ڈھاکہ سے سری نگر
14 دسمبر 2019 2019-12-14

کل 16دسمبر کو سقوط ڈھاکہ جیسے دشمن بھارت کی فوج کے ذریعے قائداعظم محمد علی جناحؒ کے پاکستان کو دو لخت ہوئے 48 برس گزر جائیں گے… دو برس کم نصف صدی پرانا یہ المیہ ہمارے جسد قومی پر اتنا بڑا اور کاری زخم چھوڑ گیا ہے کہ مندمل نہیں ہو پا رہا … کسی طور پر بھلائے بھولا نہیں جا رہا… یہ ایک شرمناک فوجی شکست تھی… ہماری بہادر اور وطن کی آن پر لڑ مرنے والی انتہا درجے کی محب وطن فوج کی 45 ہزار کے قریب سپاہ بھارتی کی مشرقی کمان کے سامنے ہتھیار ڈال دینے اور جنگی قیدی بننے پر مجبور ہوئی… دشمن نے 45 ہزار مزید شہریوں جن میں سے زیادہ تر کا تعلق مغربی پاکستان سے تھا، حراست میں لیا اور مملکت خداداد کے 90 ہزار فوجی و غیر فوجی افراد کو جنگی قیدی بناتے ہوئے دھکیل کر اپنے کیمپوں میں لے گیا… دوسری جنگ عظیم کے بعد اتنا بڑا سرنڈر شاید کہیں نہیں ہوا ہو گا…

شکست و فتح میاں اتفاق ہے لیکن

مقابلہ تو دل ناتواں نے خوب کیا

لیکن ہمارا المیہ یہ رہا چند ہفتے بھی دشمن کے مقابلے میں کھڑے نہ رہے اور ہار ماننے پر مجبور ہوئے ۔ یوں ملک کا آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑا حصہ دشمن کے ہاتھوں میں چلا گیا جو اب مشرقی پاکستان کی بجائے بنگلہ دیش کہلاتا ہے اور خود کو آزاد کہتا ہے… اس سے بھی زیادہ تکلیف دہ بات یہ ہے زندہ قومیں شکست سے سبق سیکھ لیتی ہیں… کھویا ہوا مقام دوبارہ حاصل کر لیتی ہیں لیکن ہمارے یہاں عوامی و صحافتی سطح پر سال میں ایک مرتبہ اس دلخراش سانحے کا تذکرہ کر لیا جاتا ہے… جبکہ اس ملک کے ارباب حل و عقد اور وہ جنہیں مقدر قوتیں کہا جاتا ہے نام لینا بھی پسند نہیں کرتے… اس سے بھی زیادہ خطرناک بات یہ ہے اسی ڈگر پر چلے جا رہے ہیں، جس کی وجہ سے اتنے بڑے حادثے سے دو چار ہوئے تھے… نتیجہ اس کا یہ سامنے آیا کہ سقوط ڈھاکہ کے بعد بھی ہم مسلسل ٹھوکریں کھارہے ہیں… 1984ء میں سیاچن کی چوٹیاں ہم سے چھین لی گئیں… وقت کے ڈکٹیٹر اور جنرل یحییٰ کے بعد تیسرے چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر جنرل ضیاء الحق نے یہ تبصرہ کر کے اپنے اور قوم کے ضمیر کو تھپکی دینے کی کوشش کی وہاں گھاس بھی نہیں اگتی … یعنی آپ کے جس رقبے پر گھاس نہ اگتی ہو اس پر اگر دشمن قبضہ جما لے تو چنداں افسوس کی بات نہیں… جہاں تک قومی غیرت کا تعلق ہے وہ اگر شمہ برابر بھی ہمارے اندر ہوتی تو لڑ مرتے مشرقی پاکستان ہاتھ سے نہ جانے دیتے… سیاچن ایک بلند و بالا برفانی پہاڑی کا نام ہے… یہاں آج بھی ہمارے سپوت دشمن کے ساتھ پنجہ آزمائی میں مصروف ہیں… طرفین سخت ناقابل برداشت موسم میں لاحاصل جنگ لڑے جا رہے ہیں ہمارے ہاتھ کچھ آتا نہیں ان کے قبضے سے کچھ جاتا نہیں… پھر 1999ء میں ایک باوردی چیف نے کشمیر حاصل کرنے کے نام پر نہایت درجہ ناقص فوجی سٹریٹجی کے ساتھ اور وقت کی منتخب حکومت سے مینڈیٹ لیے بغیر کارگل پر مہم جوئی کر ڈالی… جواب میں دشمن نے وہ ہوائی بمباری کی اور اتنی زیادہ فوجی ہلاکتیں ہوئیں کہ 1965ء اور 1971ء کی جنگوں کو ملا کر نہ ہوئی ہوں گی… پاکستان کا وزیراعظم واشنگٹن جا کر جنگ بندی کے اعلان پر مجبور ہوا…

