nawaz sharif,1 billion,dollar,Singapore,bank,broadsheet
14 جنوری 2021 (10:53) 2021-01-14

اسلام آباد : برطانیہ کے رہائشی پاکستانی صحافی نے دعویٰ کیا ہے کہ حکومت پی ٹی آئی کی حکومت نے براڈ شیٹ سے رابطہ کیا کہ مبینہ طور پر سنگا پور کے بنک میں نواز شریف کے اکائونٹ میں ایک ارب ڈالر ہیں اور حکومت پاکستان چاہتی ہے کہ براڈ شیٹ اس کی تحقیقات کرے ۔

ایک مڈل مین ظفر علی کے ذریعے بات چیت آگے بڑھی مگر بیل منڈھے نہ چڑھ سکی۔ بعد ازاں ایک وفد لندن گیا جس میں شہزاد اکبر بھی شامل تھے جہاں پر براڈ شیٹ کے مالک کیوے موسوی سے ملاقات میں یہ پیشکش کی گئی کہ سنگا پور کے بنک میں نواز شریف کے اکائونٹ میں ایک ارب ڈالر کی تحقیقات کریں۔ ریکوری پر 10 فیصد آپ کے ہوں گے اور ہمیں بتائیں کہ ہمارا کٹ کیا ہو گا۔

اس حوالے سے براڈ شیٹ کے سی ای او کیوے موسوی کا ایک انٹرویو بھی سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ شہزاد اکبر نے مجھے بتایا کہ ظفر علی اس سے ملنے آیا تھا تو میں نے پوچھا کہ تم اس سے ملاقات کیلئے رضامند کیوں ہوئے ؟انہو ں نے بتایا کہ پاکستان کی ایک طاقتور ترین ہستی نے مجھے اس ملاقات کیلئے کہا تھا ا س لئے میں اس ملاقات سے انتظار نہیں کر سکتا تھا۔ لیکن پھر اس سے ملاقات کے بعد مجھے اندازہ ہوا کہ وہ اس قابل نہیں ۔ اس لئے میں نے عملی طور پر اسے باہر کا راستہ دکھایا۔

انہوں نے کہا کہ کیونکہ عمران خان نئے نئے حکومت میں آئے تھے اور وہ لوگ نئے چینلز کی تلاش میں تھے اور ان کا خیال تھا کہ گزشتہ حکومتوں کرپٹ تھیں اوروہ چاہتے تھے کہ کرپشن کے کیسز کی درست طریقے سے تحقیقات ہوں اور وہ ہم سے ان کرپشن کیسز کی مناسب تحقیقات چاہتے تھے اور ہم آپ کے ساتھ نیا کنٹریکٹ کریں گے تو میں کہا کہ ٹھیک ہے۔جب ظفر علی نے مجھ سے رابطہ کیاتو میں نے اس سے ملاقات کیلئے رضا مندی ظاہر کر دی۔ باقی تاریخ کا حصہ بن چکا ہے۔

کیوی موسوی نے مزید کہا کہ میں نے شہزاد( شہزاد اکبر) سے پوچھا اور اس نے تحقیق کی کہ وہ اس سے ملا تھا۔ میں نے پوچھاکہ جب تمہیں اس پر اعتبار نہیںتھا تو تم اس سے ملے کیوں؟۔ تو شہزاد اکبر نے جواب دیا کہ اس کا تعارف مجھ سے پاکستان کے بہت بااثر افراد نے کروایا تھاتو میں نے سوچا کہ چلو مل کر دیکھ لیتے ہیں۔میں نے شہزاد سے پوچھا کہ پاکستان میں معاملات ایسے چلاتے ہیں ؟ کیا انسانی حقوق کا ایک وکیل ایسے کرتا ہے کہ طاقتور لوگوں کے کہنے پر ملاقاتیں کرے۔شہزاد اکبر نے جواب دیا کہ یہ پاکستان کے حقائق ہیں۔میں نے شہزاد سے کہا کہ ’’مجھے پاکستان کے بارے میں حقائق مت سکھائو ٗ اس بارے میں مجھے 18 برس کے تلخ تجربات ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایون فیلڈ کا معاملہ تو بہت بعد میں آیا۔ ہم دیگر اثاثوں کو دیکھ رہے تھے۔شروع میں ہم نے ڈارک نیٹ کی تحقیقات کیں اور اس سے کچھ نشانیاں ملیں اور ہم نے اپنی مدد کیلئے ایف بی آئی کے سابق ایجنٹ ہائر کئے۔میں نے جب دیکھا کہ شریف فیملی یہ کہنے کی کوشش کر رہی ہے کہ لندن کی عدالت نے انہیں بری کر دیا ہےتو میں نے پیغام دیا کہ ایسا نہیں ہوا۔ ہوا یہ ہے کہ ہم نواز شریف کیخلاف درخواست واپس لے لی تھی کیوں کہ ہمیں پہلے ہی اتنی رقم مل چکی تھی۔جس سے ججمنٹ کور ہو جاتی اور ہم نے اسے چھوڑ د یا۔


ای پیپر