Different angles, life, Mian Imran Ahmad
14 دسمبر 2020 (11:53) 2020-12-14

 یاد رکھیے زندگی کے چھوٹے چھوٹے لمحے ساری زندگی نہیں ہوسکتے۔ ہم ایک چھوٹے سے برے واقعے کو پوری زندگی پر محیط کر لیتے ہیں اور مرتے دم تک اس کو اپنے ساتھ چپکائے رکھتے ہیں۔ ہم آج کے ایک برے لمحے کو بنیاد بنا کر پوری زندگی کا فیصلہ سنا دیتے ہیں کہ میری ساری زندگی برباد ہو گئی۔ یہی ہمارے ہاں مایوسی اور ڈپریشن کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ جبکہ حقیت یہ ہے کہ برا وقت آپ کی زندگی کے کروڑوں لمحوں میں سے ایک لمحہ ہوتا ہے۔جس نے ابھی گزر جانا ہے۔ جس نے ہوا میں تحلیل ہو کر ماضی کا حصہ بن جانا ہے۔ اب فیصلہ آپ نے کرنا ہے کہ آپ نے اسے پوری زندگی سمجھنا ہے یا ایک لمحہ۔ یاد رکھیے زندگی گزارنے کا سلیقہ اللہ کی عطا کی گئی نعمتوں میں سے ایک ہے۔ زندگی گزارنے کا سلیقہ سیکھیں اور اللہ کے محبوب لوگوں میں شامل ہو جائیں۔قارئین ہم اس دنیا میں آئے ہیں اور ایک دن سب چلے جائیں گے۔ نہ آپ رہیں گے نہ میں رہوں گا۔ اگر کچھ رہ جائے گا تو وہ ہمارا اخلاق، محبت اور حسن سلوک ہے۔ یہی تین چیزیں اطمینان اور سکون کے لیے کافی ہیں۔ آپ کتنے اہم ہیں اس کا اندازہ آپ صرف اس بات سے لگا لیں کہ قدرت کروڑوں روحوں میں سے آپ کا انتخاب کرتی ہے۔ پھرآپ کو دنیا میں بھیجا جاتا ہے۔ ہاتھ آنکھ منہ اور نہ جانے کیا کیا نعمتیں عطا کی جاتی ہیں۔دولت، عزت، ہم سفر، خاندان اور اولاد سے نوازا جاتا ہے۔ دنیا جہاں کی نعمتیں آپ کے سامنے رکھ دی جاتی ہیں۔ کائنات کی خوبصورتی آپ پر عیاں کر دی جاتی ہے۔ آپ کسی دن فرصت کے لمحات میں کرسی پر بیٹھ کر کھلے آسمان پر نظریں جما کر سوچیں کہ اللہ نے یہ سب کچھ آپ کو ہی کیوں عطا کیا ہے۔ کروڑوں روحیں دنیا میں آنے سے پہلے ہی ختم ہو جاتی ہیں۔ لیکن اللہ نے آپ کو منتخب کیوں کیا ہے۔ آپ جلد ہی اس نتیجے پر پہنچ جائیں گے کہ آپ خوش قسمت ہیں۔ شاید قدرت آپ کو اپنی کائنات دکھانا اور آپ کو مسکراتا ہوا دیکھنا چاہتی ہے۔ جب بنانے والا آپ کو خوش دیکھنا چاہتا ہے تو پھر آپ کیوں اداس رہنا چاہتے ہیں۔ جب وہ آپ کو اہمیت دیتا ہے تو آپ خود کو اہمیت کیوں نہیں دیتے۔ آپ کی زندگی کیسی 

ہو اس کا نوے فیصد دارومدار آپ پر ہوتا ہے۔ جو اپنی زندگی مینج نہیں کر پاتے وہ دوسروں کو کوستے ہیں اور انھیں ذمہ دار ٹھہرا کر خود کو تسلیاں دیتے ہیں۔ اور جنھیں زندگی کی سمجھ آ جاتی ہے وہ یہیں اپنی چھوٹی سی جنت بنا لیتے ہیں۔ خود بھی خوش رہتے ہیں اور دوسروں کو بھی مسرتیں بانٹنے کا سبب بنتے ہیں۔ آپ یقین جانیے کہ آپ کے فیصلے، سوچ صلاحیتیں بے معنی نہیں ہیں۔ آپ اتنے ہی اہم ہیں جتنا ملک کاوزیراعظم اہم ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ آپ نے اپنی صلاحیتوں کا بھرپور استعمال کرنا ہے۔ کوئی آپ کو اہمیت دے یا نہ دے لیکن آپ نے خود کو اہمیت دینا نہیں چھوڑنا۔ آپ نے یہ نہیں سوچنا کہ آپ کے پاس کیا نہیں ہے بلکہ اس پر فخر کرنا ہے کہ آپ کے پاس کیا کچھ ہے۔ آپ کی اصل طاقت آپ کی سوچ ہے۔ بہترین زندگی یہی ہے کہ آپ نے موجودہ وسائل کو استعمال کر کے کس طرح خوش رہنا ہے۔ آپ اپنے ارد گرد کامیاب لوگوں کو دیکھیں تو یہ مشاہدہ کر پائیں گے کہ زندگی کا ہر خوش رہنے والا شخص اپنے وسائل میں خوش ہے۔ چاہے وسائل کم ہیں یا زیادہ۔ اس سے فرق نہیں پڑتا۔ وہ ان سے قطع نظر ہو کر خوش رہتے ہیں۔ کیونکہ انھوں نے خوش رہنے کا گْر سیکھ لیا ہے۔ 

