امریکی تاریخ کا شاطر ترین ....صدر
14 جنوری 2020 2020-01-14

قارئین میں نے تقابلی جائزے کی خاطرکافی عرصہ پہلے بائبل پڑھی تھی، تاکہ عیسائیوں کا نقطہ نظر معلوم کیا جاسکے، کہ وہ اپنے پیغمبر اور مختلف شعبہ ہائے زندگی، اور خصوصاً اسلام کے متعلق کیا رائے رکھتے ہیں مگر چونکہ میں ڈاکٹر ذاکر نائیک تو ہوں نہیں کہ میں نے جو کچھ پڑھا تھا، اس کا صفحہ اور سطرتک بھی آپ کو بتادوں تاہم اتنا مسلمانوں کو پتہ ہونا چاہیے، کہ ہم مسلمان، مسلمان ہونے سے پہلے یعنی محبوب خدا ، آمد رسول سے پہلے عیسائی تھے اور اللہ تعالیٰ کی محبوب قوم نصاریٰ نہیں بلکہ یہود تھی، جن کو من وسلویٰ کا تحفہ خداوندی بھی عطا فرمایا گیا، مگر اس بدبخت قوم نے اس کی قدر ہی نہ کی، بلکہ جابجا، بے جا فرمائشیوں، اور حکم عدولی کو اپنا وطیرہ بناکر اپنے خالق کو ہی ناراض کرڈالا۔ حتیٰ کہ اپنی ریشہ دانیوں، اور ابلیس کے بہکاوے میں آکر اپنے نبی کے خلاف ہوگئے، اور قتل پہ آمادہ ہوگئے، چونکہ سوائے قرآن پاک کے ، جس کی حفاظت کی ذمہ داری خود خدا نے لی ہوئی ہے، اور حیرت ہے، بلکہ معجزہ صاحب کتاب یہ ہے کہ دنیا بھر کے مسلمانوں کے پاس جو، دنیا کے کسی براعظم اور کسی بھی ملک میں رہتے ہوں، ان کے قرآن پاک اکٹھے کیے جائیں، تو ایک زیر یا زبر کا فرق نہیں ہوتا مگر بائبل ، زبور، انجیل کا کوئی بھی نسخہ، غلطیوں سے پاک آپ کو نہیں مل سکتا، اس میں جابجا تحریف کی بھرمار ہے، اور اپنی مرضی کے مطابق وضع کرلیے گئے ہیں، واضح رہے کہ بائبل وغیرہ میں یہ تعاریف، آج کے دور میں نہیں، بلکہ ابتداءمیں ہی شروع ہوگئی تھیں، اور مطالب وتفسیر میں مطابقت وتفسیر میں ہم آہنگی مفقودہوگئی تھی، بقول مظفرعلی شاہ

نہیں ممکن توازن

یہاں تن من کہیں ہے

بجز توسب یہیں ہے

مگر بھاتا نہیں ہے

اس لیے اسلام کے علاوہ ایک دوسرے اہل کتاب کا جس کی کتاب ہی اغلاط سے پاک ملنا، ناممکن ہے، اس پر عمل پیرا لوگوں سے شکوہ کناں ہونا، زیادہ مناسب نہیں، کیونکہ ان پر ناممکن تعلیم و تربیت کا اطلاق ہوسکتا ہے، مگر قدرت نے انسانی جبلت وسرشت کے علاوہ ضمیر اور انسانیت کی ایک ایسی کسوٹی دی ہے، کہ جو صرف مسلمان نہیں، بلکہ ہر انسان کی مکمل راہ نمائی کرسکتی ہے، مثلاً جھوٹ بولنا ، چوری کرنا، زنا کاری اور قتل کرنا، کسی بھی مذہب یا مسلک میں جائز نہیں، اور کوئی مذہب اس کی اجازت نہیں دیتا، تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا پیروکار ، کسی انسان کے قتل پہ فخریہ یہ اعلان کیوں کرتا ہے، کہ جنرل سلیمانی کے قتل کا حکم میں نے دیا ہے، اور ”قاتل“ ہونے کا اعزاز مجھے بہت پہلے کرلینا چاہیے تھا، جبکہ ان کے نبی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا تو یہ فرمان ہے، کہ اگر کوئی تمہیں تھپڑ مارے، تو تمہیں لڑائی جھگڑا کرنے یا اس کا جواب دینے کی بجائے اپنا دوسرا گال بھی پیش کردینا چاہیے، صدر ٹرمپ کی آپ بیتی پڑھنے والے بخوبی جانتے ہیں، کہ صدر ٹرمپ بچپن، لڑکپن، اور اب بڑھاپے میں بھی ایک جیسی عادت واطوار کے مالک رہے ہیں، اور ان کی عادتوں میں سرے سے فرق نہیں آیا۔

