State, responsibility, Chief Justice Islamabad High Court, Athar Minallah, Imran Khan
14 دسمبر 2020 (11:43) 2020-12-14

اسلام آباد: چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ اطہر من اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ریاست اپنی ذمہ داری پوری کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد میں بڑھتے جرائم ، کچہری کی حالت زار اور پراسیکیوشن برانچ کے قیام کے کیسز کی سماعت کے دوران چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے ریمارکس دیئے کہ وفاقی دارالحکومت میں دہائیوں سے پراسیکیوشن برانچ نہیں، وفاقی دارالحکومت کو تو ماڈل ہونا چاہیے۔

چیف جسٹس نے آئین کا مسودہ دکھاتے ہوئے استفسار کیا ڈپٹی اٹارنی جنرل صاحب بتائیں یہ آئیں کب آیا تھا ؟ جس پر ڈپٹی اٹارنی جنرل نے جواب دیا یہ آئین 1973 میں آیا تھا، عدالت نے کہا اس آئین میں لکھا ہے جلد اور فوری انصاف پر شہری کو فراہم کیا جائے گا۔

اطہر من اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالتیں دیکھ لیں آپ نے کس حال میں بنا رکھی ہیں اور شہریوں کو وہاں کتنے مسائل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف کی فراہمی میں تمام رکاوٹیں ریاست کی طرف سے ہوتی ہیں اور الزام عدالتوں پر آتا ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ آپ جو رپورٹس جمع کرواتے ہیں ان سے ہمیں کوئی دلچسپی نہیں دس دن میں عملا بتائیں کیا کیا؟ ورنہ اعلیٰ ترین عہدیدار کو طلب کریں گے، بعد میں عدالت نے مشیر داخلہ شہزاد اکبر کو طلب کرتے ہوئے سماعت 24 دسمبر تک ملتوی کر دی۔

خیال رہے کہ الیکشن سے قبل چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان نے عدلیہ کی آزادی اور انصاف کی جلد فراہمی کے حوالے سے بڑے بڑے دعوے کیے تھے لیکن حکومت میں آنے کے بعد وزیراعظم عمران خان عدالتی نظام کو تبدیل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ کیونکہ مقدمات کے فیصلے ویسے ہی تاخیر سے سنائے جا رہے ہیں اور غریب عوام کو سستا انصاف بھی نہیں مل رہا ہے۔


ای پیپر