زندگی کو بھرپور طریقے سے گزارنے کے لیے ضروری ہے کہ کوئی آپ کو بیوقوف کہے یا ناکام کہے لیکن آپ نے پرواہ نہیں کرنی۔ اپنی دھن میں محنت کرتے جائیں۔ چھوٹا سوچنے سے گریز کریں۔ ملکی اور عالمی سطح کی اپروچ پر کام کریں۔ ابتدا میں لوگ آپ پر ہنسیں گے لیکن یقین جانیے کہ اگر آپ اپنے راستے پر جمے رہے، آندھیوں اور طوفانوں سے آپ کے قدم نہ اکھڑے اور مثبت سوچ کے ساتھ آگے بڑھتے رہے تو یہ دنیا آپ کے پیچھے ہو گی اور آپ آنے والی نسلوں کے لیے رول ماڈل ہوں گے۔ دوسروں کے کام آنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں ہے۔ بعض لوگ لاکھ کوشش کے باوجود بھی اس نعمت سے محروم رہتے ہیں۔ زندگی کو بامقصد بنانے کے لیے دن کا ایک گھنٹہ دوسروں کی مدد کے لیے ضرور نکالیں۔ کسی کا ہاتھ بٹھا کر، کسی کو پانی پلا کر، کسی کو سڑک پار کروا کر یا کسی کو ایک وقت کا کھانا کھلا کر بھی آپ کسی کی مدد کر سکتے ہیں۔ میں نے کل ایک شخص کو دیکھا جو رکشہ چلاتا ہے لیکن روز دو سو روپے کے نان دال مزدوروں میں بانٹتا ہے۔ایک مزدور روز گھر جانے سے پہلے بیس روپے کی جلیبیاں فقیروں کو دے کر جاتا ہے۔ فقیر روز دس روپے دربار کے غلے میں ڈال کر گھر جاتا ہے۔ آپ نے کبھی سوچا ہے کہ یہ سب کچھ کیا ہے۔ یہ دراصل دیے سے دیا جلانا ہے۔ جس کے ذریعے اللہ دنیا کا نظام چلا رہا ہے۔ یہ ایک طاقت ہے جسے اس وقت تک محسوس نہیں کیا جا سکتا جب تک آپ اس پر عمل شروع نہ کر لیں۔ دیے جانے میں جو طاقت ہے وہ مانگنے میں نہیں ہے۔ دینے والا ہونے کے لیے صاحب دولت ہونا ضروری نہیں ہے۔ اس کے لیے صاحب عقل ہونا زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔ انسان سوچتا ہے کہ ایک فقیر کسی کو کیا دے سکتا ہے لیکن جب وہ دربار کے غلے میں دس روپے ڈال رہا ہوتا ہے تو ممکن ہے کہ وہ اپنی آمدن کا دس فیصد اللہ کے نام پر دے رہا ہو۔ آپ نے کتنے کروڑ یا کتنے ارب روپے عطیہ کر دیے یہ اہمیت نہیں رکھتا۔ اہمیت یہ رکھتا ہے کہ آپ نے اپنے وسائل کا کتنے فیصد اللہ کے نام پر دے دیا۔ آپ نے کسی کی تکلیف کو کتنی شدت سے محسوس کیا۔ آپ کی نیت کیا تھی۔ کیا آپ کی روح خوش ہوئی۔ درحقیقت یہ اصل خوشی حاصل کرنے کا راستہ ہے۔جس نے حاصل کر لیا وہی صحیح راستے پر ہے۔ یاد رکھیے کہ آپ نے دوسروں کو اپنی جیب سے نہیں دینا بلکہ اللہ کے دیے ہوئے میں سے ہی دینا ہے۔ جو کچھ آپ کے پاس ہے وہ سب آپ کا نہیں ہے۔ اس لیے دوسروں کی مدد کرنے کی عادت ڈالیں۔ آپ کی زندگی بھی بامقصد ہو جائے گی۔ خوبصورت زندگی گزارنے کے لیے رنگ بہت اہم ہوتے ہیں۔ زندگی کو بلیک اینٹ وائیٹ مت گزاریں۔ اس میں قوس قزا کے رنگ بھریں۔ بلیک اینڈ وائٹ مایوسی ہے اور قوس قزاح زندگی ہے۔ قدرت نے کائنات رنگین بنائی ہے۔ آپ بھی خود کو رنگین بنائیں اور اپنے حصے کی خوشیاں سمیٹ لیں۔میری آپ سے گزارش ہے کہ اگر 


ای پیپر