پاور پلانٹ اور سافٹ ٹارگٹ !
14 جنوری 2020 2020-01-14

پچھلے کچھ ہفتوں سے یوں محسوس ہورہا تھا پاکستان کے سب سے بڑے مسئلے دہشت گردی، بے روزگاری، امن وامان کی صورت حال، نظام صحت، تعلیم وعدل کی خرابیاں وغیرہ نہیں ہیں، بلکہ پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ آرمی چیف کی ایکسٹینشن ہے جس کے بعد باقی یہ سارے ”چھوٹے چھوٹے مسئلے“ خود بخود حل ہو جائیں گے، لہٰذا یہ مسئلہ حل ہونے کے بعد قوی امکان ہے بھارت مقبوضہ کشمیرپلیٹ میں رکھ کر ہمارے سپرد کردے گا، دنیا میں پاکستانی پاسپورٹ کی عزت میں یکدم کئی گنا اضافہ ہو جائے گا، امریکہ و دیگر ممالک نے پاکستان کو جو قرضے دیئے ہوئے ہیں وہ سارے معاف ہو جائیں گے، پاکستان میں دودھ اور شہد کی نہریں بہنے لگیں گی جس کے بعد کسی بیرونی قرضے کی پاکستان کو کبھی ضرورت محسوس نہیں ہوگی، بلکہ پاکستان اس قابل ہو جائے گا کہ امریکہ، چین اور جاپان جیسے ممالک کو جب بھی ضرورت محسوس ہو وہ پاکستان سے قرضہ حاصل کرلیں ....اِس تناظر میں ہمیں خوشی ہے آرمی ایکٹ میں ترمیم تقریباً پوری پارلیمنٹ نے منظور کرلی، آرمی ایکٹ میں ترمیم تو خیر معمولی بات تھی ملک میں جب مارشل لاءلگتا ہے وہ بھی تقریباً پوری پارلیمنٹ منظور کرلیتی ہے۔ کچھ ارکان پارلیمنٹ یا سیاسی جماعتیں اگر فوری طورپر منظور نہیں کرتے بعد میں کرلیتے ہیں، بلکہ اُن میں اور کئی تبدیلیاں ”تبدیلی سرکار“ کررہی ہے ، میں سوچ رہا تھا وہاں ایک تبدیلی اُس حلف نامے میں بھی کردے جو ہمارے وزیر وغیرہ اُٹھاتے ہیں کہ وہ ”پاکستان سے وفادار رہیں گے“، اس کی جگہ پر لکھ دیا جائے ”وہ پاکستان کی اصل طاقتور قوتوں کے وفادار رہیں گے“ ....آرمی ایکٹ میں ترمیم سے وزیراعظم کو اب آئینی طورپر یہ اختیار حاصل ہوگیا ہے وہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں تین برسوں کی توسیع کردیں، .... مجھے حیرت ہے جسٹس ریٹائرڈ کھوسہ صاحب کو اِس کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی؟ یہ اختیار کچھ وزرائے اعظم غیر آئینی طورپر بھی استعمال کرتے رہے ہیں، اور کسی عدالت نے اِس معاملے میں اُنہیں نہیں پوچھا، بلکہ بدقسمتی سے ہماری عدلیہ بے شمار غیر آئینی اقدامات کو باقاعدہ تحفظ دیتی رہی ہے۔ ریٹائرڈ چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ شاید خصوصی شفقت کے موڈ میں تھے ، جس کے تحت اُنہوں نے حکومت یا وزیراعظم کو باقاعدہ راستہ فراہم کردیا ایک غیر آئینی اقدام کو آئینی اقدام کس طرح بنایا جاسکتا ہے؟ اِس حوالے سے جب ایک درخواست اُن کے پاس آئی تھی، ابتدائی سماعت میں جو زبردست سوالات اُنہوں نے اُٹھائے تھے سچی بات ہے ہم ڈرگئے تھے کہیں جاتے جاتے وہ یہ فیصلہ سنا کر اپنی عزت ہی نہ بناجائیں کہ نہ صرف یہ موجودہ آرمی چیف کو ایکسٹینشن نہیں دی جائے گی بلکہ آج سے یہ سلسلہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ختم کیا جاتا ہے، .... ظاہر ہے اس فیصلے کے بعد ”ملکی مفاد“ کو فوری طورپر شدید خطرات لاحق ہو جانے تھے، ہماری عدلیہ اکثر اوقات آئین وقانون سے زیادہ اُن ”ملکی مفادات“ کو پیش نظر رکھتی ہے جس کے بارے میں خود عدلیہ کو معلوم نہیں ہوتا کہ یہ ہوتا کیا ہے؟۔ کاش محترم آصف سعید کھوسہ صاحب نے جس طرح آرمی ایکٹ میں ترمیم کا حکم دیا، اُسی طرح وہ یہ حکم بھی فرما دیتے کہ پارلیمنٹ ایک بِل یہ بھی منظور کرے آئندہ کوئی آرمی چیف اپنے کسی ذاتی مفاد کی آڑ میں قومی مفاد کے نام پر مارشل لاءنہیں لگائے گا، یا سیاسی حکومت کو ختم کرکے اپنی مرضی کی سیاسی حکومت نہیں لائے گا۔ ممکن ہے اُن کا اِس طرف دھیان نہ گیا ہو، پر پارلیمنٹ کو ہی تھوڑی شرم آجاتی، خصوصاً ملک کی دوبڑی سیاسی جماعتیں، جو ایک بار پھر نظریاتی جماعتیں ہونے کاڈھونگ رچا رہی تھیں اور اِس حوالے سے مسلسل ڈرامے کررہی تھیں، وہی اِس ”سنہری موقع“ سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے ایک ترمیم یہ بھی لے آتیں آئندہ کوئی مقتدر قوتیں سیاسی حکومت ختم نہیں کرے گی، ممکن ہے سیاسی جماعتیں یہ ترمیم اِس لیے نہ لے کر آئی ہوں کہ اگرمقتدرقوتیں ایک سیاسی جماعت کی حکومت ختم نہیں کرے گی تو دوسری سیاسی جماعت کو باری کیسے دے گی ؟ہماری مقتدرقوتیں بھی ایسے اقدامات ”ملکی مفاد“ ہی کو پیش نظر رکھتے ہوئے کرتے ہیں، مجھے اکثر حیرت ہوتی ہے ہمارے سارے سیاسی فوجی و عدالتی حکمران ہر فیصلہ ”ملکی مفاد “ میں ہی کرتے ہیں تو ”ملکی مفاد“ ہروقت خطرے میں کیوں پڑا رہتا ہے؟یہ سب لوگ کچھ دیر کے لیے ملکی مفاد کی آڑ لینا بند کردیں مجھے یقین ہے ملکی مفاد مستقل طورپر خطرات سے باہر نکل آئے گا، اور اُس کے بعد ملک ان شاءاللہ ترقی بھی کرے گا، اِس ملک کی ”اصل قوتیں“ اور اُن کی ماتحت پارلیمنٹ اگر اِس یقین میں مبتلا ہو چکے ہیں آرمی ایکٹ میں ترمیم سے ان کی توقیر سلامت رہتی ہے تو ہم بھی خود کو سلامت رکھنے کے لیے اس کی غیر ضروری مخالفت کیوں کریں؟ یہ نہ ہو کل کلاں ہماری گاڑی سے بھی دس پندرہ کلو ہیروئین یا کوئی ”فلمی ہیروئن“ برآمد ہو جائے، اُس کے بعد بندہ رہا تو ہوجاتا ہے پر اُسے اپنے ”بیانیے“ سے محروم ہوکر ثابت کرنا پڑ جاتا ہے ”نظریات“ محض ایک ڈھونگ ہے .... ویسے میں سوچ رہا تھا آرمی ایکٹ میں ترمیم لانے والی پارلیمنٹ یا ارکان پارلیمنٹ پر جتنی چاہیں ہم تنقید کرلیں، جتنی چاہیں اُنہیں گالیاں دے لیں، بُرا بھلا کہہ لیں، ایک تو اِس سے اُنہیں کوئی فرق نہیں پڑتا، دوسرے ہمیں بھی اُن سے کوئی خطرہ اِس لیے محسوس نہیں ہوتا یہ بے چارے ” سافٹ ٹارگٹ“ ہیں،

