PTI Government, incompetence, negligence, PML-N, PPP
14 دسمبر 2020 (11:58) 2020-12-14

پاکستان میں حکومت کسی کی ہو، تحریک انصاف کی ہو، مسلم لیگ ن کی ہو، پیپلز پارٹی کی ہو یا کسی اور پارٹی اور اتحاد کی، سویلین ہو یا فوجی ہو۔ کچھ امور یا خصوصیات ایسی ہیں جنہیں ہر حکومت کا خاصا اورـ" مشترکہ ورثہ" قرار دیا جا سکتا ہے۔ ان میں گڈ گورنس کا فقدان ، حکومتی اہلکاروں اور عہدیداروں کی نا اہلی ، سرکاری محکموں کا روایتی تساہل اور غفلت شعاری اور دفتری سرخ فیتے کی کارفرمائی ایسے امور ہیں جو ہر دور میں جلوہ گر چلے آ رہے ہیں اور ان میں تبدیلی کی کوئی امید بھی نہیں۔اس ضمن میں ایشیائی ترقیاتی بینک کی حال ہی میں سامنے آنے والی یہ رپورٹ ایک ٹھوس شہادت کے طور پر پیش کی جا سکتی ہے۔ جس میں بینک کی طرف سے پاکستان کو دی گئی 7ارب ڈالر کی مالی معاونت کے استعمال میں تاخیر اور اسی طرح کے دوسرے معاملات کا ذکر کیا گیا ہے۔ اور کہا گیا ہے کہ 2015سے 2019ء کے دوران اس امداد یا مالی معاونت کے استعمال میں بے جا سست روی اور بعض دوسری کوتاہیوں کا مظاہرہ سامنے آیا ہے۔ بینک کے آزادانہ تجزیاتی شعبے نے اس امر پر تشویش کا اظہار کیا ہے کہ پاکستان میں ترقیاتی منصوبوں کے لیے بینک کی فراہم کردہ 7ارب ڈالر کی مالی معاونت ان منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے میں ان کے لیے ضروری ادارہ جاتی اور ساختیاتی اصلاحات کی تکمیل میں سیاسی حمایت کی کمی، ناکافی عملے اور ضروری مالی وسائل کی فراہمی میں لیت و لعل کی وجہ سے سست روی کا شکار رہی اور ان سے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو سکے۔ بینک کی رپورٹ کے مطابق بینک کے تعاون سے متعلقہ ترقیاتی منصوبوں میں توانائی، مالیات، پبلک سیکٹر مینجمنٹ ، ٹرانسپورٹ، پانی، زراعت، قدرتی وسائل، شہری سہولیات اور خدمات سے متعلق منصوبے شامل تھے۔ جن میں اصلاحات ادھوری رہیں اور مختلف مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ خاص طور پر توانائی کے شعبے میں جہاں توانائی کی پیداوار اور اس کا استعمال ایک دوسرے سے ہم آہنگ نہیں۔ رپورٹ میں حکومتِ پاکستان کی کارکردگی کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ حکمتِ عملی کی سطح پر حکومت نے متعدد شعبوں میں بینک کے پورٹ فولیوز کی تسلی بخش راہنمائی نہیں کی۔ 

ایشیائی ترقیاتی بینک کے تجزیاتی شعبے کی یہ رپورٹ ہماری آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہونی چاہیے کہ حکومتی اور پبلک سیکٹر کی سطح پر مختلف پروجیکٹس (منصوبوں) کی پلاننگ (منصوبہ بندی)، ان کے لیے وسائل کی فراہمی ، ان کے استعمال اور ان کی بروقت تکمیل کے حوالے سے بحیثیت مجموعی ہمارا انداز فکر و عمل اور ہمارا رویہAttitute کیا ہوتا ہے اور حکومتی محکمے اور 

ذمہ دار شخصیات اس ضمن میں کس حد تک لاپروائی ، کوتاہی، غیر ذمہ داری، بے اعتنائی، تساہل اور خود غرضی کا مظاہرہ کرتی ہیں۔ ہم ایک طرف عالمی مالیاتی اداروں کے سامنے ہاتھ پھیلائے رکھتے ہیں کہ ہمیں ان کی طرف سے قرضہ ملے اور ہم اپنے بجٹ کے خسارے کو کم کرنے ، پہلے سے لیے گئے قرضوں کی اقساط ادا کرنے اور دوسری ضروریات کو پورا کرنے کا اہتمام کر سکیں۔ دوسرے طرف ہمارا عمومی رویہ یہ ہوتا ہے کہ ہم ناقص منصوبہ بندی، روایتی نا اہلی اور سستی اور بعض صورتوں میں نیچے سے اوپر تک ذاتی اغراض مندی اور مفاد پرستی کی بناء پر ان قرضوں یا گرانٹس یا مالی معاونت کو بروقت اور صیح طور پر استعمال نہیں کر پاتے۔ اس طرح قرضوں کے بوجھ کے نیچے تو ہم دب جاتے ہیں لیکن ان سے مطلوبہ فوائد اور معاونت حاصل کرنے سے محروم رہتے ہیں۔ 

یہ کوئی کم المیہ نہیں کہ موجودہ حکومت کے اڑھائی سال کے عرصے میں 7.8ارب ڈالر سے زائد کے غیر ملکی قرضے لیے گئے ہیں جو قیامِ پاکستان سے اب تک لیے جانے والے کل غیر ملکی قرضوں کا 44%بنتے ہیں۔ اسی طرح ملکی قرضے بھی 42ہزار ارب روپے سے زاید کے قرضے بھی انتہائی حد کو چھو رہے ہیں اور موجودہ حکومت کے تقریباً30ماہ کے دور میں ان میں کم و بیش 16ہزار ارب روپے کا اضافہ ہوا ہے۔ دوسرے لفظوں میں ہر مہینے میں 600ارب یا روزانہ 20ارب روپے کا قرض لیا جا رہا ہے۔ 

