US nuclear strategy, nuclear powers, Pakistan, India
14 دسمبر 2020 (12:11) 2020-12-14

آج دنیا میں طاقت کے دائرے بہت وسیع نہیں رہے۔ گلوبلائزیشن، ٹیکنالوجی اور موسمیاتی تبدیلی جیسی قوتیں ہمارے گرد ہر چیز کو نئی شکل دے رہی ہیں۔ تھامس ایل فریڈمین کے مطابق یہ تمام قوتیں ایک ہی وقت میں رفتار پکڑ رہی ہیں۔ یہ دلچسپ دور ہے جس میں عالمی اور علاقائی سطح پر تبدیلیاں انوکھی نہیں۔ دنیا توقع کرتی ہے کہ عام باتوں سے ہٹ کر کچھ ہو، کیونکہ گلوبلائزیشن، ٹیکنالوجی اور موسمیاتی تبدیلی کی قوتیں بیک وقت تیزی سے زور پکڑ رہی ہیں۔

امریکہ اپنی نیوکلیئر سٹریٹجی (این پی آر) ازسرنو لکھ رہا ہے، جو 2010ء کے این پی آر سے یکسر مختلف ہے، جس میں نیوکلیئر پروگرام کی مکمل تخفیف کی نہیں، محدود کرنے کی بات کی گئی ہے۔ نئی امریکی این پی آر اس کہاوت کا اظہار ہو گی، ’’دوستوں کو قریب، جبکہ دشمنوں کو قریب تر رکھو‘‘۔ نئی نیوکلیئر سٹریٹجی کا ڈرافٹ صدر ٹرمپ کو بھیج دیا گیا ہے۔ اس کے تحت نیوکلیئر ہتھیار پہلے استعمال کرنے کی اجازت ہو گی تاہم غیر نیو کلیئر سٹریٹجک حملوں کا بھی خیال رکھا جائے گا، جیسے امریکی سرزمین، اتحادیوں، پارٹنرز، سول آبادی، انفراسٹرکچر، اتحادی نیوکلیئر فورسز اور ان کا کمانڈ اینڈ کنٹرول، نیشنل گرڈ اور انٹرنیٹ کے ذریعے سائبر حملے وغیرہ۔ اس ڈرافٹ میں چھوٹے نیوکلیئر ہتھیاروں کی بات کی گئی ہے۔ پالیسی سازوں کا خیال ہے کہ موجودہ امریکی نیوکلیئر ہتھیار بہت بڑے اور اس قدر مہلک ہیں کہ استعمال نہیں ہو سکتے، جس کے باعث ہمیشہ سے استعمال میں رکاوٹ رہے ہیں۔ اس لئے دنیا کو پیغام دیا جا رہا ہے کہ امریکہ نیوکلیئر طاقت استعمال کر سکتا ہے جو کم طاقت والے ٹیکٹیکل نیوکلیئر ہتھیاروں پر مبنی ہو گی۔

کوئی بھی نیوکلیئر ہتھیار جس کی طاقت 20 کے ٹی سے کم ہو، وہ ہلکی توانائی کا ہتھیار ہو گا۔ 2010ء کے این پی آر میں ٹیکٹیکل ہتھیاروں کو امریکی دفاعی اسلحے سے نکال دیا گیا تھا۔ نیا ڈرافٹ نئے حقائق پیش نظر رکھ کر تیار کیا گیا ہے، جن کے مطابق روس، چین، ایران اور شمالی کوریا کی وجہ سے سٹرٹیجک صورتحال مایوس کن ہے۔ نیوکلیئر سٹریٹجی کی بنیاد انوکھے تقاضے ہیں۔ برنارڈ بروڈی نے ایک موقع پر نیوکلیئر سیاست کی تعریف پیش کی، مگر تب یہ ہتھیار خام حالت میں تھا۔ ہنری کسنجر نے اپنی کتاب ’’نیوکلیئر ویپن اینڈ فارن پالیسی‘‘ میں نیوکلیئر ابہام پر بحث تفصیل سے بیان کرنے کی کوشش کی ہے۔ دوسری جنگ عظیم کا زمانہ پہلے نیوکلیئر دور اورجوہری سیاست پر تھا۔ سرد جنگ اور دوسرا نیوکلیئر دور جوہری سٹریٹجی سے متعلق تھا۔ تیسرا نیوکلیئر دور سرد جنگ کے بعد کا ہے، یہ بھی نیوکلیئر سیاست پر مبنی ہے۔ صرف ٹرمپ نے ہی نیوکلیئر پالیسی میں تبدیلی نہیں کی، بلکہ یہ عالمی کیفیت بن چکی ہے۔ ممکن ہے کہ کچھ اقوام جنگیں مول لینے کی خواہاں ہوں، مگر وہ نہیں چاہیں گی کہ نیوکلیئر ہتھیار انہیں دشوار ترین صورتحال میں لے جائیں۔

امریکہ دنیا کی پہلی نیوکلیئر طاقت ہے اور ہر کسی کیلئے رہنما کی حیثیت رکھتا ہے۔ اگر امریکہ اپنی نیوکلیئر سٹریٹجی کی از سرنو تعریف کر رہا ہے، کچھ اختیار پاکستان کو بھی ملنا چاہیے۔ بھارت پہلے سے ہی اس راہ پر گامزن ہے۔ بھارتی آرمی چیف کی پاکستانی نیوکلیئر پروگرا م سے متعلق گیڈر بھبکی اور سرحد پار کرنے دھمکیاں بھارت کی نئی نیوکلیئر سٹریٹجی کے بارے میں بہت کچھ بیان کرتی ہیں۔ بھارت کی نیوکلیئر آڑ میں پاکستان کے ساتھ جنگ کی منصوبہ بندی ممکن ہے۔ بھارتی آرمی چیف جو گل فشانی فرما رہے ہیں، بھارتی حکومت کی تائید اس میں یقینا شامل ہے۔ پاکستان کے بارے میں بدلتی نیوکلیئر حکمت عملی کے پس منظر کاجائزہ حقائق کو مدنظر رکھ کر لینا ضروری ہے۔

