تہرا ن نے دنیا کو خبردار کر دیا
14 جنوری 2020 (23:58) 2020-01-14

تہران:ایران نے برطانیہ، فرانس اور جرمنی کو خبردار کیا ہے کہ اگر 2015 کے جوہری معاہدے کی روگردانی کو جواز بنا کر تہران کے خلاف کوئی کارروائی شروع ہوئی تو اس کے 'سنگین نتائج' ہوں گے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف نے کہا کہ 'یقینا، اگر یورپی ممالک نے تہران کے خلاف کوئی طرز عمل اپنایا تو انہیں نتائج قبول کرنے کے لیے تیار رہنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ پورپی ممالک نے معاہدے کی تھوڑی پاسداری کا مظاہرہ کیا کیونکہ وہ معاہدے کو قائم رکھنے کے لیے تمام فریقین کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتے ہیں۔تاہم فرانس، برطانیہ اور جرمنی نے اعلان کیا ہے کہ جوہری معاہدے کی پاسداری کے لیے ایران پر دبا ڈالنے کے لیے تہران کے خلاف 'قرارداد پر مشتمل تنازع میکانزم' شروع کردیا گیا۔

اس سے قبل فرانس، جرمنی اور برطانیہ نے ایران سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ عالمی طاقتوں کے ساتھ 2015 کے جوہری معاہدے میں کیے گئے وعدوں کی 'مکمل پاسداری' کرے۔تینوں ممالک نے مشترکہ بیان میں کہا کہ 'یہ ضروری ہے کہ ایران معاہدے کے تحت اپنے وعدوں کی پوری تعمیل کرے۔بیان میں کہا گیا تھا کہ 'جولائی 2019 کے بعد سے ایران کی جانب سے وعدوں کی خلاف ورزی پر گہری تشویش ہے، ایسے تمام اقدامات ختم ہونے چاہئیں'۔

واضح رہے کہ 3 جنوری کو امریکی ڈرون حملے میں ایران کی قدس فورس کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی ہلاک ہوگئے تھے جس کے بعد تہران نے امریکا کو سنگین نتائج کی دھمکی دی تھی۔بعدازاں ایران نے قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے جواب میں 8 جنوری کو عراق میں امریکا اور اس کی اتحادی افواج کے 2 فوجی اڈوں پر 15 بیلسٹک میزائل داغے تھے اور واشنگٹن نے تہران کا دعوی مسترد کردیا تھا کہ حملے میں امریکی فوجی ہلاک ہوئے۔جس کے بعد ایران نے عالمی طاقتوں کے ساتھ 2015 میں کیے گئے جوہری معاہدے سے مکمل طور پر دستبرداری کا اعلان کردیا تھا۔

ایرانی صدر حسن روحانی کی انتظامیہ نے کہا تھا کہ 'ایران یورینیم کی افزودگی، ذخیرہ شدہ افزودہ یورینیم کی مقدار کے ساتھ اپنی جوہری سرگرمیوں میں تحقیق و ترقی میں کسی بھی قسم کی حدبندی نہیں رکھے گا۔


ای پیپر