیسہ آنے اورلانے کی بات ہوئی۔ اس تناظرمیں اگرانصاف کی نظرسے دیکھا جائے توہمارے قومی خزانے کی حالت تواس وقت واقعی دیکھنے کے قابل ہوگی۔۔کیونکہ اس میں اب پیسہ ہی پیسہ ہوگا۔۔لیکن یہ کیا۔۔؟ڈھائی سال میں خزانے کے اس طرح بھرنے کے باوجودارباب اختیار اور صاحبان اقتدارکی طرف سے اب بھی یہ کہاجارہاہے کہ خزانہ خالی ہے۔۔لوٹ مار۔۔ کرپشن ۔۔چوری اورچکاری کے تمام در و گھر بند ہونے کے باوجود جبــ۔۔ خزانہ خالی ہے۔۔کے یہ الفاظ کانوں میں پڑتے ہیں توہمیں فوراً ملا نصیرالدین یادآجاتے ہیں ۔۔کہتے ہیں کہ ملا نصیر الدین ایک بار ایک کلو کلیجی گھر لیکر آئے ۔اہلیہ محترمہ سے کہاکہ میڈم کلیجی ذرہ فرائی کرلینا۔ میں آتا ہوں۔ کلیجی فرائی کرتے ہوئے اہلیہ نے ذرا سی کلیجی ٹیسٹ کی تو مزے کی لگی۔ اس 

طرح کرتے کرتے وہ فرائی کے مراحل یاٹرائل میں ہی ساری کلیجی ہڑپ کرگئی۔ملا نصیرالدین جب گھر واپس آئے اور کلیجی سے متعلق سوال کیا تو بیوی نے بلی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ میں نے کلیجی دھو کے رکھی تو یہ بلی کمبخت ساری کھاگئی۔یہ سن کرملاجی کوبڑاغصہ آیا۔۔اس نے بلی کو اٹھایا اورزمین پر پٹخنے کی بجائے ترازوکے ایک پلڑے میں رکھ دیا۔ ملاجی تھے تو بڑے سمجھدار۔ بلی کوجب تولاتو اس کا وزن ایک کلوسے بھی تھوڑاساکم نکلا ۔۔ ملاجی زوجہ محترمہ کی طرف متوجہ ہو کر بولے۔۔ محترمہ۔۔ کلیجی ایک کلو تھی جبکہ بلی کا کل ملاکر وزن بذات خود ایک کلو سے ذرا سا کم ہے۔۔ اگر یہ بلی کا وزن ہے تو کلیجی کہاں ہے۔۔؟ اور اگر یہ کلیجی کا وزن ہے تو بلی کہاں ہے۔۔؟ یہی حال ۔۔آج ہمارے اس قومی خزانے کابھی ہے۔۔ان چوروں اورڈاکوئوں کی حکمرانی میں پھر بھی بلی اورکلیجی کے درمیان فرق معلوم ہوتا تھا لیکن جب سے اس ملک میں ان ایمانداروں نے حکومت کی باگ ڈور سنبھالی ہے تب سے ملا نصیرالدین کی طرح بلی اورکلیجی میں فرق ختم ہوکررہ گیاہے ۔اب یہ نہیں پتہ چلتا۔۔ کہ یہ بلی ہے یا کلیجی۔۔؟ دم توڑتی معیشت۔۔ خالی پیٹ اور لاغر جسم کے ساتھ نظر آنے والا یہ خزانہ اگر بلی ہے توپھرڈھائی سالہ کلیجی کہاں ہے۔۔؟اوراگریہ ڈھائی سالہ کلیجی ہے تو پھر بلی نماخزانہ کہاں ہے۔۔؟ موجودہ حکمرانوں نے اس بھولی بھالی قوم کونہ صرف بہت سارے سبز باغات اورسپنے دکھائے بلکہ ایمانداری کی بھی کئی کتابیں پڑھائیں۔۔ نواز شریف اور آصف علی زرداری کی چوری چکاری پر تو آج بھی اس نادان قوم کو باقاعدگی کے ساتھ لیکچر دیئے جا رہے ہیں لیکن خود ان ایمانداروں کی اپنی ایمانداری کا کیا حال ہے۔۔؟ وہ سب کے سامنے ہیں۔۔ڈھائی سال سے اس ملک میں نہ نوازشریف کی طرح کوئی چوروزیراعظم ہے اورنہ ہی آصف علی زرداری کی طرح کوئی ڈاکو حکمران۔۔ اس کے باوجود آج اس ملک اور قوم کی جوحالت ہے اس پر رونا۔۔ چیخنا اور چلانا آتا ہے۔۔ کیا ایماندار ایسے ہوتے ہیں۔۔؟ ڈھائی سال سے اقتدارکی لگام سرٹیفائیڈ ایمانداروں کے ہاتھوں میں ہے لیکن اس کے باوجود ان ڈھائی سال میں کوئی دن ۔۔رات اورلمحہ ایسا نہیں گزرا۔۔جس میں اس ملک اورقوم کی جیبوں کو ٹٹولہ نہ گیا ہو۔۔ آٹا۔۔ چینی ۔۔ پٹرول بحران اور ادویات۔۔ گیس وبجلی کے بھاری بلوں کے ذریعے ڈاکوں پر ڈاکے کس کو یاد نہیں۔۔؟ پہلے تو کہا جاتا تھا کہ نوازشریف اورزرداری ملک ہڑپ کر گئے۔۔ خزانہ انہوں نے خالی کردیا۔۔اب ڈھائی سال سے تواقتدارمیں کوئی نوازہے اورنہ ہی کوئی زرداری ۔۔پھریہ ملک اورخزانہ کون دونوں ہاتھوں سے لوٹتا اور کھاتا جا رہا ہے۔۔؟ دس روپے کی چیزکودوتین سوتک پہنچانے کافائدہ کس کو جا رہا ہے۔۔؟ وہ ہزاراوردوہزارکے بجلی وگیس بلوں کی جگہ پراب چاراورپانچ ہزارآنے والے بل کس کے کھاتے اوراکائونٹ میں جارہے ہیں۔۔؟ ہم مانتے ہیں کہ پہلے والے حکمرانوں نے ملک کوجی بھرکرلوٹامگریہ اب والے توبڑے ایمانداراورامانت دارہیں۔۔ ان کے بارے میں توکہاجاتاہے کہ یہ خودکھاتے ہیں نہ کسی کوکھانے دیتے ہیں۔۔اگریہ سچ ہے۔۔ تو پھر قوم کوبتایاجائے کہ ان ایمانداروں کی حکمرانی میں یہ صرف کھانے والے کون ہیں۔۔؟اگرواقعی کوئی نہیں۔۔ تو پھر یہ پیسہ کہاں جاتا ہے۔۔؟ ڈھائی سال میں بدترین مہنگائی۔۔ غربت اور بیروزگاری کے ذریعے عوام کی ہڈیاں پسلیاں ایک کرکے ان کاخون نچوڑاگیالیکن پھربھی خزانہ خالی اورملک کی حالت بدسے بدترہے۔۔اس حکومت نے تو لنگرخانے اورمہمان خانے کھولنے کے سواکسی کوکچھ دیانہیں بلکہ الٹاتاریخی مہنگائی کے ذریعے اس ملک کے ایک ایک فردکووقت اورحالات کااس طرح محتاج بنایاکہ آج امیرہے یاغریب۔۔سب رو رہے ہیں۔ان ظالموں نے توغریبوں کوچھوڑانہ امیروں کو۔۔ ان سے بھکاری بچے نہ انہوں نے فقیروں کاکوئی لحاظ کیا۔۔پھربھی کہتے ہیں کہ ملک کے معاشی حالات ٹھیک نہیں۔۔ملک کوٹھیک اورعوام کے حالات بدلنے کے لئے بلی اورکلیجی میں تفریق ضروری ہے۔۔ جہاں بلی اور کلیجی کا پتہ نہ چلتا ہو۔۔ وہاں پھرمعاشی کیا۔۔؟سیاسی اورسماجی حالات بھی کبھی ٹھیک نہیں رہتے۔۔ماناکہ وزیراعظم عمران خان اپنی ذات تک بڑے ایمانداراورامانت دار ہوں گے۔۔یہ بھی ماناکہ یہ خودکھاتے بھی نہیں ہونگے لیکن انتہائی معذرت کے ساتھ دوسروں کو کھانے نہ دینے والی بات میں فی الحال ہمیں سچائی کے کوئی آثار نظرنہیں آرہے۔۔کیونکہ اگرخان دوسروں کوکھانے نہ دیتے توبلی اورکلیجی آج اس طرح کبھی مکس نہ ہوتی۔۔فرق تودونوں میں کم ازکم واضح ہوتا۔۔آخرایمانداروں کی اس حکمرانی میں کوئی گروہ یاگروپ ایساتوہے جو ملانصیرالدین کی اہلیہ محترمہ کی طرح ٹیسٹ ٹیسٹ میں سب کچھ ہڑپ کرتا جا رہا ہے۔۔ ویسے اگربلی کا اپنا ٹوٹل وزن ہی ہزار گرام سے کم ہو تو پھر بندے کو یہ ضرور سوچنا چاہئے کہ ہزار گرام کلیجی کدھر گئی۔۔ ورنہ بلی اورکلیجی میں اگرفرق نہ ہوتوپھربندے کی ایمانداری پرسوالات تواٹھیں گے۔۔ 


ای پیپر