پاکستان میں سخت معاشی پالیسیوں سے کاروبار متاثرہوا ہے: امریکی ریٹنگ ایجنسی
14 جنوری 2020 (21:56) 2020-01-14

نیویارک:امریکہ کی بزنس ریٹنگ ایجنسی فچ کا کہنا ہے کہ قرض سے جی ڈی پی کی شرح زیادہ ہونے، معاشی شرح نمو 2.8 فیصد ہونے اور مالی خسارا 7.9 فیصد تک بڑھنے کے ساتھ مہنگائی، سود کی ادائیگی اور کمزور ریونیو نمو پاکستان کی کمزوریاں ہیں اور اسی وجہ سے ایجنسی نے  پاکستان کی درجہ بندی کو مثبت آئوٹ لک کے ساتھ 'منفی بی' پر برقرار رکھا ہے؎

اپنی ایک حالیہ رپورٹ میں ’’فچ‘‘ کا کہنا ہے کہ سخت معاشی پالیسیوں سے جی ڈی پی کی نمو میں مزید کمی آرہی ہے، جس کا تخمینہ مالی سال 2020 میں 2.8 فیصد لگایا گیا ہے جبکہ مالی سال 2019 میں یہ 3.3 فیصد تھا، اسی طرح مالی سال 2021 میں تھوڑی بہتری کے ساتھ یہ 3.4 فیصد ہوگا۔اس کے علاوہ مہنگائی میں بھی روپے کی قدر میں کمی اور توانائی کے ٹیرف میں اضافے کی وجہ سے مسلسل اضافہ دیکھا جارہا ہے۔

رپورٹ میں پیش گوئی کی کہ مہنگائی مالی سال 2019 میں 6.8 فیصد کے مقابلے میں مالی سال 2020 میں تقریبا 11.3 فیصد رہے گی، ساتھ ہی یہ امید ظاہر کی کہ اسٹیٹ بینک آئندہ مہینوں میں پالیسی ریٹ 13.25 فیصد کی موجودہ شرح پر برقرار رکھے گا۔فچ نے کم بیرونی قرضوں، لچکدار تبادلے کی شرح اور مالی نظم و ضبط میں بہتری کی تعریف کی، تاہم انتظامی، سلامتی اور ساختی اصلاحات کو خدشے کے طور پر بیان کیا۔یاد رہے کہ  نیو یارک کی ایجنسی ’’فچ‘‘عالمی سطح پر 3 بڑی ریٹنگ ایجنسیوں میں سے ایک ہے، جس نے نشاندہی کی کہ


ای پیپر