پاکستان سسلین مافیا کے نرغے میں ہے
14 دسمبر 2019 2019-12-14

آصف علی زرداری صاحب کی بھی ضمانت ہو گئی ہے۔ عمران خان صاحب کی ساری سیاست دو لوگوں کی کرپشن کے گرد گھومتی تھی۔ میاں نواز شریف اور آصف علی زرداری۔ خان صاحب نے دونوں کو نہ چھوڑنے اور لوٹی ہوئی رقم نکلوانے کی قسمیں کھائی تھیں۔ لیکن عمران خان ناکام ہو گئے ہیں۔ خان صاحب کیوں ناکام ہوئے یہ جاننے کے لیے ہمیں کرپشن مافیاز کی کامیابی کے اصولوں پر ایک نظر ڈالنی ہو گی۔ کرپشن مافیا سسلین مافیا کی طرح کام کرتا ہے۔ انھوں نے بیوروکریسی، پارلیمنٹ ہاوسز ،عدلیہ اور میڈیا میں اپنے نمائندوں کا جال بچھایا ہوتا ہے۔ یہ اپنی مرضی کی قانون سازی کرواتے ہیں۔ اس قانون میں اپنے بچنے کے طریقوں پر قانون سازی سب سے پہلے کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر آپ کرپشن کریں اور قانونی ادارے آپ کو تحویل میں لے لیں تو بیماری کا بہانہ بنا لیں۔ آپ کی قانونی طور ضمانت ہو جائے گی۔ اس سے کام نہ بنے تو نیب کو تیتیس فیصد جمع کروائیں، ضمانت لیں اور گھر چلے جائیں۔ آپ کو کوئی ہاتھ نہیں لگا سکتا۔ آپ شہزادوں، مہاراجوں اور بادشاہوں جیسی زندگی گزار سکتے ہیں۔ خالص منافع چھیاسٹھ فیصد ہو گا۔

اب ایک نظر عدلیہ پر ڈال لیتے ہیں۔ عدلیہ کے قوانین کے مطابق اگر کسی جج پر کرپشن کا الزام ہو۔ اس کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس چل رہا ہو اور اس دوران جج صاحب رضاکارانہ طور پر مستعفی ہو جائیں تو ان کے خلاف انکوائری فوراً رک جاتی ہے۔ چاہے وہ الزامات کروڑوں، اربوں روپوں کے ہی کیوں نہ ہوں۔ دوسرے لفظوں میں یوں کہا جائے کہ جج صاحب جی بھر کر کرپشن کریں اور جب انکوائری میں جرم ثابت ہونے لگے تو مستعفی ہو جائیں۔ آپ کو پوری دنیا کا کوئی قانون نہیں پکڑ سکے گا۔ آپ باعزت بھی رہیں گے، با تقویر بھی رہیں گے اور سر اونچا کر کے، سینہ تان کر زندگی گزار سکیں گے۔مستعفی ہونے کے بعد ملزم جج کو وہ تمام آسائشیں ملیں گی جو ایک باعزت طریقے سے ریٹائر ہونے والے جج کو ملتی ہیں۔ اب آپ خود ہی فیصلہ کریں کہ یہ قوانین کن لوگوں نے بنائے ہیں۔ آپ یقینا اس نتیجے پر پہنچ جائیں گے کہ ایسے قوانین مافیاز ہی بناتی ہیں۔ اٹلی کے سسلین مافیا کی تاریخ ایسے قوانین سے بھری پڑی ہے۔ پاکستان کے قوانین کو دیکھتے ہوئے یہ یقین ہو جاتا ہے کہ کہ پاکستان کی پارلیمنٹ پچھلے ستر سالوں سے مافیاز کے زیر اثر ہے۔یہ قانون ایسے ہی نہیں بن گئے۔ کچھ سوچ سمجھ کر ہی بنائے گئے ہیں۔ یہ قانون مجرموں کو پتلی گلی سے نکالنے کے لیے بنائے گئے ہیں۔ سیاستدان کرپشن انہی قوانین کو مدنظر رکھ کر کرتے ہیں۔

