پاگل اے جے…
14 دسمبر 2019 2019-12-14

دوستو، پاگل ہونا بھی کسی نعمت سے کم نہیں، موج مستی والی لائف ہوتی ہے، کوئی بچہ نہ کوئی وائف ہوتی ہے۔۔ہائے مزے مزے، ایسے مزے کہ جو مرضی کھالو، جب مرضی نہالو، جہاں مرضی رہ لو، جیسا چاہو کروسب یہی سوچ کر چپ کرجاتے ہیں کہ۔۔ پاگل اے جے۔۔ پاگلوں کو دنیا کا کوئی غم نہیں ہوتا، نہ کمانے کی فکر نہ بچے پالنے کی فکر۔۔ نہ امتحانات کی تیاری کا رولا، نہ صبح صبح اٹھ کر آفس جانے کی ٹینشن۔۔کبھی کبھی ہمارا دل بھی بہت شدت سے چاہتا ہے کہ کاش ہم بھی پاگل ہوتے ۔۔اب اس کاہرگز یہ مطلب نہ لیا جائے کہ ہم کام چور ہیںیاہم ذمہ داریوں سے فرار چاہتے ہیں، ہماری بالکل عجیب ہی لاجک اور فلسفہ ہے۔۔ہم اس لئے پاگل ہونا چاہتے ہیں کہ آخرت میں ہم سے کوئی حساب نہ ہو۔۔ کیونکہ وہ زندگی ہمیشہ ہمیشہ والی زندگی ہے،یہ دنیا تو سمجھیں کسی بس یا ٹرین کا ایک اسٹاپ ہے، جہاں ہم اور آپ سب ایک مسافر ہیں۔۔اور مسافر کسی اسٹاپ کو اپنی منزل نہیں سمجھتا۔۔ہم سب کی منزل آخرت والی زندگی ہے اور دنیا میں جو حالات چل رہے ہیں اس کے لئے بہت ضروری ہے کہ ہم سب پاگل ہوجائیں ورنہ یہاں تو ہم ٹینشن اور ہائپرٹینشن والی زندگی گزار ہی رہے ہیں، اوپر جاکر جو ’’چھتر‘‘پڑنے ہیں اس کے درد کا کوئی ڈاکٹر بھی تشریح نہیں کرسکتا۔۔

ڈاکٹر کی بات ہورہی تھی تو ایک اور واقعہ بھی سن لیں۔۔مریض کے لواحقین ڈاکٹر سے، خوراک کیا دیں؟۔۔نرم غذا دیں۔۔کون سی؟؟۔۔دلیا،کھچڑی،ڈبل روٹی،بسکٹ، پھل، جوس وغیرہ۔۔پھل کون سا ڈاکٹر صاحب؟؟۔۔سارے پھل۔۔کیلا دے دیں؟؟۔۔ ہاں دے دیں۔۔یہ تو بلغم بناتا ہے شاید؟۔۔اچھا،پھر نہ دیں۔۔ نہیں ڈاکٹر صاحب،اگر ضروری ہے تو دے دیتے ہیں،اچھایہ بتائیں کیلا کھانے سے پہلے دیں یا بعد میں دیں ؟؟۔۔اوبھائی ابھی مریض کو کھانا نہیں دینا۔۔تومریض کیا کھائے،خوراک کا بتادیں؟؟۔۔نرم غذا،دلیا،کھچڑی، پھل،ڈبل روٹی، جوس، پھل وغیرہ۔۔ گوشت کون سا دیں؟؟۔۔ابھی گوشت نہیں دینا ۔۔چھوٹا بڑا کوئی بھی نہیں دینا ؟ ۔۔۔نہیں مرغی بھی نہ دیں ۔۔اور مچھلی؟؟۔۔۔ نہیں۔۔۔چوزہ تو دے دیں؟؟۔۔ نہیں بھائی، ابھی کوئی پکی ہوئی چیز نہیں دینی۔۔دودھ تو دے سکتے ہیں ناں؟ ۔ہاں دودھ دے دیں۔۔۔ کون سا دودھ، کچا یا کاڑھ کے؟؟۔۔۔کاڑھ کے۔۔ ٹھنڈا یا گرم؟؟۔۔’’ کوسا ‘‘دے دیں۔۔ کتنا ’’کوسا‘‘؟؟۔۔ ہلکا’’ کوسا‘‘۔۔اتنی دیر میں مریض کا ایک اور قریبی رشتہ دار گفت و شنید میں شامل ہوجاتا ہے، سوالات کرنے والے کے کاندھے پر ہاتھ رکھ کے اسے خاموش ہونے کا اشارہ کرتے ہوئے کہتا ہے۔۔۔چھڈ۔۔تینکوں تا سمجھ ہی نئی آندی۔میکوں پچھن ڈے۔۔ہیں سائیں ڈاکٹر صاحب۔۔۔۔خوراک کیا ڈیووں۔۔؟؟؟