آج نوبت یہاں تک آج پہنچی ہے کہ کشمیر جسے ہم اپنی شہ رگ کہتے نہیں تھکتے اسے بھارت ہضم کر چکا ہے، ڈکار بھی نہیں لیا اور ہماری حالت یہ ہے کہ ہر بیان مذمت کے ساتھ پوری دنیا اور نریندر مودی کو یقین دلانا ضروری سمجھتے ہیں کہ جنگ نہیں لڑیں گے جبکہ ڈپلومیسی کے میدان میں کہیں بھی شنوائی نہیں ہو رہی… اقوام متحدہ کے اجلاس میں ایک تقریر دلپذیر کے سوا مظلوم و مقہور کشمیریوں کے دکھ دور کرنے اور اہل پاکستان کے آنسو پونچھنے کے لیے ہمارے پلے کچھ نہیں سو 48 سال قبل مشرقی پاکستان جو ہاتھ سے گیا سو گیا ، آج کشمیر کو بھی دشمن ہر لحاظ سے اپنے نرغے میں لے چکا ہے جبکہ نریندر مودی اور اس کے ساتھی صبح و شام اپنے لوگوں کو مژدہ سناتے ہیں کہ ہم نے ایک گولی چلائے بغیر کشمیر کی جنگ جیت لی ہے… معاملہ یہیں پر آ کر رک نہیں گیا آزاد کشمیر کا وزیراعظم راجہ فاروق حیدر اپنی آف دی ریکارڈ گفتگوؤں میں اس دکھ کا اظہار کرتا سنائی دے رہا ہے جس طرح 5 اگست کے اعلان کے تحت نریندر مودی نے مقبوضہ ریاست جموں و کشمیر کو آئینی لحاظ سے اپنے اندر ضم کر لیا ، اسی طرح گلگت و بلتستان اور آزاد کشمیر کے پاکستان کا جغرافیائی حصہ بنانے کے بارے میں سوچا جا رہا ہے… گویا لائن آف کنٹرول کی بنیاد پر کشمیر کی حتمی تقسیم عمل میں آجائے گی اور بھارت کی یہ خواہش پوری ہو جائے گی جس کا وہ پس پردہ مذاکرات میں کئی بار اظہار کر چکا ہے کہ تنازع کشمیر کا ایک ہی حل ہے ہم یعنی بھارت از روئے عنایت خسروانہ آزاد کشمیر پر پاکستانی قبضے کو تسلیم کر لیتے ہیں… پاکستان اسی پر اکتفا کرے… مقبوضہ کشمیر بھارت کا ہے … پاکستان اس پر ہمارے قبضے کی آئینی حیثیت تسلیم کر لے… دوسرے الفاظ میں تنازع کشمیر کی حیثیت وہاں پر بسنے والی آبادی کا حق خود ارادی کی نہیں بلکہ زمین کے ٹکڑے کی بندر بانٹ کی ہے… اس کا جتنا حصہ پہلے سے پاکستان کے قبضے میں ہے اسی پر بس کرے اور بقیہ پر نگاہیں ڈالنا چھوڑ دے… کیا یہی وہ حل ہے جسے ہم قبول کرنے جا رہے ہیں… اگر ایسا ہے تو کشمیر کے نام پر جو تین لڑائیاں لڑیں خاص طور پر 1965ء ،سیاچن اور کارگل والی ، بے شمار جانیں اس تنازعے کی نذر کیں،قوم کے خون پیسنے کے ٹیکسوں کی آمدنی کشمیر کی مد میں خرچ کر ڈالی ، اتنا زیادہ بجٹ مسلسل اسی کے نام کرتے چلے آ رہے ہیں… اس کا حاصل یہ نکلا ہے کہ اصل کشمیر (مقبوضہ ریاست جموں و کشمیر) اپنے سوا کروڑ باسیوں سمیت بھارت کا پانچ کے پانچ دریا اپنے سر چشموں سمیت اس کے … وہ جب چاہے ان کا پانی بند کر دے اور سندھ طاس معاہدے کو عہدِ رفتہ کی یاد قرار دے دے باقی آزاد نام کی تلچھٹ ہماری … ذرا دیکھیے سقوط ڈھاکہ کے المیے نے جسے ہم بھلا دینا چاہتے ہیں کہاں سے کہاں تک پہنچا دیا ہے…

