Sheikh Rashid, Interior Minister, proposal, Chief Minister of Punjab, Imran Khan
14 دسمبر 2020 (12:22) 2020-12-14

شیخ رشید کو وزیر داخلہ بنانے سے پہلے انہیں وزیر اعلیٰ پنجاب بنانے کی تجویز بھی آئی تھی لیکن پی ٹی آئی اور اتحادیوں کی شدید مخالفت کے بعد عمران خان نے وزارت داخلہ کا قلم دان انہیں دے دیا۔ گو کہ اب تک پی ٹی آئی کو انہیں بطور وزیر داخلہ بنانے پر بھی شدید تحفظات ہیں کیونکہ کچھ سینئر وزراء کا خیال تھا کہ وزارت داخلہ ایک اہم ترین وزارت ہے اور اس پر پی ٹی آئی کا اپنا بندہ ہونا چاہیے۔ ان کا دوسرا اعتراض یہ تھا کہ وزیر داخلہ کو بردبار اور ٹھنڈے مزاج کا ہونا چاہیے جبکہ شیخ رشید جیسے جذباتی شخص سے کل کلاں کچھ غلط ہو گیا تو سنبھالنا مشکل ہو جائے گا۔ پھر ریلوے میں ان کی کارکردگی 150 سے زائد حادثات اور سپریم کورٹ کے تحفظات کے حوالے بھی دیے گئے۔ ایک اعتراض یہ تھا کہ شیخ رشید ون مین شو ہے وہ پارٹی یا کسی کے ڈسپلن میں نہیں ہو گا۔ شیخ رشید ایسی باتوں پر بارہا تبصرہ کر چکے ہیں کہ ان کا پی ٹی آئی کی کابینہ میں ایک ہی ووٹ ہے اور وہ ہے عمران خان کا۔ جب عمران خان نے تمام اعتراضات مسترد کر دیے سو ہاتھی کے پاؤں میں سب کا پاؤں کے مصداق سب نے خاموشی میں ہی عافیت سمجھی۔ ایک ’’جہاندیدہ وزیر‘‘ کا کہنا تھا کہ جس طرح شیخ رشید کا نام اچانک وزارت داخلہ کے لیے آیا ہے لگتا ہے عمران خان پر کوئی دباؤ تھا۔ اسی وزیر کا کہنا تھا کہ ایک وقت میں شیخ رشید کو وزیر اعلیٰ پنجاب بنانے کی تجویز بھی آئی۔ وہ یوں کہ پنجاب حکومت کی پی ڈی ایم سے نمٹنے کی حکمت عملی سے عمران خان قطعی خوش نہ تھے اور پارٹی بھی نالاں تھی۔ وجہ یہ تھی کی پنجاب حکومت نے پی ڈی ایم کی احتجاجی سیاست سے نمٹنے کے لیے وزیر اعظم کی منشا کے مطابق سخت اقدامات نہیں لیے تھے۔ مزاج شناس شیخ رشید نے جب دیکھا کہ ’’بادشاہ‘‘ پنجابی سے خوش نہیں ہے تو اس حوالے سے ایک اجلاس میں پنجاب حکومت کی حکمت عملی پر شدید تنقید کی اور عمران خان کو بڑھ چڑھ کر تجاویز دیں۔ انہوں نے راجہ بشارت کی جگہ کوئی دبنگ وزیر داخلہ لانے پر بھی زور دیا۔

دروغ بہ گردن راوی شیخ رشید کے حوالے سے یہ بھی بتایا گیا کہ انہوں نے تو تجویز دی کہ مولانا فضل الرحمان، بلاول بھٹو اور مریم نواز کو ان کے گھروں میں نظر بند کر دیا جائے لیکن فوری طورپر اس تجویز کو پذیرائی نہ مل سکی۔ کہتے ہیں عمران خان نے اپنی کچن کیبنٹ اور ’’مشیر خاص‘‘ سے بھی اس شیخ رشید کی وزارت اعلیٰ 

کے حوالے سے بات کی جس پر عمران خان کو باور کرایا گیا کہ گجرات کے چودھریوں اور پارٹی کی اندرونی مخالفت کی وجہ سے یہ ٹاسک ممکن نہ ہو گا اور پنجاب بھی ہاتھ سے نکل سکتا ہے۔ جس کے بعد عمران خان کو بادل نخواستہ پیچھے ہٹنا پڑا۔ کچھ آوازیں یہ بھی آئیں کہ پنجاب کے معاملات کے حوالے سے تجربہ کار پرویز الٰہی کو وزیر اعلیٰ بنا دیا جائے لیکن اس تجویز کو خود عمران خان نے یکسر مسترد کر دیا۔ پی ٹی آئی خیبر پختون خوا سے تعلق رکھنے والے وزراء نے بھی اس کی شدید مخالفت کر دی اور کہا کہ اس صورت میں ہمیں متحرک وزیر اعلیٰ تو شاید مل جائے لیکن اگلے انتخابات تک پارٹی ٹوٹ پھوٹ جائیگی جبکہ اقتدار کے آخری دو سال کسی بھی حکومت کیلئے انتہائی اہم ہوتے ہیں ایسی صورت میں پارٹی سے باہر کسی کو وزیر اعلیٰ پنجاب بنانا سیاسی خودکشی ہو گا۔

