گوجرانوالہ پولیس کا اقبال بلند ہو!
14 دسمبر 2019 2019-12-14

(دوسری وآخری قسط )!

گوجرانوالہ کے ہر دل عزیز آرپی او طارق عباس قریشی اپنے ماتحت اضلاع میں کوئی نہ کوئی رونق لگائے رکھتے ہیں، پولیس کو عوام خصوصاً مظلوم عوام کی خدمت کے لیے وقف کرنے میں اُن کی جدوجہد شاید اِس لیے رنگ لے آتی ہے وہ ایک نیک نیت انسان ہیں، ظاہر ہے ساری خرابیاں تو وہ دور نہیں کرسکتے کہ ساری خرابیاں تو انسان خود اپنی دور نہیں کرسکتا، مگر محنت اور محبت سے ہر ممکن حدتک وہ یہ کوشش کرتے ہیں پولیس اور عوام کے درمیان فاصلے کم ہوں، بڑی دیر کے بعد گوجرانوالہ میں ایسا آرپی او آیا ہے جو گوجرانوالہ کے عوام اورپولیس میں یکساں مقبول ہے، اپنی مقبولیت کے لیے وہ مصنوعی یا جعلی طریقے نہیں اپناتا، جیسا کہ چند برس قبل گوجرانوالہ میں وزیرآباد سے تعلق رکھنے والا ایک نمائشی ایماندار پولیس افسر اپنا تا تھا ، شہرت کا وہ اس قدر بھوکا تھا ذرا سا کوئی اچھا کام کرلیتا پورے گوجرانوالہ کو مصیبت پڑجاتی کہ سارے کام چھوڑ کر آرپی او صاحب کی تعریف کے لیے کون سا طریقہ اختیار کرنا ہے؟۔ اب خیر سے وہ ریٹائرڈ ہوگیا ہے، اور اُس کی شہرت بھی اُس کے ساتھ ہی ریٹائر ہوگئی ہے، ریٹائرمنٹ کے بعد اپنے پسندیدہ شریف برادران سے ایک ٹیکنیکل عہدہ حاصل کرنے میں وہ کامیاب ہوگیا تھا جسے برقرار رکھنے کے لیے موجودہ وزیراعظم عمران خان کی خوشامد بھی اُس نے شروع کردی تھی، ایک وفاقی وزیر کو ساتھ لے کر اُن سے ملاقات بھی کر آیا تھا، پر بات نہ بن سکی، اُسے فارغ کردیا گیا، جس پر اپنا بچا کھچا بھرم برقرار رکھنے کے لیے اُس نے مشہور کردیا ”وزیراعظم سے مل کر اصل میں، میں نے خود کام کرنے سے معذرت کی ہے۔“ جی تو میرا بہت چاہا تھا اِس ضمن میں ”اصل کہانی“ سامنے لے آﺅں، پر پھر سوچا جو چلے گیا اُسے اب جانے ہی دیا جائے۔ وہ جہاں تعینات ہوتا تھا ایس ایچ اوز کو مسجدوں میں بلا کر قرآن پاک پر اُن سے حلف لیتا کہ وہ کرپشن نہیں کریں گے“۔ ایک دن ایک ایس ایچ او پھٹ پڑا۔ اُن سے کہنے لگا ”سر آپ کو اپنی کمانڈ پر اعتبار نہیں جو آپ قرآن پاک کو بیچ میں لے آتے ہیں ؟’“ مزے کی بات یہ ہے سارے کرپٹ ایس ایچ اوز نے حلف دے دیا، اور جس نے حلف دینے سے معذرت کی وہی سب سے ایماندار ایس ایچ او تھا، .... موجودہ آرپی او طارق عباس قریشی بالکل مختلف طبیعت کے مالک ہیں۔ وہ کسی سے حلف نہیں لیتے، پر مجھے یقین ہے خود اُنہوں نے حلف اُٹھایا ہوا ہے وہ اپنے فرائض انتہائی ایمانداری سے انجام دیں گے، ایسی حلیم طبیعت کے مالک ہیں اپنے کسی ماتحت کو اُس کے کسی ناقابل معافی جرم یا غلطی پر محکمانہ سزادینی ہو اُس سے پوچھ لیتے ہیں کہ ”بھائی اگر اجازت ہو میں آپ کو سزا دے دوں ؟“ .... جتنی محبت سے وہ پوچھتے ہیں کوئی آگے سے یہ بھی نہیں کہہ پاتا ”نہیں سر سزا نہ دیں“ .... کوئی خاص وعام اُن کے پاس اپنی جائز گزارش لے کر چلے جائے یہ ممکن ہی نہیں وہ دل وجان سے اُس کی مدد نہ کریں، میرے بے شمار دوست اپنے کسی جائز کام کے لیے مجھے اُن سے سفارش کرنے کے لیے کہتے ہیں، میں اُن دوستوں سے گزارش کرتا ہوں ”ایک بار آپ میری یا کسی کی سفارش کے بغیر اُن کے پاس چلے جائیں، آپ کا کام اگر نہیں ہوگا میں آپ کے ساتھ چلے جاﺅں گا، اور بالکل ایسے ہی ہوتا ہے۔ واپس آکر دوست بتاتے ہیں اُنہوں نے صرف کام ہی نہیں کیا، چائے بھی پوچھی ہے، اپنے دشمنوں کے لیے بھی اپنا دل وہ صاف رکھتے ہیں، چہرہ ایسا نورانی دیکھتے ہی کلیجے میں ٹھنڈ پڑ جاتی ہے، ابھی پچھلے دنوں تقریباً پورے پنجاب کے آرپی اوز اور ڈی پی اوز تبدیل کردیئے گئے۔ وہ تبادلوں کے اس طوفان کی زد میں آنے سے شاید اس لیے بچ گئے ہوں گے گوجرانوالہ کے لوگ خاص طورپر مظلوم اور بے بس لوگ اپنے مسائل حل ہونے پر جھولیاں اُٹھا اُٹھا کر اُنہیں دعائیں دیتے ہیں، جبکہ ماضی میں کچھ ایسے پولیس افسران بھی بطور آرپی او گوجرانوالہ میں تعینات رہے جنہیں لوگ جھولیاں بھر بھر کے بلکہ بوریاں بھر بھر کر پیسے دیتے تھے۔ بطور سی پی او گوجرانوالہ ڈاکٹر معین مسعود نے بھی یادگار وقت گزارا۔ اُن سے پہلے یہاں اشفاق احمد خان بطور سی پی او تعینات تھے، گوجرانوالہ اس حوالے سے خوش قسمت ہے اس کے مقدر میں کچھ عرصے سے اچھے پولیس افسر لکھے جانے لگے ہیں، اشفاق احمد خان جیسے ایماندار، شاندار، حیادار افسران پولیس میں بہت کم میں نے دیکھے ہیں، گوجرانوالہ کے بعد وہ فیصل آباد چلے گئے، وہاں سے بطور ڈی آئی جی آپریشن لاہور تعینات ہوئے۔ ابھی یہاں چارپانچ ماہ ہی اُنہیں ہوئے تھے بغیر کسی وجہ کے اُنہیں تبدیل کرکے جہاں حکمرانوں نے اپنی جاہلیت کا ثبوت دیا وہاں لاہور کے ساتھ بھی ”بلنت کار“ کیا گیا، پانچ چھ ماہ تک اپنی صحت اور فیملی کو نظرانداز کرکے جس سلیقے سے لاہور کو اُنہوں نے سنبھالے رکھا، اور اس سے قبل جس باوقار انداز میں فیصل آباد کو انہوں نے سنبھالے رکھا، دونوں شہروں کے لوگ دل سے ان سے محبت کرتے ہیں، اور اُنہیں یاد بھی کرتے ہیں، ایسے درویش صفت افسران سے کام نہ لے کر حکمران اپنا ہی کام خراب کرتے ہیں، جوکہ وہ مسلسل کر بھی رہے ہیں، حکمران اگر یہ سمجھتے ہیں ہر دوسرے چوتھے روز تھوک کے حساب سے محض افسران کے تبادلے کرنے سے روز بروز گرتی ہوئی اپنی شہرت کو کوئی سنبھالا وہ دے سکیں گے، یہ اُن کی خام خیالی ہے، اس سے معاملات سنورنے کے بجائے مزید بگڑیں گے، ....جہاں تک گوجرانوالہ پولیس کی جانب سے منعقدہ ” اقبال سیمینار“ کا تعلق ہے، چیمبر آف کامرس گوجرانوالہ کا ہال کھچا کھچ بھرا ہوا تھا، علامہ اقبال ؒکے نواسے، دبستان اقبال کے سربراہ اور ممتاز سکالر میاں اقبال صلاح الدین نے اقبال کی شاعری کی روشنی میں اقبال کی شخصیت کو ایک نئے اور خوبصورت انداز میں حاضرین کے سامنے پیش کیا، سیمینار میں سب سے زیادہ مو¿ثر اور پسند کی جانے والی گفتگو میاں اقبال صلاح الدین نے کی، انہوں نے اس پر حیرت کا اظہار بھی کیا کہ پولیس کی جانب سے اس طرح کے سیمینار کا اہتمام کیا گیا۔ آرپی او گوجرانوالہ طارق عباس قریشی کی اقبال ؒ کے ساتھ والہانہ محبت اور عقیدت پر بھی وہ خوش ہوئے۔ میں نے اُنہیں ایک ویڈیو دکھائی جس میں طارق عباس قریشی کے خوبصورت اور ذہین صاحبزادے محمد شہریار قریشی اپنے سکول ( ایچی سن) کی ایک تقریب میں اقبال ؒکے روپ میں بہت ہی پر اعتماد لہجے میں کلام اقبال سنا رہے ہیں۔ میاں اقبال صلاح الدین کا یہ مو¿قف بہت جاندار اور درست ہے ہم اپنے بچوں اور اپنی نوجوان نسل کو اصل اقبال ؒسے متعارف کروادیں، اور اقبال ؒ کی وہ شاعری جس میں نوجوان نسل کے سدھرنے اور سنورنے کی کئی آسانیاں اور نشانیاں موجود ہیں مو¿ثر انداز میں نوجوانوں تک پہنچا دیں نوجوان واقعی اس ملک کے لیے ایک سرمایہ ثابت ہوسکتے ہیں۔ افسوس ہمارے نام نہاد بڑوں کی اس جانب توجہ ہی نہیں ہے !!


ای پیپر