تو ہمیں اُن کی مجبوریوں کو سمجھنا چاہیے، بلکہ اُصولی طورپر ہمیں اُنہیں خراج تحسین پیش کرنا چاہیے کہ وہ کرپٹ، بدمعاش یا دیگر خرابیوں کے مالک شاید ہوں احسان فراموش ہرگز نہیں ہیں۔ جو اُنہیں اقتدار میں لاتے ہیں یا لاسکتے ہیں اُن کی فرماں برداری یا حق نمک ادا کرنے میں وہ کوئی کسر اُٹھا نہیں رکھتے، رہی بات ہمارے ایماندار وزیراعظم کے اِس یوٹرن لینے کی کہ ”آرمی چیف کو کسی صورت میں ایکسٹینشن نہیں ملنی چاہیے ، چاہے کوئی ملک حالت جنگ میں ہی کیوں نہ ہو“۔ اصل میں اُنہیں یقین ہی نہیں تھا اُنہیں واقعی اقتدار مِل جائے گا وہ سمجھتے تھے اُنہیں صرف استعمال کرنے کے لیے رکھ لیا گیا ہے، ورنہ وہ ایسے دعوے ہرگز نہ کرتے جن سے اُن کی شخصیت سے نقاب آہستہ آہستہ اتنا اُتر گیا ہے اب کسی جلسے یا کسی تقریب میں جوکچھ وہ کہہ رہے ہوتے ہیں اُن کے سامنے بیٹھے حاضرین سوچ رہے ہوتے ہیں کس قدر ڈھٹائی سے یہ شخص مسلسل جھوٹ بولتا جارہا ہے، ....اُن کی خوش قسمتی 2017ءمیں الیکشن قریب آگئے تھے اور اس ملک کے اصل طاقتوروں کے پاس سوائے اُن کے اور کوئی آپشن اُس وقت موجود ہی نہیں تھا، لہٰذاایک کمزور سا اقتدار ان کے سپرد خاک کرنا پڑ گیا، اب بطور وزیراعظم کمزور صلاحیتوں کا مظاہرہ کرکے اُنہوں نے بھی یہ ثابت کردیا وہ ایسے ہی کمزور اقتدار کے مستحق تھے، اُن کی بدقسمتی وزیراعظم بنانے سے پہلے بھی اُنہیں استعمال کیا جاتا رہا وزیراعظم بناکر بھی اُنہیں استعمال ہی کیا جارہا ہے۔ سو ہمیں کیا اعتراض ہے وہ اگر خود اس میں فخر محسوس کررہے ہیں !!


ای پیپر