لاہورسے کویت کا آرام دہ سفر!
14 فروری 2019 2019-02-14

9جنوری کو میری کویت روانگی تھی، جیسا کہ گزشتہ کالم میں عرض کیا تھا اِس سے ایک روز قبل میری کویت کی فلائٹ مِس ہوگئی تھی، لہٰذا اِس کے باوجود کہ میری فلائےٹ صبح ساڑھے سات بجے تھی اور مجھے دو گھنٹے پہلے یعنی ساڑھے پانچ بجے ایئرپورٹ پہنچنا تھا، اُس رات تھوڑی دیر کے لیے بھی نیند نہیں آئی۔ دوبارہ فلائیٹ مِس ہونے کے خدشے سے ایک پل کے لیے آنکھ نہیں لگی۔ البتہ اِس بار ایک اطمینان یہ تھا میں پی آئی اے سے سفر نہیں کررہا تھا، اِس کی دو وجوہات تھیں ایک یہ کہ پی آئی اے نے کویت سے لاہور اور پاکستان کے دیگر شہروں میں آنے والی اپنی ڈائریکٹ فلائیٹیں جو اچھی خاصی منافع بخش تھیں گزشتہ ایک برس سے بند کردیں، کویت میں مقیم ہزاروں پاکستانی پی آئی اے کے اِس بلنڈر کی وجہ سے کس قدر مشکلات کا شکار ہیں؟۔ یہ کہانی میں الگ سے لکھوں گا۔ اور پی آئی اے سے سفر نہ کرنے کی دوسری وجہ یہ ہے جب تک فلائیٹ منزل مقصود تک نہیں پہنچ جاتی گھروالوں کا سکون غارت ہوارہتا ہے ،.... کویت میں میرے میزبان، مہربان اور ایک انتہائی عظیم انسان برادرم ندیم اشرف نے اِس بارمجھے قطر ایئرلائن کی ٹکٹ بھجوائی تھی، قطر ایئرلائن سے یہ میرا پہلا سفر تھا، یہ سفر ہرحوالے سے بہت خوشگوار گزرا، اِس خوشگوار کی ابتداءیہ تھی فلائیٹ بروقت روانہ ہوگئی، پی آئی اے کی فلائیٹیں عموماً لیٹ ہوتی ہیں، بلکہ پی آئی اے کی کوئی فلائیٹ اتفاق سے بروقت روانہ ہوجائے یوں محسوس ہوتا ہے کِسی اور ایئرلائن سے سفر کررہے ہیں، اُوپر سے پی آئی اے کے جہاز اور ”جہاز رانیاں“ ( ایئرہوسٹسز) تقریباً ”ہم عمر“ ہوتے ہیں۔ اِس وجہ سے بھی پی آئی اے سے سفرکرنے والے مسافر اکثرخوفزدہ رہتے ہیں کہ جہازوں اور جہازوں کی ہم عمر ایئرہوسٹسز کا ”بڑھاپا“ اُنہیں موت کے منہ میں نہ لے جائے۔ یہ احساس پی آئی اے کے جہازوں میں مِلنے والا کھانا کھاتے ہوئے بھی مسافروں پر طاری رہتا ہے، پچھلی بار میں جب بذریعہ پی آئی اے لاہور سے ٹورنٹو کا سفر کررہا تھا میرے کھانے سے ”مردہ مکھی“ برآمد ہوگئی، میں نے سوچا یہ مکھی یقیناً یہی کھانا کھاکر مری ہوگی۔ میں نے ایئرہوسٹس سے اُس کی شکایت کی، مکھی دیکھ کر وہ کہنے لگی ”سر میرے خیال میں یہ مکھی نہیں ”الائچی“ ہے“ ....وہ خود بھی اُس وقت ”الائچی“ کی طرح ہی لگ رہی تھی۔ اُس وقت میرے دِل میں یہ خواہش پیدا ہوئی کاش میں ”لونگ“ ہوتا، بہرحال جیسے ہی میں قطر ایئرلائن کے جہاز کے اندر پہنچا ایئرہوسٹسز کو دیکھ کر دِل ”باغ باغ“ ہوگیا جو پی آئی اے کی ایئرہوسٹسز کو دیکھ کر عموماً ”کانٹاکانٹا“ ہوجاتا ہے۔ اُن کا لہجہ بھی بڑا کرخت ہوتاہے۔ اُن سے پانی مانگیں وہ ایسی خونخوار نظروں سے دیکھتی ہیں جیسے دودھ مانگ لیا ہو، ایک واقعہ میں نے شاید پہلے بھی لکھا تھا، ایک بار میں اور دلدار پرویز بھٹی مرحوم بذریعہ پی آئی اے لاہور سے کراچی جارہے تھے، دلدار بھٹی ”اگلی سیٹ“ پر تھا۔ ایک ایئرہوسٹس کی خوبصورتی سے وہ بڑا متاثر ہوگیا، وہ باربار اُس کی طرف دیکھے جارہا تھا اور اِس بات پر غصہ بھی کیے جارہا تھا کہ وہ جواباً اُس کی طرف ویسے مُسکرا کر کیوں نہیں دیکھ رہی جیسے وہ دیکھ رہا ہے، خیر جہاز کے ٹیک آف کرنے کے بعد وہ اُس کی سیٹ کے قریب سے گزری تو دلدار نے اُس سے کہا ”سنیئے ....میری سیٹ کے قریب سے گزرتے ہوئے اگر اتفاق سے میرا موڈایا گوڈا آپ کو لگ جائے پلیز بُرا مت مانیے گا“....اِس پر ایئر ہوسٹس نے بُرا سا منہ بنایا اور کہنے لگی ” آپ جیسے جوشوخے مسافر ہوتے ہیں اُن پر گرما گرم چائے بھی گِرجایا کرتی ہے۔ پھر یہ ہوا اُس کے بعد دلدار نے اُس کی طرف دیکھنا تو نہ چھوڑا مگر اِس خدشہ کے تحت اپنی سیٹ تبدیل کرلی کہ کہیں وہ اپنے کہے ہوئے کے مطابق واقعی اُس پر گرما گرم چائے نہ گِرا دے،....میں نے جب اپنی بیگم کو بتایا میں اِس بار کویت قطر ایئرلائن سے جارہا ہوں وہ بہت خوش ہوئی۔ کہنے لگی ”ندیم بھائی نے اچھا کیا اِس بار آپ کی ٹکٹ پی آئی اے کے بجائے قطر ایئرلائن کی کروائی۔ ویسے بھی پی آئی اے کے مقابلے میں قطرایئرلائن بلکہ تمام ایئرلائنز کی ٹکٹیں سستی پڑتی ہیں“۔میں نے عرض کیا تمہاری اطلاع درست نہیں ہے، پی آئی اے کی ٹکٹ زیادہ مہنگی پڑتی ہے، وہ بولی ” پی آئی اے کی ٹکٹ اِس لیے زیادہ مہنگی پڑتی ہے کہ پی آئی اے کے جہازوں میں سفر کرنے سے رسک بہت بڑھ جاتا ہے اور روانگی سے قبل کئی بکروں کا صدقہ دینا پڑتا ہے، اِس رقم کو ٹکٹ میں شامل کریں تو باقی تمام ایئرلائنز کے مقابلے میں پی آئی اے کی ٹکٹ بہت مہنگی پڑتی ہے، اِس کے علاوہ پی آئی اے کے جہازوں میں مِلنے والا کھانا کھاکر عموماً پیٹ کا انفیکشن