دوسری طرف اپوزیشن سے بڑھتی ہوئی تلخی کے پیش نظر ’’اسٹیبلشمنٹ‘‘ نے عمران خان کو اپوزیشن سے از خود رابطہ کرنے اور معاملات درست کرنے کا مشورہ دے دیا۔ یہ بھی کہا گیا اپوزیشن کی تحریک کے خلاف طاقت کے استعمال سے گریز کریں کیونکہ ملک اس وقت خصوصاً اسلام آباد میں کسی افراتفری کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ کچھ ’’جہاندیدہ‘‘ وزراء نے وزیر اعظم کو قوم سے خطاب کر کے اپوزیشن کو سیاسی مذاکرات کی دعوت دینے کو کہا لیکن ابھی تک ان کی تجویز کو پذیرائی نہیں مل سکی۔ لیکن شنید ہے کہ اپوزیشن کے وجود سے ہی انکاری عمران خان نے ’’جماندرو‘‘ وزراء کی تجویز پر اس حوالے سے مذاکراتی کمیٹی بنانے کا عندیہ دیا ہے۔

فواد چودھری کہتے ہیں عوام کے مفاد میں احتجاجی سیاست کو ملتوی ہونا چاہئے، مذاکرات کا ماحول بنانا ضروری ہے وہ شخصیات جن کا عمومی احترام ہے اور جو حکومت اور اپوزیشن دونوں میں احترام کی نظر سے دیکھے جاتے ہیں وہ آگے آئیں اور مذاکرات کا ماحول بہتر بنانے میں کردار ادا کریں، تلخیاں کم کریں ملک کیلئے ضروری ہے۔ لیکن ماحول سازگار کیسے ہو گا جب وزیر اعظم کی طرف سے اپوزیشن کو ملک دشمن اور مخاطب ہی چور ڈاکو کے ناموں سے کیا جائے گا۔ سونے پر سہاگہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی فرماتے ہیں کہ اپوزیشن کو غیر ملکی طاقتوں کی طرف سے ملک میں افراتفری پھیلانے کا ٹاسک ملا ہے۔ ایسے بیانات مذاکرات کیلئے سازگار ماحول کے بجائے تصادم کی طرف لے جاتے ہیں۔ اللہ پاک ہم پر رحم کرے اور عاقبت نااندیش حکومتی وزرا کو اپنا رویہ درست کرنے کی توفیق دے اور حکومت کو بھی ہدایت دے کہ وہ عقل کے ناخن لے۔ آمین

قارئین کو یاد ہو گا کہ فواد چودھری صاحب نے وزیر اعظم عمران خان سے منسوب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کی حکومت کے پاس دسمبر تک کا وقت ہے اور بقول ان کے وزیر اعظم نے خبردار کیا ہے کہ اگر ہم کارکردگی نہ دکھا سکے تو ان کی جگہ کوئی اور آ جائے گا۔ اس ضمن میں میری تحقیق کے مطابق ’’اسٹیبلشمنٹ‘‘ نے عمران خان حکومت کو دو سال سیاہ و سفید کے اختیارات کے ساتھ بھرپور حمایت کا وعدہ کیا تھا۔ اس کے بعد حکومت کو اپنی کارکردگی کی بنیاد پر آگے بڑھنا تھا لیکن کارگردگی دن بہ دن نیچے گرتی رہی۔ پھر معروف ’’Extension‘‘ کے بعد یہ مدت 6 ماہ مزید بڑھا دی گئی۔ جیسا کہ فواد چودھری نے بھی کہا کہ یہ مدت دسمبر میں ختم ہو رہی ہے۔ لیکن حکومتی کارکردگی ترقی کے اہداف اور عوام کو ریلیف دینے کے بجائے تمام تر توانائیاں اپوزیشن کو دبانے پر صرف کرنے کی وجہ سے تنزلی کی طرف جا رہی ہے۔ اب سنا ہے کہ ’’اسٹیبلشمنٹ‘‘ سے مارچ کے سینیٹ انتخابات تک کا وقت مانگا جا رہا ہے کہ قانون سازی میں اپوزیشن کی طرف سے رکاوٹ کی وجہ سے حکومت کی کارکردگی کی راہ میں رکاوٹیں حائل تھیں اور سینیٹ میں اکثریت حاصل کر کے یہ رکاوٹ دور ہو جائے گی اور وہ ’’توقعات‘‘ کے مطابق پرفارم کرنے کی کوشش کریں گے۔ بظاہر لگتا ہے اس ایکسٹینشن کا تمام تر دارومدار پی ڈی ایم کی مؤثر تحریک پر ہے کہ وہ کس حد تک لوگوں کو حکومت مخالف تحریک کی طرف قائل کر سکتی ہے۔

حکومت کے تمام تر دباؤ اور رکاوٹوں کے باوجود پی ڈی ایم کا لاہور کا جلسہ ہونے جا رہا ہے۔ حکومت نے بھی تمام رکاوٹیں دور کر کے گیند اب پی ڈی ایم کے کورٹ میں ڈال دی ہے۔ لیکن لگتا ہے لاہور کا جلسہ صرف مسلم لیگ ن کا در سر ہے جبکہ پیپلز پارٹی مکمل خواب خرگوش کے مزے لے رہی ہے۔ جلسہ کے حوالے سے ورکروں کو متحرک کرنے کے لیے کوئی حکمت عملی نہیں۔ حتیٰ کے اپنی موجودگی کا احساس دلانے کے لیے پارٹی کے جھنڈے بھی 


ای پیپر