بھارت کا مکروہ چہرہ
14 دسمبر 2020 2020-12-14

بھارت کے حوالے سے پاکستا ن کو بہت سی شکایات رہتی ہیں۔ پاکستان اپنی استعداد کیمطابق بھارت کو جواب بھی دیتا ہے۔حتی المقدور کوشش کرتا ہے کہ دنیا کو بھارت کے اصل چہرے سے آگاہ کرئے۔ ہر پاکستانی حکومت اقوام متحدہ پلیٹ فارم کے ذریعے کشمیر میں ڈھائے جانے والے بھارتی مظالم کو بے نقاب کرتی ہے۔ بھارت کی پاکستان مخالف سرگرمیوں پر ہم اقوام عالم کے سامنے آوا ز بلند کرتے ہیں۔بسا اوقات اقوام متحدہ میں ڈوزئیر بھی پیش کیے جاتے ہیں۔ سچ مگر یہ ہے کہ دنیا ہماری آواز اور احتجاج پر کم ہی کان دھرتی ہے۔ہماری پیش کردہ رپورٹیں بھی کوئی خاص ہلچل پیدا کرنے میں کامیاب نہیں ہوتیں۔ اس مرتبہ مگر ایک غیر ملکی تحقیقی اور تحقیقاتی ادارے نے بھارت کا مکروہ چہرہ بے نقاب کیا ہے۔ یورپی یونین ڈس انفو لیب(EU disinfolab) نامی یہ ایک آزاد تحقیقی ادارہ ہے۔ یہ ان گروپوں اور تنظیموں کا سراغ لگاتا ہے جو روائتی اور جدید میڈیا کے ذریعے غلط اور گمراہ کن اطلاعات پھیلانے میں ملوث ہوتی ہیں۔ ڈس انفو لیب کے محققین نے ہوشربا انکشافات پر مبنی ایک تفصیلی رپورٹ جاری کی ہے۔اس تحقیقاتی رپورٹ نے ایک ایسے بھارتی نیٹ ورک کا پردہ چاک کیا ہے جو گزشتہ پندرہ برس سے جعلی خبریں بنانے اور پھیلانے کے مکروہ دھندے میں ملوث ہے۔ بھارتی نیٹ ورک کا سب سے بڑا ہدف پاکستان ہے۔ چین سمیت وہ ممالک بھی اس شیطانی نیٹ ورک کی کاروائیوں کا نشانہ بنتے ہیں، جن کیساتھ بھارت کا کوئی نہ کوئی تنازعہ جاری ہے۔ اس بھارتی نیٹ ورک کے دو بنیادی مقاصد ہیں۔ پہلا یہ کہ بھارت مخالف ممالک کے خلاف منفی خبریں پھیلائی جائیں۔ انہیں بد نام کیا جائے۔ ان ممالک کے منفی پہلووں کو بڑھا چڑھا کر دنیا کے سامنے پیش کیا جائے۔ دوسرا مقصد اس نیٹ ورک کا یہ ہے کہ بھارت کے چہرے کی کالک کو دنیا کی نظروں سے اوجھل رکھا جائے۔بھارت کا روشن اور ماڈریٹ چہرہ اقوام عالم میں اجاگر کیا جائے۔ رپورٹ بتاتی ہے کہ اپنے مذموم مقاصد کے حصول کیلئے اس بھارتی نیٹ ورک نے بہت سی معروف اور غیر معروف غیر سرکاری تنظیموں (NGOs) ، تھینک ٹینکوں، اور فیک نیوز پلیٹ فارموں کیساتھ انتہائی مضبوط تعلقات استوار کر رکھے ہیں۔ ان تنظیموں کی مدد سے یورپی پارلیمان اور مختلف یورپی اداروں میں اثر و رسوخ حاصل کیا جاتا ہے تاکہ بھارت دوست اور پاکستان مخالف نقطہ نظر اور بیانیے کی ترویج کی جاسکے ۔ 