ہوجاتا ہے جس کے علاج پر ہزاروں روپے خرچ ہوجاتے ہیں“۔....البتہ لاہور سے کویت بذریعہ قطرایئرلائن سفر کرتے ہوئے صرف اِس حوالے سے میں ذرا پریشانی کا شکار تھا کہ دوحہ ایئرپورٹ پر پینتالیس منٹ کا ٹرانزٹ تھا، ٹرانزٹ فلائیٹس کے اپنے مسائل ہوتے ہیں، ایئرپورٹ پر دوسری فلائیٹ پکڑنے کے لیے بعض اوقات باقاعدہ دوڑ لگانی پڑتی ہے، پورے پورے شہر جتنے بڑے ایئرپورٹ ہوتے ہیں، ایک گیٹ سے دوسرے گیٹ پر جانے کے لیے بعض اوقات اتنا وقت لگ جاتا ہے اگلی فلائیٹ مِس ہوجاتی ہے، اللہ کا شکر ہے قطرایئرلائن سے انتہائی آرام دہ سفر کے بعد کویت جانے کے لیے دوسری فلائیٹ پر سوار ہونے کے لیے ہم جب دوحہ ایئرپورٹ اُترے ، جہاز سے نکلتے ہی قطرایئرلائن کا عملہ ہمارا منتظر تھا، وہ ہمیں اُس گیٹ پر لے گیا جہاں دوسری فلائیٹ کویت لے جانے کے لیے ہماری منتظر تھی۔ یہ مرحلہ میرے لیے بڑا حیران کن اس لیے تھا میں نے دنیا کا زیادہ ترسفر پی آئی اے سے کیا اور ٹرانزٹ فلائیٹس کے حوالے سے پی آئی اے اپنے مسافروں کو ایئرپورٹ پر بے یارومددگار چھوڑ دیتی ہے، ایئرپورٹ پر کوئی اُنہیں گائیڈ کرنے والا نہیں ہوتا کہ اگلی فلائیٹ کے لیے اب اُنہیں کِس گیٹ پر جانا ہے، یا وہ گیٹ کس طرف ہے؟۔ پی آئی اے کے عملے کی اِس لاپروائی کے نتیجے میں بے شمار مسافروں خصوصاً بزرگ مسافروں کو جِس قدر خواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے، میرے خیال میں اِس وجہ سے بھی بے شمار لوگوں نے پی آئی اے سے سفر کرنا چھوڑ دیا ہے، یا پی آئی اے کے مقابلے میں وہ دوسری ایئرلائنز کو ترجیح دیتے ہیں۔ قطر ایئرلائن سے سفر میں جہاز کے اندر ایک واقعے نے مجھے بڑا متاثر کیا، میرے ساتھ والی نشست پر بیٹھی ایک خاتون مسافر بہت تھکی ہوئی لگ رہی تھی۔ اُس کے ساتھ اُس کا دو تین سال کا بچہ بھی تھا جو اُسے بہت تنگ کررہا تھا، وہ خاتون سونے کے لیے جیسے ہی آنکھیں ذرا بند کرتی بچہ اُسے جگا دیتا، ایک غیرملکی ایئرہوسٹس یہ منظر دیکھ رہی تھی، وہ اُس خاتون کے پاس آئی اور اُس سے کہنے لگی ” آپ اجازت دیں تو اِس بچے کو تھوڑی دیر کے لیے میں اپنے پاس لے جاﺅں تاکہ اس دوران آپ ذرا آرام کرلیں“ ....خاتون نے اُسے اجازت دے دی۔ ایک گھنٹے تک اُس بچے نے اُس ایئرہوسٹس کے ناک میں دم کیے رکھا مگر ایئرہوسٹس نے سوئی ہوئی اُس خاتون کو جگانا مناسب نہیں سمجھا، ....میں سوچ رہا تھا پی آئی اے کی کوئی ایئرہوسٹس ہوتی اُس ”افلاطون بچے“ کے ساتھ ساتھ اُس کی ماں کو بھی جہاز سے باہر پھینک دیتی۔ !!


ای پیپر