Image Source : Facebook

موبائل صارفین کیلئے خوفناک انکشاف
14 فروری 2019 (17:18) 2019-02-14

اسلام آباد:سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی میں ایف آئی کی جانب سے بتایاگیا کہ سائبر کرائمز میں 28000شکایت رجسٹرڈ کرائی گئیں ،حکومت کی جانب سے وزارت کے بجٹ میں 50فی صد کٹ لگانے پر کمیٹی اراکین کا اظہار برہمی کیاگیا ،کمیٹی نے سفارش کی ہے کہ حکومت وزارت کا بجٹ سو فیصد کرے، دنیا کی ترقی انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ساتھ جڑی ہے پڑوسی ملک آئی ٹی کے شعبے میں مہارت حاصل کرنے پر اس وقت انفارمیشن ٹیکنالوجی کے میدان کا رہنما بنا ہوا ہے جبکہ یہاں وزارت کے ساتھ سوقیانہ سلوک روا رکھا جاتاہے، موبائل کمپنیوں کی جانب سے صارفین کا ڈیٹا فروخت کرنے کا انکشاف ہوا ۔

تفصیلات کے مطابق سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجیکا اجلاس چئیرمین کمیٹی سینیٹر روبینہ خالد کی سربراہی میں پارلیمنٹ ہاوس میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں چئیرمین کمیٹی سینیٹر روبینہ خالد نے بتایا ایف آئی اے نے سائبر کرائمز ونگ نے گذشتہ 28ماہ میں 28000شکایت رجسٹرڈ کی ہیں ۔ یہ شکایت ریاست مخالف مواد پر مشتمل تھیں ان ریاست مخالف سوشل میڈیا کی شکایت آئی ایس آئی نے کی تھیں ۔ سیکرٹری انفارمیشن ٹیکنالوجی نے اجلاس کو بتایا کہ آزاد کشمیر گلگت بلتستان میں آئی ٹی کاکام ایس سی او کر رہی ہیں ۔

انہوں نے کہاکہ جو ملک کے اندر موبائل کمپنیاں کام کر رہی ہیں وہی آزاد کشمیر گی بی میں بھی کام کر رہی ہیں لیکن ان علاقوں میں قوانین کی نوعیت مختلف ہے اس لئے وہ ان قوانین کے تحت کام کرتی ہیں ۔ فاٹا میں یوایس ایف کاکام ایس سی او کر ہاہے ، انہوں نے کمیٹی کو بتایا کہ سال 2018 n.19 کے بجٹ کےلئے 6,500,000ملین روپے کی منظوری دی گئی جبکہ وزارت کی جانب سے 184,703,000ملین روپے مانگے گئے تھے ۔ تعمیر و مرمت کےلئے 10,660,000ملین دئیے گے جبکہ اخراجات 5,933,287ملین روپے آئے 18,869 ,700ملین روپے قومی خزانے کو واپس بھجوا دئیے گے کیونکہ کہا گیا کہ وزارتوں کے بجٹ پر 50 فی صف کٹ لگ گیا ہے۔

آئی ٹی ممبر خاور نے کمیٹی کو بتایا کہ بلوچستان اور صوبہ خیبر پختون خواہ میں کچھ علاقوں میں تھری جیز اور کچھ میں ٹو جیز سروس ہے جبکہ کئی علاقوں میں ابھی تک سروس نہیں ہے جہاں سروس نہیں وہاں یو اے ایف فنڈز سے وہ کام مکمل کی اجائے گا۔ سینیٹر رحمن ملک نے کہاکہ تمام موبائل کمپنیاں منافع میں جا رہیہیں لیکن وہ جن علاقوں میں منافع کم ہو وہاں نیٹ ورک بڑھانے پر توجہ نہیں دے رہیں انہوں نے الزام عائد کیا کہ کچھ موبائل کمپنیاں صارفین کا خفیہ ڈیٹ افروخت کر رہی ہیں ۔

سینیٹر فدا خان نے کہاکہ ضلع ملاکنڈ کے علاقے وزیر آباد ، قدم خیلہ ، پیر محل مخ بند سخا کوٹ جدید میں کوریج نہیں جا رہی جس پر یو فون کے نمائندے نے کہاکہ کہ کئی علاقوں میں نیٹ ورک بڑھا رہے ہیں جس پر چئیرمین کمیٹی نے اگلے اجلاس میں تفصیلات طلب کر لئیں ۔ سینیٹر عتیق شیخ نے انکشاف کیا ملک میں سوشل میڈیا کے چودہ ایپس جاسوسی کی سرگرمیوں میں ملوث ہیں اون وہ حساس ڈیٹ لیک کر رہی ہیں جس پر اجلاس کا وقت ختم ہونے پر اس ایجنڈے کو اگلے اجلاس تک کےلئے معطل کر دیا گیا۔


ای پیپر