قارئین میں نے صدر ٹرمپ کو شاطر اس لیے کہا ہے کہ شاطر کا لفظی مطلب ہے، چالاک ، عیار، شوخ، اور شطرنج کھیلنے والا وغیر ٹرمپ شطرنج بھی کھیلتا ہے، اور چالاک بھی ہے، اس کی شوخیاں، اس کے کردار عاشقانہ سے ظاہر ہیں، اور اس کے مزاج سے ایک خاص بات جو ظاہر ہے، وہ ہے ، پیسے کا حصول ، جو وہ اپنے لیے ہرحال میں حاصل کرتا رہا، خواہ وہ کسینوہو( جوئے و قمار بازی کا اڈا) یا پھر کسی بھی عیاشی کا اڈا ہو، مگر اس نے یہ سارے پیشے اپنانے سے کبھی عار محسوس نہیں کیا، اور اس طرح ساری عمر وہ شراب وکباب کی سرمستیوں میں سرمست رہا، بقول مظفر علی شاہ

یہ بظاہر ”کملا“ انسان

چھبیل چھبیلے لوکاں اندر!

ہسدیاں وسدیاں جھوکاں اندر

مگر اس کے ساتھ وابستہ اقوام وملک کے عوام، جیسے پاکستانی عوام

بھر بھر ہوکے رات دیہاڑے

سدھراں نوں میں روکاں اندر

گیت وفا دا گاوندا جاواں

ہاسیاں اندر، ٹوکاں اندر

پاکستان کے عوام، اس چھیل جھبیلے صدر کی کبھی ڈانٹ ڈپٹ، کبھی معذرت خوا ہانہ رویے کو اس لیے سہتے رہے کہ دیگر ممالک ، افغانستان، شام، عراق، لیبیا مراکش وغیرہ کی طرح پاکستان بھی امریکی امداد پہ پلتا بڑھتا رہا، مگر ٹرمپ نے پاکستان کو امداد دینے کی بجائے، پہلے سے دی گئی امداد کا حساب مانگ لیا اور اس طرح پاکستان کو لینے کے دینے پڑ گئے، امت مسلمہ تو اس وقت روز اول کی طرح دودھڑوں میں بٹ چکی ہے، او، آئی ، سی اور مہاتیر محمد کا گروپ مہاتیر دنیا کے مسلمان حکمرانوں میں واحد حکمران ہیں، جنہوں نے کھل کر جنرل سلیمانی کے قتل کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے، قارئین آپ کا کیا خیال ہے، امریکہ کی پاکستان، یا سعودی عرب بھی مذمت کرے گا، کبھی بھی نہیں۔ ہم مسلمانوں میں اگر توفیق الٰہی سے یہ سمجھ فہم وادراک در کر آئے، تو ہم سمجھ سکتے ہیں، کہ اگر واقعہ کربلا کا خدانخواستہ اعادہ ہو جائے، تواب بھی سینکڑوں صدیوں والی تاریخ اب اپنے آپ کو دہرائے گی، کیونکہ ہم نام کے مسلمان ہیں، اور کچھ نہیں سوائے جھوٹ کے، سورة البقرہ میں آیت 255، میں فرمان ہے کہ ہم خوف، بھوک، اور مال اور جانوں اور میووئں کے نقصان سے تمہاری آزمائش کریں گے، تو صبر کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کی بشارت سنا دو میں بات کررہا تھا شہید جنرل سلیمانی کی، جنہوں نے پاکستان (چراٹ) سے کمانڈو تربیت حاصل کی تھی جنہوں نے ایک دفعہ کہا تھا، کہ اگر خدانخواستہ پاکستان پہ مشکل وقت آیا تو پاکستان کے لیے اپنا خون نچھاور کردیں گے، اور ایران کے ساتھ جنگ شروع کرنے کا مقصد امریکہ کے تمام ذرائع اور وسائل کی تباہی ہے، ٹرمپ تم سوچ بھی نہیں سکتے کہ ہم تمہارے کتنے قریب پہنچ چکے ہیں، جنگ ٹرمپ شروع کرے گا، اور ایران ختم کرلے گا، ٹرمپ تمہاری زبان ناچ گھروں اور جوئے خانوں کی زبان ہے، اور چکلے خانوں میں جانے والا شخص ہی ایسی زبان استعمال کرسکتا ہے۔

قارئین ، ہٹلر والی سوچ کا مالک ٹرمپ دنیا کے سامنے کیا شاطرانہ چالیں چلتا رہا، انشاءاللہ جلدی آپ کو بتاﺅں گا، فی الحال مجھے چیئرمین نظریاتی کونسل قبلہ ایاز کی فکر ہے، جنہوں نے نیب کے کچھ قوانین کو غیر شرعی اور غیر اسلامی قرار دیا ہے، مجھے ڈر ہے انہیں ”نیب“ دھر نہ لے ،کہ ان کی زبان ان کے وسائل ان کی اوقات سے زیادہ ”وسیع“ ہے۔


ای پیپر