ڈس انفو لیب کی رپورٹ نے خصوصی طور پر انکشاف کیا ہے کہ بھارت کی سب سے بڑی خبر رساں ایجنسی اے۔این۔آئی (Asian News International) بھی اس نیٹ ورک کا حصہ ہے۔ رپورٹ بتاتی ہے کہ اے ۔ این ۔آئی نہایت زور و شور سے پاکستان مخالف جعلی خبریں بنانے اور پھیلانے کا فریضہ سرانجام دیتی ہے۔یہ گمراہ کن خبریں تسلسل کیساتھ بھارت کے مقامی میڈیا اورعالمی صحافتی اداروں تک پہنچائی جاتی ہیں۔ اسی طرح دنیا کے مختلف ممالک میں موجود 97 غیر معروف میڈیا نیٹ ورکس کے ذریعے بھی پاکستان کو بدنام کرنے کی مہم چلائی جاتی ہے۔ پاکستان مخالف خبروںاور معلومات کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے۔ رپورٹ مرتب کرنے والے ریسرچرز کو یقین ہے کہ اس نیٹ ورک کا بنیادی مقصد (اور نشانہ) ہمسایہ ملک پاکستان کے خلاف پروپیگنڈہ کرنا ہے۔ ڈس انفو لیب کے ایگزیکٹو ڈائیریکٹر الیگزینڈر ایلافلپ کا کہنا ہے کہ یہ بھارتی نیٹ ورک اب تک پکڑا جانے والا سب سے بڑا فیک نیوز نیٹ ورک ہے۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ اس سے پہلے انہوں نے غلط خبروں کی ترسیل کرنے والا کوئی ایسا منظم اور مربوط نیٹ ورک نہیںدیکھا جو مختلف اسٹیک ہولڈروں کے مابین اسقدر ہم آہنگی (coordination)کیساتھ سر گرم عمل ہو۔ ڈس انفو لیب نے گزشتہ برس بھی 265 ایسی بھارت دوست(Pro-india) ویب سائیٹس کی نشاندہی کی تھی جو دنیا کے 65 ممالک میں فعال تھیںاور انہیں دہلی میں قائم سری واستوا گروپ (Srivastava Group) نامی ایک بھارتی کمپنی کنٹرول کرتی تھی۔ مگر اس کی طاقت اور اثر کا اندازہ کیجیے کہ اس انکشاف کے باوجود اس کمپنی اور اسکی کاروائیوں کو نہیں روکا جا سکا۔

بات صرف روائتی اور جدید میڈیا کے ذریعے جھوٹی اور غلط خبریں پھیلانے تک محدود نہیں۔ رپورٹ بتاتی ہے کہ بھارت کے ایس ۔جی گروپ (Srivastava group) کے درجنوں غیر سرکاری تنظیموں (NGOs) اور تھنک ٹینکوں کیساتھ بھی مضبوط روابط قائم ہیں۔کم و بیش دس این ۔جی۔ اوز ایسی ہیں جو اقوام متحدہ کی تسلیم شدہ (UN Accredited)ہیں۔ یہ تمام تھنک ٹینک اور این۔ جی۔ اوز ، جینیوا میںخصوصی طور پر متحرک ہیں۔یہ کسی نہ کسی جواز پر پاکستان کے خلاف مظاہرے کرتی ہیں، پریس کانفرنسوں اور اقوام متحدہ کے زیر انتظام ہونے والی سرگرمیوں میں زہر اگلتی ہیں ۔ یہ تنظیمیں اس قدر بااثر ہیں کہ کئی بار انکے نمائندے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل (UNHRC) جیسے اہم پلیٹ فارم میں بات کرنے کے لئے فلور حاصل کرتی رہی ہیں۔ یہ تما م مواقع پاکستان کو بدنام کرنے اور اسے ہدف تنقید بنانے کیلئے استعمال ہوتے رہے ہیں۔ 