موجودہ حکومت کے دور میں ملکی اور غیر ملکی قرضوں میں ہوشرباء اضافہ ایک مکمل موضوع ہے جس پر الگ سے اظہارِ خیال کیا جانا چاہیے۔ دیکھنا ہوگا کہ ایشائی ترقیاتی بینک نے جن شعبوں میں ہمیں مالی معاونت فراہم کرنے کا پروگرام بنایا یا ہم نے بینک سے معاونت حاصل کرنے کی منصوبہ بندی کی ، ان شعبوں میں ہماری نا اہلی، سستی، تاخیر یا بینک کو مطلوبہ معاونت فراہم کرنے میں کوتاہی (اس کی ذمہ داری خواہ کسی پر بھی عائد ہوتی ہو) کی وجہ سے کتنا نقصان اُٹھانا پڑا ہے اور اس کے ساتھ ایک عالمی مالیاتی ادارے کے نزدیک ہمارے ملک میں انتظام و انصرام کے حوالے سے ہماری مجموعی کارکردگی پر جو حرف آیا ہے اس کا کیوں کر مداوا کیا جا سکتا ہے، یقینا نہیں۔ہمیں سمجھنا چاہیے کہ ایشیائی ترقیاتی بینک کی معاونت سے استفادہ کے لیے اوپر جن شعبوں کا ذکر آیا ہے وہ تمام ہی شعبے اہمیت کے حامل سمجھے جا سکتے ہیں۔ تاہم ان میں سے کچھ شعبے واقعی ایسے ہیں جن کے لیے ہمیں بھرپور معاونت کی ہی ضرورت نہیں بلکہ ان میں ضروری اصلاحات کرکے اور ان کو بہتر بنا کر ان سے بھرپور استفادہ کرنے کی بھی ضرورت ہے۔ بلاشبہ پبلک سیکٹر مینجمنٹ ، ٹرانسپورٹ ، پانی ، زراعت، قدرتی وسائل، شہری سہولیات اور خدمات ایسے شعبے ہیں جو ہمارے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کو بہتر بنانا اور ان سے بھرپور استفادہ کرنا ہمارے لیے اہمیت کا حامل ہے کہ اس سے ملک کو درپیش کئی طرح کے مسائل کو حل ہی نہیں کیا جا سکتا ہے بلکہ عوام کو ضروری سہولیات بھی مل سکتی ہیں۔ 

اسی طرح ٹرانسپورٹ کے بہترین ذرائع، پانی کے وافر وسائل، زراعت کی ترقی اور قدرتی وسائل کی فراہمی ، عوام کی ضروریات اور سہولیات کے لیے اہم نہیں بلکہ ملکی معیشت کی ترقی اور پھیلاؤ کے لیے بھی ضروری ہیں۔ سابقہ حکومت کو اس بات کا کریڈٹ جاتا ہے کہ اس نے سی پیک کے تحت موٹر ویز اور شاہراوں کی تعمیر و ترقی پر بھرپور توجہ دی اور لاہور، راولپنڈی اور ملتان جیسے بڑے شہروں میں میٹرو بس سروس اور اورنج ٹرین سروس کے کثیر المقاصد اور عوامی فلاح کے منصوبوں کو ریکارڈ وقت میں مکمل کرکے ان شہروں میں عوام کو ٹرانسپورٹ کی بہترین سہولتیں بھی فراہم کیں۔ اس کے مقابلے میں خیبر پختونخواہ کے دارالحکومت پشاور میں لوکل ٹرانسپورٹ بی آر ٹی کا تذکرہ کچھ ایسا بے جا نہیں ہوگا۔ تحریکِ انصاف کی صوبائی حکومت کے پچھلے دور میں شروع ہونے والا یہ منصوبہ دو سال کی تاخیر سے جہاں مکمل ہوا وہاں اس پرابتدائی تخمینے کے مطابق49ارب روپے کے بجائے 66ارب روپے کی لاگت آئی۔ اس کے ساتھ خیبر پختونخواہ کی صوبائی اسمبلی میں جمع کرائی گئی ایک رپورٹ کے مطابق 2ارب 77کروڑ47لاکھ مالی بے ضابطگیاں ہوئیں اور چیف سیکرٹری سمیت کئی افسران نے 1 کروڑ 77 لاکھ کی اضافی تنخواہیں بھی وصول کیں۔ خیر یہ جملہ معترضہ ہم اس سے ہٹ کر شہری سہولیات اور خدمات کے شعبے کی طرف واپس آتے ہیں۔ کون نہیں جانتا کہ موجودہ دور میں کسی بھی معاشرے میں شہری سہولیات اور خدمات لازمہ حیات کی حیثیت رکھتی ہیں اس کے لیے جہاں لوکل گورنمنٹ ادارے اہم کردار ادا کرتے ہیں وہاں صوبوں اور وفاق کی سطح پر دیہات و قصبات اور شہروں کے لیے کئی طرح کے ترقیاتی منصوبے اور امدادی پیکج سامنے آتے ہیں۔ اسے المیہ ہی کہا جائے گا کہ ہمارے ہاں جہاں بلدیاتی اداروں کے انتخابات نہ ہونے کی وجہ سے نچلی سطح پر شہری سہولیات اور خدمات کا سلسلہ تعطل کا شکار ہے وہاں صوبوں اور وفاق کے تحت ترقیاتی 


ای پیپر