ذہنی امراض کے اسپتال سے ایک مریض کو رخصت کرتے وقت ڈاکٹر نے کہا۔۔آپ ہمارے علاج سے صحت یاب ہو گئے۔ امید ہے اب تو آپ ہمارا بل ادا کردیں گے؟۔۔مریض نے شاہانہ لہجے میں کہا۔۔کیوں نہیں۔اگر ہم نے تمہارا یہ چند لاکھ کا حقیر بل ادا نہیں کیا تو ہمیں اکبر بادشاہ کون کہے گا۔۔۔اسی طرح ایک صاحب بتا رہے تھے کہ وہ اپنا موبائل گاڑی میں بھول گئے تو اپنے پیچھے ڈرائیور کو آتا دیکھ کر کہا۔۔ تم جاؤ اور گاڑی میں سے میرا موبائل ڈھونڈھ کر لے آؤ۔۔۔تھوڑی دیر کے بعد ان کے ہینڈ بیگ سے موبائل بجنے کی آواز آئی تو اپنی غلطی پر شرمندہ ہوئے۔ موبائل نکال کر دیکھا تو ڈرائیور کی ہی کال تھی۔۔پوچھ رہا تھا، صاحب ، گاڑی میںہرجگہ تلاش کر لیا ہے موبائل نہیں ملا، آپ یاد کیجئے کہیں اور تونہیں رکھ دیا ۔۔؟؟سنا ہے کراچی میں بادام سستے اور چھالیہ مہنگی ہے۔۔ اسی لئے تو کہاجاتا ہے کراچی والوں کا دماغ چھالیہ کھانے سے چلتا ہے۔۔ہمارے پیارے دوست نے جب سنا کہ فیس بک کے مالکان نے واٹس ایپ انیس ارب ڈالر میں خریدلیا تو فرمانے لگے، کتنے عجیب لوگ ہیں یہ، اتنا مہنگا واٹس ایپ خریدنے کی کیا ضرورت تھی، پلے اسٹور سے بالکل فری مل جاتا ہے۔۔ایک محترمہ کی شادی کے فوری بعد دورپرے کی خالہ سے ملاقات ہوئی،خالہ نے پوچھا،شادی ہوگئی تمہاری۔۔محترمہ نے جواب دیا،جی۔۔خالہ نے پھر پوچھا، لڑکا کیا کرتا ہے؟۔۔محترمہ نے جواب دیا۔۔ افسوس۔۔

باباجی سے تو آپ سب لوگ اچھی طرح واقف ہوچکے ہیں۔۔وہ فرماتے ہیں۔۔خربوزے کی آنکھیں ہوتی ہیں کیا؟ نہیں نا؟پھر کیوں کہتے ہیں خربوزہ خربوزے کو دیکھ کے رنگ پکڑتا ہے۔۔باباجی کا ہی فرمان عالی شان ہے۔۔کسی کو اْدھار دیں تو یادداشت بہتر رکھنے والی ادویات بھی ساتھ ہی دے دیا کریں۔۔۔وہ مزید فرماتے ہیں۔۔جب دو نفسیاتی لوگ خوش قسمتی سے ایک دوسرے کے دوست بھی ہوں تو ان کے درمیان بیٹھا تیسرا نارمل شخص پاگل ہوتا ہے۔۔باباجی کا ہی اقوال ذریں ہے کہ۔۔نکلا ہوا پیٹ تو واپس آ جاتا۔۔۔لیکن نکلے ہوئے دانت کبھی واپس نہیں آئے، اس لیے ہمیشہ اپنی زبان کو احتیاط سے استعمال کیجئے۔ ۔اُن کا یہ بھی کہنا ہے کہ ۔۔لوگوں کو عزت دیں لیکن ساری ہی نہ دے دیں۔۔۔!!

میاں بیوی اپنی شادی کی چالیسویں سالگرہ پر اپنا سکول کا دور یاد کر رہے تھے۔دونوں نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنے اسکول جائیں گے اور بچپن کے پیار کی یادیں تازہ کریں گے۔وہ اسکول گئے، وہ بینچ دیکھا جس پر پچاس سال پہلے دونوں نے مل کر ’’آئی لو یو‘‘ لکھا تھا۔پیدل واپس آ رہے تھے کہ ایک آرمر گاڑی میں سے ایک تھیلا گرا۔خاتون نے اٹھا لیا۔وہ تھیلے کو گھر لے گئے،کھول کر دیکھا تو اس میں پچاس ہزار ڈالر تھے۔ خاوند نے کہا کہ انھیں وہ تھیلا واپس کرنا چاہیے لیکن بیوی نے کہا ۔۔’’لبھی شے خدا دی‘‘ اور چوبارے میں چھپا دیا۔دوسرے دن ایف بی آئی والے پہنچ گئے اور پوچھا آیا کہ انھیں کوئی تھیلا ملا۔بیوی نے کہا، نہیں۔خاوند بولا۔۔یہ جھوٹ بولتی ہے۔ تھیلا اوپر چوبارے میں ہے۔۔خاتون نے کہا،اس کا دماغ ٹھیک سے کام نہیں کرتا، اس کا ذہن اس کے بچپن میں چلا گیا ہے، یہ سکون آور ادویات لیتا ہے۔ایف بی آئی والے بیٹھ گئے اور خاوند سے کہا،آپ تفصیل سے بتائیں تھیلا کب، کیسے اور کہاں ملا۔؟؟خاوند نے بولنا شروع کیا،کل میں اور میری بیوی اسکول سے آ رہے تھے۔۔۔’’چلو اوئے بابا واقعی پاگل جے‘‘، ایک افسر نے بات کاٹتے ہوئے کہا اور وہ خاتون کا شکریہ ادا کرتے ہوئے چلے گئے۔۔

اور اب چلتے چلتے آخری بات۔۔تمام جانداروں میں صرف انسان پیسہ کماتا ہے۔ حیرت کی بات ہے کہ انسان کے علاوہ کوئی جاندار بھوکا نہیں مرتا۔۔اور انسان کا کبھی پیٹ نہیں بھرتا۔۔۔خوش رہیں اور خوشیاں بانٹیں۔۔


ای پیپر