یہ تو اس تفصیلی رپورٹ کا ایک خلاصہ ہے۔ مکمل رپورٹ پڑھیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ بھارت پاکستان کو اقوام عالم میں بدنام کرنے کیلئے کیا کیا حربے استعمال کرتا رہا ہے۔ کس قدر منظم اور مربوط طریقے سے ایک نیٹ ورک کئی برسوں سے نہایت منصوبہ بندی کیساتھ پاکستان کے خلاف پروپیگنڈہ کرنے میں مصروف ہے۔ البتہ ڈس انفو لیب نے واضح کیا ہے کہ ابھی تک ہونے والی تحقیق اور تفتیش سے بھارتی ایجنسیوں اور بھارتی حکومت کا اس پروپیگنڈہ نیٹ ورک سے براہ راست تعلق ثابت نہیں ہوتا۔تاہم برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی نے اس رپورٹ کو شائع کرنے سے پہلے بھارتی حکومت کا موقف لینے کے لئے رابطہ کیاتو بھارتی حکومت نے چپ سادھے رکھی۔ان انکشافات کے سامنے آنے کے بعد پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے عالمی برادری سے درخواست کی ہے کہ اس معاملے کا نوٹس لیا جائے۔ مطالبہ کیا ہے کہ بھارت سے جواب طلبی کی جائے۔ جوابا بھارت کی وزارت امور خارجہ کے ترجمان انوراگ سری واستا نے پاکستان پر جوابی الزامات عائد کئے ہیں۔ کہا ہے کہ پاکستان بذات خود غلط خبروں اور گمراہ کن معلومات کی ترسیل کا کام کرتا ہے۔ 

 ڈس انفو لیب کی رپورٹ میں ہونے والے انکشافات نہایت اہم ہیں، لیکن پاکستان کے لئے حیران کن ہر گز نہیں ہیں۔ ہم بھارت کی پاکستان دشمنی سے بخوبی آگاہ ہیں۔برسوں سے اس دشمنی کو بھگت رہے ہیں۔ اپنے ناجائز مقاصد کے حصول کیلئے بھارت کس حد تک جا سکتا ہے، اس کا اندازہ ہم مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے مظالم سے لگا سکتے ہیں۔ ساری دنیا جانتی ہے گزشتہ سات دہائیوں سے بھارتی افواج ریاستی سرپرستی میں نہتے کشمیریوں پر مظالم ڈھا رہی ہے۔اسی طرح بھارت نے مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش بنانے کیلئے جو بھیانک کردار اداکیا، وہ ہم کیسے بھول سکتے ہیں۔ 2015 میںبھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنے دورہ بنگلہ دیش کے دوران نہایت ڈھٹائی سے اعتراف کیا کہ بھارت نے پاکستان توڑنے میں کردار ادا کیا تھا۔

 بھارت آج بھی بلوچستان میں دہشت گردی اور انتہا پسندی کو فروغ دیتا ہے۔ہمیں یہ بھی یاد ہے کہ پاکستان میں سی ۔پیک منصوبہ کی بنیاد پڑتے ہی بھارت نے اسے سبوتاژ کرنے کیلئے اربوں کھربوں روپے کا فنڈ مختص کر دیا تھا۔جہاں تک پاکستان مخالف پروپیگنڈہ کی بات ہے تو ہمیں معلوم ہے کہ کس طرح بھارتی نیوز چینلز پاکستان کے خلاف زہر اگلتے ہیں۔ کس طرح برسوں سے بھارتی فلموں میں پاکستان اور افواج پاکستان کے خلاف غلیظ پروپیگنڈہ کیا جاتا ہے۔ کس طرح بھارتی ڈراموں کے ذریعے باقاعدہ منصوبہ بندی کیساتھ ثقافتی یلغار کی جاتی ہے۔ برسوں پہلے بھارتی وزیر اعظم اندرا گاندھی نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ہم نے بھارتی فلموں کے ذریعے بھارتی ثقافت پاکستان کے گھر گھر میں داخل کر رکھی ہے، اب ہمیں اس سے جنگی محاذ پر لڑنے کی ضرورت نہیں۔ ہم بخوبی آگاہ ہیں کہ بھارت ہمارے ساتھ کیا کچھ کرتا رہا ہے۔لیکن سوال یہ ہے کہ ہم خود اپنے ملک کیساتھ کیا کر رہے ہیں؟ بھارتی پروپیگنڈہ کا کیا جواب دے رہے ہیں؟ پاکستان کا کونسا چہرہ دنیا کو دکھا رہے ہیں؟ بھارت سے شکوہ کرنے اور عالمی برادری سے اپیل کرنے کے بجائے ، کیا ہم نے کبھی اپنے دامن پر نگاہ ڈالی ہے؟؟ (جاری ہے)


ای پیپر