اگر تم مومن ہو!
14 دسمبر 2019 2019-12-14

پاکستان ہمہ نوع مسائل میں اندرونی بیرونی طور پر گھرا ہوا ہے۔ ایسے میں ہمارے بچے، نوجوان نسل اسے گرداب سے نکالنے میں کتنی سنجیدہ، فہیم، ذمہ دار، درد مند ثابت ہو رہی ہے؟ صرف گزشتہ تین چار ہفتوں کا ایکسرے دیکھ لیجیے۔ نوجوانوں کا اخلاقی بحران خوفناک مناظر پیش کر رہا ہے۔ فی الوقت تو ملک کا اعلیٰ تعلیم یافتہ، ذہین طبقہ وکلاء اور ڈاکٹروں کی شکل میں تن کر آمنے سامنے بر سر پیکار کھڑا ہے۔ غم خواری کشمیری بھائیوں کی نہیں، مسلمانوں کی جان و مال،شہریت چھیننے والے در پئے آزار بھارت، مودی اور بی جے پی کی دشمنی پر خون میں ابال نہیں ہے۔ ان کا ایشو گیمبیا کے وزیر عدل کی عالمی عدالت انصاف میں مظلوم روہنگیا کی آواز میں آواز ملانا نہیں ہے۔ شام، افغانستان، فلسطین کی تباہ حالی بھی نہیں۔ اٹھارہ سالوں میں شعور کی (نا) پختگی کو پہنچنے والی یہ مشرفی، یوٹرنی تربیت والی نسل تکلیف دہ حد تک معاشرتی، نظریاتی بحران ، فکری انتشار، تنظیمی بگاڑ، صبر تحمل برداشت سے عاری ہے۔ 18 سال اس ملک میں ’سب سے پہلے پاکستان‘ پڑھایا گیا۔ سو سب مل کر سب سے پہلے پاکستان کا تیا پانچا، سوا ستیا ناس، ایسی تیسی پھیرنے کے در پے ہیں۔ کافی حد تک پھیر چکے ہیں۔ 18 سال رواداری، برداشت، ڈائیلاگ پڑھایا گیا۔ وہ سبق پکا ہے۔ سو ہم مسلم دنیا پر ٹوٹ پڑنے والی ساری قیامتوں پر رواداری اور برداشت کا بے رحمانہ بے دردی ، بے حسی، بے بسی، لاچاری کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ برمی،بھارتی، یہودی، قرآن سوز گستاخِ رسول درندوں سے تحمل برداشت سے ڈائیلاگ کرنے پر ہر آن کمربستہ ہیں۔ سکھوں کے آگے ریشہ خطمی ہیں جنہوں نے 1947ء میں ہمارے ہجرت کرتے خاندانوں کو کرپانوں کی نوک پر رکھا تھا۔ لیکن ہم ساری تعلیم ڈگریوں، خدمت انسانیت پر مامورین اور قانون کے محافظ ہوتے ہوئے بھی اپنی اپنی گروہی انانیت کے ہاتھوں آتش فشاں بن کر ملکی سلامتی اور امن کے در پے ہو جاتے ہیں۔ اعلیٰ تعلیمی ادارے صرف کاغذی ڈگریاں بانٹ رہے ہیں۔ تربیت کا ہر سطح پر فقدان، بحران ہے۔ بد اخلاقی اور بدتہذیبی کا لاوا اچانک پھوٹ پڑتا ہے تو خوفناک وحشت زدہ جوانی کی بے لگام قوت ساری حدیں پامال کرتی ہے۔ اسی غنڈہ گردی کا تسلسل اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد میں لسانی گروہ کی فائرنگ سے اسلامی جمعیت طلباء کے نوجوان کا قتل ہے۔

سوشل میڈیا کا غیر ذمہ دارانہ استعمال ڈاکٹرز اور وکلاء کے اس طوفانی ہنگامے میں وجۂ وحید ہے۔ ایک ڈاکٹر نے وکلاء کے لیے نہایت تضحیک آمیز گفتگو جو قہقہہ بار مجمعے کے بیچ وکیلوں کا تمسخر اڑا رہی تھی، اپ لوڈ کر دی۔ حکومتی، انتظامی نا اہلی اس دوران انتہا پر رہی کہ تین ہفتے پہلے ہونے والے واقعے کا قضیۂ نمٹایا نہ جا سکا۔ وکلاء نے جوابی کارروائی میں مزہ چکھانے کا رویہ اپنایا اور جو نتائج برآمد ہوئے وہ سبھی کا سرشرم سے جھکا دینے کو کافی ہیں۔قانون پڑا سوتا رہا اور پھر لاقانونیت نے آگ لگا دی۔ قیمتی جانیں گئیں۔ قومی املاک کا نقصان۔ عام شہریوں کی حق تلفی۔ والدین، اساتذہ ، ججز، حکمران اذیت ناک شرمساری کے چوراہے میں کھڑے ہیں۔ اسی دوران ہونے والا سرخ مارچ، قوم کے ہوش ٹھکانے لانے، عورتوں کے ہاتھوں مردوں کی تذلیل اور درگت بنانے کے مناظر (کتا اور مرغا بنا کر) اور دعا منگی کہانیاں اس پر مستزاد ہیں۔ پرانے وقتوں میں بدمعاشی، غنڈہ گردی والوں کو قدامت پرست غیرت کہا کرتی تھی، تمہارے گھر میں ماں بہنیں نہیں ہیں؟ اب اس مارچ پر سوال بدل گیا ہے۔ ’کیا تمہارے گھر میں باپ بھائی نہیں ہیں؟ کسے کتا اور مرغا بنانے کے در پے ہو ؟ یہ ہم کہاں جا رہے ہیں۔ مزید ایجنڈہ ایک بینر سے کھل گیا: "295-C" ختم کرو۔ نیز مشال خان ان کا ہیرو ہے۔ سو یہ روس نہیں مغرب کا لال لال ہے جس میں آئینی شق (ختم نبوت شان رسالت پر) ختم کرنا اصل ہے باقی سب ڈھونگ ہے! دجال کے قدموں کی چاپ سنی جا سکتی ہے اس ابتری میں۔ یہاں ایک دوسرے کے ہوش ٹھکانے لگائے جا رہے ہیں، لال لہرائے جا رہے ہیں۔ ان کا محب پوٹن شام میں مسلمانوں (عورتوں بچوں شہریوں) کے خون سے ہولی کھیل کر لال لہرا رہا ہے۔ روسی جھنڈے کے ستاروں کی لالی گہری ہو چکی۔ کشمیر میںحقیقت کی دنیا، ٹوٹے گھروں، اجڑی عصمتوں سہاگوں، یتیم بچوں، فاقہ کشی کی کہانی سنا رہی ہے۔ ہم فلموں گانوں میں تھرک کر اظہار یک جہتی کر رہے ہیں۔ پوری دنیا اخلاقی سطح پر ہائی ٹیک درندوں کی دنیا ہے۔ جھوٹ دجل فریب، وحشت سر بیت درندگی اور ناقابل یقین بے حیائی اور گراوٹ کی دنیا ہے مگر ہمیں کیا ہوا؟ ہم نے نظریۂ پاکستان دفن کر کے عالمی درندگی کی صلیبی جنگ میں ڈٹ کر حصہ لیا۔ بیٹی عافیہ بیچی۔ ایمان کی آخری رمق بھی جاتی رہی۔ لاکھ کے قریب جانوں کی قربانی امریکی مجسمۂ آزادی کے بت کے چرنوں میں ڈالی۔ اب دنیا کیا کہہ رہی ہے؟ ہم اٹھارہ سال عقوبت خانے پاکیزہ صفت حافظ قرآن، نظریاتی نوجوانوں سے بھرتے رہے۔ سینکڑوں پولیس مقابلوں میں مارے۔ امریکہ کو ڈرون حملوں کی کھلی چھٹی دیئے رکھی۔ اب امریکہ نے راؤ انوار ایس ایس پی ملیر (نقیب اللہ قتل میں نامزد ملزم)، پر پابندیاں عائد کر دیں کیونکہ وہ 190 سے زائد جعلی پولیس مقابلوں کے ذمہ دار ہے جس نے 400 سے زائد قتل کیے۔ مزید یہ کہ راؤ انوار نے پولیس اور مجرمانہ ریکارڈ رکھنے والے ٹھگوں کے نیٹ ورک کی مدد کی جو زمینوں پر ناجائز قبضے ، منشیات فروشی اور قتل کی وارداتوں میں ملوث رہا۔ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر یہ پابندیاں عائد کی جا رہی ہیں‘۔ لو وہ بھی کہہ رہے ہیں یہ بے ننگ و نام ہے۔ تاہم مستند ہے ان کا فرمایا ہوا۔