سبب اس پسپائی در پسپائی کا کیا ہے… جب مشرقی پاکستان کا المیہ رونما ہوا تو جسٹس حمود الرحمن کی سر برہی میں اس کے اسباب اور ذمہ داری کے تعین کے لیے ایک کمیشن مقرر کیا گیا … اس نے اپنا کام مکمل کیا اور رپورٹ تیار کر لی… حکومت کو بھی دے دی مگر قوم کو اس کے مندرجات سے بے خبر رکھنے کی ہر ممکن سعی کی گئی… اس کے کسی حصے کو منظر عام پر نہ آنے دیا گیا… یہاں تک کے 90 کی دہائی کے اندر ایک بھارتی جریدے India Today نے کہیں سے اس کے مسودے کا بڑا حصہ چرا کر شائع کر دیا… ہم تردید کے قابل نہ رہے… جو کچھ سامنے آیا کہ جسٹس حمود الرحمن اور ان کے ساتھی تحقیق کاروں کے نزدیک اصل سبب ہماری اتنی بڑی شکست کا یہ تھا کہ مملکت خداداد اس وقت سر زمین بے آئین تھی… چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر کی ملک کے عوام کی نمائندگی اور اعتماد سے محروم حکومت تھی… 7 دسمبر کو قومی سطح پر جو انتخابات کرائے گئے ان کے نتائج کو تسلیم نہ کرنے کی ٹھان لی گئی … اسی کے نتیجے میں مشرقی پاکستان کے عوام اور ہمارے رکھوالوں کے درمیان تصادم وجود میں آیا… تاک میں بیٹھے بھارت نے اس کا بھرپور فائدہ اٹھایا… پھر وہ کچھ ہوا جس کا کاری زخم اب تک ایک سے زیادہ بچوں کو جنم دے چکا ہے 48 برس قبل مشرقی پاکستان کے تاریخ کے صفحات کی نذر ہو جانے کے بعد آج کشمیر کو بھی اسی نامراد منزل کی جانب روانہ کرنا پڑا ہے… حمود الرحمن کمیشن کی رپورٹ کو ہم نے سرکاری طور پر عوام کی آگہی کے لیے پیش نہ کیا… نتیجے کے طور پر ذمہ داری کا بھی تعین نہ ہوا… کوئی مجرم ٹھہرایا گیا نہ کسی کو سزا ملی… اس کے بعد سیاچن والا واقعہ تو ہونا ہی تھا… اقتدار ہمارا تب بھی عوامی نمائندگی سے محروم اور ملک مارشل لاء کی لپیٹ میں تھا… تحقیق اس امر کی بھی نہ ہوئی کہ سیاچن کی چوٹیوں کے چھن جانے کے اسباب کیا تھے … ذمہ دار اس غفلت کا کون تھا… پھر فروری مارچ اور اپریل 1999ء کے مہینوں میں جب ایک سول نمائندہ حکومت قائم تھی ، بھارت کے مقابلے میں اس نے بھی اپنی ایٹمی طاقت ہونے کا اعلان کر رکھا تھا… باوردی چیف کو مگر آئینی لحاظ سے ماتحت رہ کر فرائض منصبی ادا کرتے رہنا گوارا نہ تھا… سو اس نے اپنے طورکا رگل کی مہم جوئی کر کے وقت کے وزیراعظم کو جھانسہ دینے کی کوشش کی کہ کشمیر ہمارے قبضے میں آیا چاہتا ہے … کشمیر مگر وہیں کا وہیں رہا ، اغیار نے اپنا قبضہ پہلے سے زیادہ مستحکم کر لیا بین الاقوامی سطح پر ہزیمت ہمارے حصے میں آئی… بہادر فوجی جو ہمارے بہت بڑی تعداد میں اس کام کی نذر ہوئے سو علیحدہ … مطالبہ کیا گیا اتنی بڑی ناکامی کے اسباب اور ذمہ داری کا تعین کرنے کے لیے کمیشن مقرر کیجیے … صاف جواب ملا ہم اس کی ضرورت محسوس نہیں کرتے جبکہ بھارت نے اسی مسئلے پر دو علیحدہ علیحدہ تحقیقاتی کمیٹیاں بٹھائیں، ان کی رپورٹیں حاصل کیں… ذمہ داروں کو اس ملک میں کفن چوروں کا نام دیا گیا… کچھ کو کیفر کردار تک بھی پہنچایا گیا مگر پاکستان میں کوئی ٹس سے مس نہ ہوا… کارگل کے بعد مئی 2011ء میں پاکستان کی حاکمیت اعلیٰ کے بخیے ادھیڑ دینے ہماری سرحد کو پامال کرنے والی امریکی ہیلی کاپٹروں کی یلغار نے جنم لیا جس نے جانب افغانستان سے رات کے اندھیروں میں ایبٹ آباد پہنچ کر کاکول اکیڈمی کے قریب واقعہ ایک مکان میں چھپے ہوئے اسامہ بن لادن کی گردن کو جا دبوچا … اسے وہیں پر قتل کیا اور یہ ہوائی مشینیں اپنا مشن پوراکرنے کے بعد بڑے اطمینان سے ہماری سرحد عبور کرتی ہوئی واپس چلی گئیں کوئی پوچھنے یا ٹوکنے والا نہیں تھا… ان کی آمد پر نہ جاتے وقت… پوری قوم کو جس شرمندگی سے دو چار ہونا پڑا اس کا عالم دیکھا نہیں جاتا تھا… پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں کھڑے ہو کر وقت کے چیف کے جاسوسی نمائندے نے معافی مانگی… ریٹائرڈ جسٹس جاوید اقبال کی سربراہی میں حمود الرحمن کی مانند ایبٹ آباد کمیشن قائم ہوا … اس نے بھی رپورٹ مکمل کی … آج تک پردۂ اخفا میں رکھی گئی ہے… جب قوم کو ایک کے بعد دوسرے سانحے کے بارے میں اس طرح اندھیروں میں رکھا جائے گا تو ہماری تنزلی کا سفر ڈھاکہ سے لڑھکتا ہوا سری نگر تک نہیں آ پہنچے گا تو کیا ہو گا…


ای پیپر