Dangerous, PDM movement, PML-N, PPP, PTI, Maryam, Bilawal, Imran Khan
14 دسمبر 2020 (12:41) 2020-12-14

حکومت کے درجنوں وزیروں، ڈھیر سارے مشیروں اور بے شمار ترجمانوں کو خطرے کا احساس ہو نہ ہو، اوپر کہیں سے تسلی کا پیغام آگیا ہو، بابر اعوان اور شیخ رشید جیسے مشیر دلاسے دے رہے ہوںمگر سائرن تو بج رہا ہے۔ یہ خطرے کا سائرن ہے کان بند رکھنے یا آنکھیں موند لینے سے فائدہ؟ ریت میں سر دینے سے خطرات نہیں ٹلتے، پی ڈی ایم کی تحریک روز بروز زور پکڑ رہی ہے تصادم کی طرف بڑھ رہی ہے۔ میڈیا پر 24 گھنٹے بیان بازی سے بھی ’’ہجوم عاشقاں‘‘ کم نہیں ہو رہا مقدمات کی پروا نہ گرفتاریوں کا ڈر، کہا تھا ’’مگس کو باغ میں جانے نہ دینا کہ نا حق خون پروانے کا ہوگا‘‘ پروانے جل مرنے کی ٹھان چکے لوگ وزیروں، مشیروں اور ترجمانوں کے تلخ ترش بیانیوں کے باوجود باجی فردوس عاشق اعوان کی ’’راجکماری‘‘ کی ریلیوں میں پروانہ وار شریک ہو رہے ہیں۔ کرپشن کا نعرہ بتدریج افادیت کھو رہا ہے۔ کرپشن نظر آئے تو یقین کیا جائے بن دیکھے کیسے مان لیں مہنگائی حقیقت، روز روشن کی طرح نظر آتی ہے لوگ کرپشن سے نہیں کمر توڑ مہنگائی سے پریشان ہیں۔ مہنگائی سے تنگ عوام کو پی ڈی ایم کی شکل میں ایک پلیٹ فارم مل گیا ہے۔ جلسے، جلوس، ریلیاں، لانگ مارچ بپھرے ہوئے ہجوم اور بالآخر پالیمنٹ سے استعفے ’’یہاں تک تو پہنچے یہاں تک تو آئے‘‘ آ ہی گئے ہیں تو واپس پلٹنا مشکل، شاید اسی لیے مذاکرات کی پیشکشیںمسترد کردی گئیں۔ تحریکوں کے دوران شکوک و شبہات مشکلات بڑھا دیتے ہیں۔ کسی نے حکومت کے کان میں پھونک دیا کہ ڈٹے رہو، دسمبر جنوری سیاسی وائرس کا زور رہے گا۔ اس کے بعد راوی امن چین لکھتا ہے۔ چنانچہ وزیر اعظم نے یہ کہہ کر ڈھارس بندھائی کہ اپوزیشن مجھے جانتی نہیں جیت میری ہی ہوگی، یادش بخیر پچاس سال پہلے بھی مرحوم و مغفور نے کہا تھا۔ ’’میری کرسی مضبوط ہے‘‘ پھر اچانک لائن کٹ گئی تھی۔ مذاکرات کی پیشکش لیکن کدھر سے؟ ادھر ادھر سے، صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں۔ صاف کہہ دیں کہ ہاں آنا جانا۔ کیا حرج ہے ۔ ’’چڑھائی پر کمر سب کو جھکا کر چڑھنا پڑتا ہے‘‘ بقول احسن اقبال تین وزرا نے ن لیگ کی سینئر قیادت سے رابطے کیے ہیں۔ وزیر اعظم نے بھی لہجے میں ہلکی مٹھاس لاتے ہوئے مذاکرات کا عندیہ دیا۔ پارلیمنٹ میں آئو تحریک عدم اعتماد لائو۔ جانتے ہیں زندگی بھر کامیاب نہیں ہوسکتی۔ فضول کی پریکٹس، تضیع اوقات وقت گزاری کا مشغلہ، رابطوں کے سہولت کار اور ماہر چودھری سرور کی اسلام آباد طلبی، سب کچھ بڑی تاخیر سے کیا جا رہا ہے۔ ’’بڑی دیر کی مہرباں آتے آتے‘‘ کاش سب کچھ بہت پہلے ہوجاتا، لگتا ہے سائرن کی آواز سنائی دینے لگی ہے لیکن اقتدار میں ’’دشمن‘‘ کے خلاف گھن گرج اچھی لگتی ہے۔ سیاست میں دشمنی حرام، دہشتگردی کا خطرہ منڈلانے لگتا ہے۔ الرٹ جاری کردیے جاتے ہیں۔ اس لیے سیاسی مخالفین سے معاملات رکھ رکھائو اور دھیمے پن سے حل کیے جاتے ہیں۔ اسے این آر او نہیں مسائل کا جمہوری حل کہا جاتا ہے۔ یہاں ڈھائی تین سال سے مخالفین کا دشمنوں کی طرح پیچھا کیا جا رہا ہے۔ مذاکرات اس طرح نہیں ہوتے ،کشیدگی اور تنائو کے ماحول میں تو 

سرحدوں پر ’’سیز فائر‘‘ بھی کار آمد ثابت 

نہیں ہوتی کسی بھی حماقت سے گولہ باری شروع ہو جاتی ہے۔ مثبت مذاکرات کے لیے تحمل بردباری اور سازگار ماحول ضروری ،کوئی معتبر اور با اعتماد شخصیت سامنے آئے، بپھرے ہوئوں کو پیار محبت سے قریب لائے اور عزت و احترام سے مذاکرات کی میز پر بٹھا دے لوگ اسی ’’ہاتف غیبی‘‘ کے منتظر ہیں لیکن ’’آئے گا کون ریت کی دیوار تھامنے‘‘ پاکستان کی سیاست اشاروں میں یا اشاروں پر چلتی رہی ہے چل رہی ہے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ مذاکرات کس بات پر ہوں گے۔ کہا جائے گا تم جھک جائو ہم سربلند رہیں گے۔ بیانات سے تو یہی لگتا ہے کون مانے گا۔ شیخ رشید ریلوے میں اپنی ’’کامیابیوں کے جھنڈے‘‘ گاڑنے کے بعد وزیر داخلہ بنا دیے گئے 1991ء کے بعد سے 15 ویں بار وزیر بنائے گئے پہلی بار نواز شریف نے وزیر صنعت بنایا تھا۔ باتوں کی صنعت کو ترقی دیتے یہاں تک پہنچ گئے۔ بقول ایک تجزیہ کار ڈھائی سال میں 80 حادثات لیکن اس میں شیخ صاحب کا کیا قصور، سارا قصور سابق حکومت کا ہے جو 5 سال ٹیڑھی میڑھی گاڑیاں چلواتی رہی ٹرین ٹیڑھی چلے گی تو کہیں نہ کہیں تو پھسلے گی۔ شیخ صاحب تو سیدھے چل رہے ہیں۔ وزیر داخلہ بنتے ہی دھمکی جلسہ میں قانون کی خلاف ورزی ہوئی تو مقدمات بنیں گے۔ گرفتاریاں ہوں گی۔ بیان بازیوں کو چھوڑیں، آمدم برسر مطلب، مذاکرات کی پیشکش مسترد، گرفتاریوں کی دھمکیاں نظر انداز، حکومت کے اے بی سی پلان پر نو رد عمل، کسی نے ڈرتے ڈرتے پوچھا کیا پی ڈی ایم کی تحریک تصادم کی طرف بڑھ رہی ہے؟ لگتا تو یہی ہے۔لیکن اس پیمانے پر تصادم ملک و قوم کے لیے نیک شگون نہیں، ماضی میں اسی قبیل کے دلدوز واقعات گواہ کہ سوچے سمجھے بغیر اقدامات یا فرد واحد کے فیصلوں سے ملک دو لخت ہوا جمہوریت کی جڑیں کھوکھلی ہوئیں آج تک نہ پنپ سکی۔ کہتے ہیں ملک میں ایک بار 1970ء میں منصفانہ اور غیر جانبدارانہ الیکشن ہوئے تھے ہم سے ہضم نہ ہوئے ملک ٹوٹ گیا۔ اس کے بعد کتنے تجربے ہوئے پورا ملک تجربہ گاہ بن کر رہ گیا ترقی، خوشحالی، استحکام سب کچھ منجمد، ملک میں غیر سیاسی شورائی جمہوریت، فرشتوں کی پاک صاف جمہوریت اور آخر میں کنٹرولڈ جمہوریت نے جمہوری اقدار کی نشو و نما روک دی سیاستدانوں کی ہر بار نئی کھیپ لائی گئی سارے تجربات کی بھٹی میں سیاستدانوں ہی کو پگھلایا گیا۔ کئی کندن بن گئے کئی جل بجھے، بار بار وہی غلطیاں جن کی نشاندہی ملتان جلسے کے بعد عامر ڈوگر نے کی تھی۔ لاہور جلسے میں بھی اسی قسم کی پلاننگ سے کیا فائدہ، جلسے کی اجازت نہ دینے سے کیا حاصل ہوا۔ گرفتاریوں میں بھی تفریق بقول فاضل جسٹس سجاد علی شاہ بعض جگہ تو نیب کے پر جلتے ہیں۔ مضحکہ خیز گرفتاری، 2014ء میں 126 دن کے دھرنے کے دوران اپنے سائونڈ سسٹم سے رونق لگانے والے ڈی جی بٹ کو گرفتار کرلیا۔ 24 گھنٹے بعد ضمانت پر رہا ہونے پر کہنے لگا پولیس نے بڑا مارا تشدد کیا بہنوں کے نام پوچھتی رہی۔ صد حیف ہمیں کب عقل آئے گی۔ گرفتاریوں کے لیے مزید 370 کی فہرستیں، سب کا مقدر جیل لیکن کیا اس سے تصادم ٹل جائے گا؟ جلسوں کے بعد ریلیاں، لانگ مارچ اور بالآخر استعفے جنوری میں سینیٹ سمیت پارلیمنٹ سے استعفے آگئے تو سینیٹ کا الیکٹورل کالج متاثر ہوگا کہاں کے ضمنی انتخابات کہاں کی جمہوریت سب کچھ تلپٹ ہو جائے گا، مولانا فضل الرحمان کے بقول استعفے دھمکی نہیں حقیقت ہیں۔ ضمنی الیکشن نہیں ہوسکیں گے۔ مڈ ٹرم الیکشن ہوں گے۔ تماشا کرنے والوں کو خبر دی جا چکی ہے کہ پرانی ڈھیریاں ختم نئی ڈھیریاں بنیں گی۔ نیا نیلام ہوگا۔ سینیٹ میں برتری کا خواب بکھر جائے گا کیا کریں؟ سر پیٹنے یا ڈھنڈورا پیٹنے والوں کو آگے بڑھانے سے کوئی فائدہ نہیں حکومت تدبر کا مظاہرہ کرے پی ڈی ایم جواب میں تحمل دکھائے بات بن جائے گی۔ کہتے ہیں اوپر سے بھی ڈائیلاگ کا اشارہ ملا ہے شاہراہ جمہوریت کے خطرناک موڑ میں لگے آئینوں میں تصادم نظر آرہا ہے۔ اس خونریزی سے بچنے کا واحد راستہ مذاکرات، مذاکرات کے لیے باہمی رابطے، وزیر اعظم عمران خان اِدھر اُدھر کے مہروں کو آگے بڑھانے کی بجائے خود آگے بڑھیں، اتنی سی بات ہے کسی کی حمایت مخالفت نہیں مل بیٹھیں، آئین کو سامنے رکھیں اور پھر سے طے کریں کہ اداروں کے حقوق و فرائض کیا ہیں، اس کتاب میں سب کچھ لکھا 


ای پیپر