جس جنگ میں ہم نے پاکستان کو جھونکا اب اس کا مآل، حسرتناک ، حیرت ناک، عبرت ناک بھی ملاحظہ ہو ۔ وہ جو ہمیں ڈو مور کے ڈنڈے پر چلاتے رہے۔ اب واشنگٹن پوسٹ لیکس، ’افغانستان پیپرز‘ کے عنوان سے ہوش ربا، شرمناک حقائق سامنے آئے ہیں۔ 5000 صفحات پر مشتمل خفیہ دستاویز، امریکہ کی طویل ترین جنگ بارے انکشافات کے دریا بہنے لگے۔ امریکہ جس دلدل میں 49 ممالک کی بارات لے کر جا اترا، امریکی عوام کے ٹیکسوں سے نچوڑا3 کھرب ڈالر جھونکا۔ (ہم پرائی بارات میں عبداللہ دیوانے بنے۔) یہ ایک اندھی جنگ تھی جس کا کوئی سرا اب ان کے ہاتھ نہیں آ رہا۔ یہ رپورٹ امریکی قیادت، سول و فوجی کمانڈروں، نیٹو ذمہ د اران کے انٹرویوز، یادداشتوں ، تقاریر، رپورٹوں پر مبنی ہے۔ اخبار نے ساجھے کی ہانڈی چوراہے میں پھوڑی ہے، طویل قانونی جنگ لڑ کر۔ یہ اعتراف سبھی بڑوں کا کہ ہم بے سوچے سمجھے افغانستان میں اتر گئے۔ ہم افغانستان بارے کچھ نہ جانتے تھے۔ وہاں جمہوریت اگانے، تہذیب بدلنے، افغان عورت کا طرز زندگی بدلنے کے شوق میں۔ جو کچھ کہا اس کا لب لباب یہ ہے کہ : کچھ شہر دے لوگ وی ظالم سن، کچھ سانوں مرن دا شوق وی سی… سو پھنسے اور بہت برے پھنسے، مرے اور بہت برے مرے! یہ بات کھل کر سامنے آئی ہے کہ جنگ بارے قوم سے جھوٹ بولے جاتے رہے۔ غلط اعداد و شمار پیش کیے جاتے رہے۔ جنرل ڈگلس لیوٹ (بش، اوباما ادوار کا جرنیل اعظم) کا کہنا ہے۔ ’ہم نہیں جانتے تھے کہ ہم کیا کر رہے ہیں۔ ہمیں سرے سے اندازہ ہی نہ تھا کہ ہم کس اوکھلی میں سر دے رہے ہیں‘۔ (روس، برطانیہ سے پوچھ لیا ہوتا۔ رومی سلطنت کی تاریخ، ابو عبیدہ بن جراحؓ اور خالد بن ولیدؓ کی پڑھ لی ہوتی)۔ عبرتناک پہلو یہ ہے کہ عسکری سائنسی ٹیکنالوجی کی تمام تر جدت سے لدی پھندی امریکہ، نیٹو، 49 ترقی یافتہ ترین ممالک کی فوجیں، یہ مایہ ناز عالمی تربیتی اداروں سے جنگی مہارتوں کے حامل جرنیل اور فوجی تھے۔ پس پشت دنیا کی عظیم ترین یونیورسٹیوں، تھنک ٹینکوں، سفارتی مہارتوں کے حاملین، لاکھوں صفحات کی مغز مار دانشوریوں، برق رفتاریوں، مواصلاتی ہائی ٹیک اور چلتے پھرتے قلعوں نما گاڑیوں ٹینکوں کی دہلا ڈالنے والی قوت تھی۔ یہ کیونکر تاریخ کی عبرتناک ترین شسکت سے دو چار ہوئی؟ پیمپر پہننے تک کی نوبت آ گئی! امریکہ میں اس رپورٹ نے زلزلہ برپا کر دیا ہے۔ ٹریلین ڈالر سوال تو یہ ہے کہ مقابلے پر تھا کون؟ کندھے پر چادر دھرے، (بلا با ضابطہ بری بحری فضائی فوج) پیدل یا موٹر سائیکل سوار، راکٹ لانچر، کلاشنکوف بردار (انگریزی سے نا بلد!) خانہ ساز (IED) بم ہانڈی بم سے مسلح 18 سال لڑا کیے۔ مقابل پوری دنیا، بشمول مسلمان ممالک اور برادر پاکستان۔ امریکی ایوان نمائندگان آتش زیر پا ہے بلا تفریق، اس بات پر کہ امریکی انتظامیہ مسلسل 3 ادوار میں افغان جنگ پر قوم کو گمراہ کرتی رہی۔ ڈیموکریٹ کانگریس مین میکس روز نے فوری فوجی انخلا پر زور دیا ہے۔ امریکہ میں فوج واپس بلانے کی صدا اٹھ رہی ہے۔ کہانی طویل بھی ہے اور نہایت مختصر بھی… فضائے بدر پیدا کر فرشتے تیری نصرت کو، اتر سکتے ہیں گردوں سے قطار اندر قطار اب بھی! صحابہؓ صفت ہو کر جنگ لڑنے کا فارمولا طالبان کے پاس تھا جو ایٹم بموں پر بھاری تھا۔ کل بھی آج بھی۔ راتوں کے راہب، دن کے شہ سوار۔! ’ تم ہی غالب رہو گے اگر تم مومن ہو ‘ کا وعدہ پورا ہوا ہے! الحمد للہ!


ای پیپر