پاکستان کی نیوکلیئر سٹریٹجی ابتدائی طور پرغیر واضح تھی، تاہم اب اس کے خدوخال دانستہ چوائس کے طور پر واضح ہو رہے ہیں۔ اس کا ایک پہلو جغرافیائی سالمیت کو خطرہ لاحق ہونے کی صورت میں نیوکلیئر کا پہلے استعمال ہے۔ ایک پہلو نیوکلیئر ٹیسٹ کی اس وقت تک معطلی ہے جب تک بھارت ایسا کرنے پر مجبور نہ کرے۔

نیوکلیئر سٹریٹجی کا نمایاں اصول جامع تسدید ہے جو کہ کم از کم ٹھوس تسدید کا تبدیل شدہ حصہ ہے۔ آج امریکہ یہی کچھ چھوٹے نیوکلیئر یا ٹیکٹیکل ہتھیاروں سے حاصل کرنے کا جائزہ لے رہا ہے۔ پاکستان کئی سال سے اسی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ پاکستان نے جامع تسدید کی جانب قدم بڑھایا ہے، اسے حاصل کرنے کیلئے ایک طرف 2750 کلو میٹر رینج کا حامل شاہین III ہے، دوسری طرف 60کلومیٹر رینج کا نصر میزائل ہے۔ شاہین III انڈیمان اور نیوبار جزائر میں بھارت کی نیوکلیئر تنصیبات کو نشانہ بنا سکتا ہے، دوسری مرتبہ حملہ کرنے کی بھارتی صلاحیت کا توڑ بھی ہے۔ پاکستان کے نیوکلیئر ہتھیاروں کی سکیورٹی انتہائی مؤثر ہے، جس میں وہ کہیں بھی نصب نہیں۔ دوسری مرتبہ وار کرنے کی استعداد سمندر میں ہے اور اس میں بڑے پیمانے کی جوابی کارروائی کے برعکس ضرورت کے مطابق جواب دینے کا عنصر نمایاں ہے۔

زمینی کروز میزائل بابر جس کی رینج 700 سے 750 کلومیٹر ہے اور 350 کلومیٹر رینج کے حامل RAAD ایئر بیسڈ کروز میزائل بھارت کے بیلسٹک میزائل ڈیفنس سے نمٹنے کیلئے تیار کئے گئے ہیں۔ بیلسٹک میزائل ڈیفنس بھارت کو جارحیت کی جانب مائل کر سکتا ہے۔ پہلے استعمال کی آپشن کو انتہائی سطح کی آپریشنل صلاحیت، معتبر اور ٹھوس انٹیلی جنس، مؤثر الیکٹرونک ذرائع سے بروئے کارلایا جائیگا۔

عدم توازن کا روایتی تصور غلط فہمی کے علاوہ کچھ نہیں۔ پاکستان کی فوجی صلاحیت کئی گنا بڑھ چکی ہے، یہی وجہ ہے کہ ماضی کے سٹریٹجک آپشن آج آپریشنل حقائق بن چکے ہیں۔ پاکستان تسدید کو ساکن نہیں بلکہ فعال نظریہ خیال کرتا ہے، جس کی بنیاد کاؤنٹر ویلیو اور کاؤنٹر اہداف دونوں ہیں۔ نکوبار جزائر سے قریبی جنگی میدانوں تک سٹریٹجک سپیکٹرم ہر لحاظ سے جامع حد تک پھیلا ہوا ہے۔ بھارتی آرمی چیف جنرل راوت کو پاکستان کا نیوکلیئر بلف ٹیسٹ کرنے سے قبل نیوکلیئر سٹریٹجک یا نیوکلیئر پالیٹکس سے سبق حاصل کرنا چاہیے کیونکہ جنگ کی شدت کنٹرول کرنا اور اس کا خاتمہ دو ایسے نظریے ہیں جن کی پہلی مرتبہ نیوکلیئر بٹن دبانے کے فوری بعد موت ہو جاتی ہے۔وہ سینے پر بندوقیں سجانے والے فلمی فوجیوں جیسی کامیڈی کرتے محسوس ہوتے ہیں۔ امریکہ کی نئی این پی آر دستاویز کی وجہ سے جو ہلچل پیدا ہو گی، وہ نیوکلیئر طاقتوں کو اپنی اپنی نیوکلیئر سٹریٹجی کے ازسرنو جائزے پر مجبور کر دے گی۔ اس سے نیوکلیئر میزائل پر سواری کرنیوالے ڈاکٹر سٹرینج لوو جیسے فلمی کردار کی گنجائش ہو گی، جو کہ آئندہ بننے والی کسی مضحکہ خیز کامیڈی فلم کے ہیرو ہونگے۔ امریکی فلمی ادارہ گزشتہ 100 سال کے دوران بننے والے 100 مزاحیہ ترین فلموں میں ایک نئے نام کا اضافہ کرے گا۔

آج نیوکلیئر سٹریٹجی کے ازسرنو جائزے کے دور میں پاکستان کی امریکہ کیساتھ سفارتی ہم آہنگی ناگزیر ہے۔ بھارت کی سافٹ پاور فیکٹریاں پاکستان سے متعلق جو عینکیں تیار کر رہی ہیں، ان کا ہر زاویہ پاکستان کی منفی تصویر کشی کرتا ہے۔ اعتراض کرنے کے بجائے پاکستان کو زاویہ تبدیل کرنا 


ای پیپر