آئیے اب دعا منگی کے اغوا اور رہائی کے بعد وزیراعلی سندھ کے گونگلوئوں پر سے مٹی جھاڑنے کے عمل پر ایک نظر ڈال لیتے ہیں۔وزیراعلی سندھ نے ہدایت کی ہے کہ دعا منگی کے مجرموں کو گرفتار کیا جائے۔ جناب محترم وزیراعلیٰ صاحب مجرموں کو پکڑنے کے لیے آپ کے احکامات کا شکریہ۔ اگر آپ احکامات جاری نہ کرتے تو نہ جانے کونسی کی قیامت آ جاتی۔ آپ نے فرما دیا ہمارے لیے یہی غنیمت ہے۔ میری دعا منگی کے والدین سے گزارش ہے کہ وہ وزیراعلی صاحب کے اس ہدایت نامے پر مطمئن ہو جائیں اور اس سے زیادہ کی توقع بھی مت کریں۔ کیونکہ وزیراعلیٰ صاحب کی حیثیت اس بیان سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔وزیراعلیٰ صاحب کچھ شرم آپ کو بھی آ جانی چاہیے۔ گو کہ اس کی امید بہت کم ہے لیکن کیا یہ سندھ حکومت کے لیے ڈوب مرنے کا مقام نہیں ہے کہ کچھ لوگ دعا منگی کو کراچی کے پوش علاقے سے کیمروں کے سامنے سر عام اٹھا کر لے گئے۔ آٹھ دن تک آپ کی سندھ پولیس سڑکوں پر بوٹ گھسٹتی رہی۔ پوری سندھ پولیس مل کر ایک لڑکی کا پتہ نہیں لگا سکی۔ اسے بازیاب کروانا تو دور کی بات ہے آپ تو یہ تک معلوم نہیں کر سکے کہ یہ حرکت کس کی ہے۔ وہ تو بھلا ہو دعا منگی کے والدین کا جو انھوں نے سمجھداری کا مظاہرہ کیا اور تاوان دے کر اپنی بچی کو صحیح سلامت گھر واپس لے آئے۔ کیونکہ اگر وہ بیوقوف ہوتے تو یقینا آپ پر ہی بھروسہ کرتے۔ آپ کی آس پر بیٹھے رہتے اور اتنی دیر میں ان کی بچی کے ساتھ کیا کچھ ہو جاتا آپ کو اسکی پرواہ بھی نہ ہوتی۔

آپ سے گزارش ہے کہ ڈھکوسلے اور ڈرامے بند کریں۔ یہ انکوائریوں اور گرفتاریوں کے آرڈر دینا بند کریں۔ مجرموں نے دعا منگی کو اغوا کیا، گھر والوں سے فون پر رابطے میں رہے، تاوان کا مطالبہ کرتے رہے، گھر والے انہیں اپنا گھر دکھاتے رہے تا کہ ان کی سفید پوشی عیاں ہو تاوان کی رقم کم ہو جائے۔ اس تمام معاملے میں مجرم کسی نہ کسی شکل میں منظر عام پر رہے آپ تب انھیں نہیں پکڑ سکے جب وہ سر عام دندناتے پھر رہے تھے تو اب کیا پکڑیں گے جب وہ چھپ گئے ہیں۔ وزیراعلی صاحب اگر یہ آپ کی بیٹی ہوتی تو آپ زمیں کھود کر یا آسمان پھاڑ کر بھی اسے بحفاظت بازیاب کروا لیتے۔ کیونکہ یہ عوام سے ہے اس لئے آپ کی صحت پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔

سندھ پولیس کے حوالے سے ایک اور تہلکہ انگیز خبر یہ بھی ہے کہ انسانی حقوق کے عالمی دن کے موقع پر امریکی محکمہ خزانہ نے پوری دنیا سے اٹھارہ لوگوں پر معاشی پابندی لگائی ہے۔ پوری دنیا کے ان اٹھارہ لوگوں میں امریکی محکمہ خزانہ نے پاکستان سے رائو انوار پر معاشی پابندی لگا دی ہے۔ امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق رائو انوار نے ایک سو نوے جعلی پولیس مقابلے کیے جن میں چار سو سے زائد لوگ مارے گئے۔ یہ پابندی انسانی حقوق کی شدید خلاف ورزیوں پر لگائی گئی ہے۔ وہ مبینہ طور پر بھتہ خوری، قبضہ مافیا منشیات اور انسانی سمگلنگ میں ملوث تھے۔ رائو انوار صاحب بدمعاشوں کے نیٹ ورک کی قیادت کرتے تھے۔ یہ الزام ان پر کوئی عام آدمی یا ملک نہیں لگا رہا بلکہ دنیا کی سب سے بڑی سپر پاور امریکہ لگا رہی ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ یہ ساری برائیاں اور جرم ہزاروں میل دور بیٹھے امریکہ کو تو نظر آ گئی ہیں لیکن پاکستان میں بیٹھی عدلیہ اور حکومت کو نظر نہیں آ رہی ہیں۔ ایک پولیس آفیسر پر بین الاقومی اداروں کی جانب معاشی پابندیاں لگ جانا پاکستان کے لیے باعث شرم ہے۔ ایک تو پہلے ہی دنیا ہماری عزت نہیں کرتی اور رہی سہی کسر اس طرح کے پولیس آفیسرز پوری کر دیتے ہیں۔ میں وزیراعلیٰ سندھ صاحب کو بتانا چاہتا ہوں کہ جب حکومتیں پولیس ڈپارٹمنٹ میں رائو انوار جیسے ٹارگٹ کلرز، بھتہ خوروں، منشیات فروشوں اور قبضہ مافیا کو ایس پی کا عہدہ دے دیتی ہیں تو دعا منگی جیسے واقعات معمول بن جاتے ہیں۔

آصف علی زردار کی ضمانت، عدلیہ کے یک طرفہ قوانین، دعا منگی کا اغوا، رہائی، راو انوار پر امریکہ میں معاشی پابندیاں اور پاکستان میں کھلی آزادی یہ پیغام دے رہے ہیں کہ پاکستان سسلین مافیا کے نرغے میں ہے۔


ای پیپر