اب ایسا نہیں چلے گا
14 دسمبر 2019 2019-12-14

ملک کیا ملا جیسے ایک تجربہ گاہ ہاتھ آگئی۔ہر اناڑی نے خود کو کھلاڑی سمجھتے ہوئے نت نئے تجربے کیے۔ نئے نئے ’فارمولے‘ گھڑے گئے اور جب وہ ایک ایک کرکے ناکام ہوتے گئے تو مخصوص نظریے مارکیٹ میں لانچ کردیے گئے۔ چلو مانا کہ ابتدائی دنوں میں سسٹم نہیں تھا۔ صفر سے شروع کرنا تھا۔سب تجربات کر رہے تھے اور ہر طرف کھینچا تانی تھی مگر دیکھا جائے ہم تو آج بھی ’ابتدائی دور سے گذر رہے ہیں۔

مشکل سے جمہوریت کی بنیاد رکھی گئی لیکن اسے شروع سے ہی بدستور کمزور بنانے کا سلسلہ شروع کر دیا گیا۔ جمہوریت پر شب خون مار کر تواتر کے ساتھ مارشل لگائے جاتے رہے۔

سابق ڈکٹیٹر ایوب خان کے دور کو ملک کا سنہرا دور کہا جاتا ہے۔ عمران خان آج بھی ان کے دور کے معاشی حالات کی تعریف کرتے نہیں تھکتے مگر کپتان صاحب کے سیاسی شعور اور جغرافیے کی طرح تاریخ بھی کمزور ہے۔ عمران خان کو چاہیے کہ وہ صدر ایوب کے ’تاریخی معاشی سنہرے دور‘ کی بابت شبلی فراز سے ہی پوچھ لیں جنہیں حبیب جالب کی یہ نظم ضرور یاد ہوگی

بیس گھرانے ہیں آباد، اور کروڑوں ہیں ناشاد

صدر ایوب زندہ باد

ایوب خان نے سول اداروں اور وفاق کی اکائیوں کو نقصان پہنچایا جس کا نتیجہ بنگلہ دیش کی صورت میں نکلا۔

ملک کی درست سمت کا تعین کرنا سیاسی قیادت کا کام ہوتا ہے۔ لیکن بدقسمتی سے انہیں آزادانہ طریقے سے کام نہیں کرنے دیا گیا۔ مرضی کے لوگوں کو سیاست میں لایا گیا۔ اپنے تمام کام ان سے کروائے گئے۔

سانحہ مشرقی پاکستان کے بعد اقتدار مجبوراً سول حکومت کے حوالے کرنا پڑا ۔ پھر اسے باہر پھینک دیا اور بھٹو کو ولن بنا کر پھانسی پر چڑھا دیا گیا۔مشرقی پاکستان میں برپا کی جانے والی دھونس اور دھاندلی کو نظر انداز کرتے ہوئے اسٹیبلسشمنٹ نے بنگلا دیش کی تشکیل کو بھٹو کے کھاتے میں ڈال دیا جیسے وہ اس وقت فیلڈ مارشل لگے ہوئے تھے۔

کچھ حلقے جنرل ضیاالحق کو پاکستان کی تاریخ کے بھیانک ترین چہرہ سے تعبیر کرتے ہیں۔ ان کے دور میں عدم برداشت، نفرت، انتہا پسندی اور قوموں کو منتشر کرنے کی بنیاد ڈالی گئی اور تقسیم کے ’ہدف‘ کے حصول کے لیے ادارہ جاتی بنیادوں پر کام کیا گیا۔ آج بھی اسی نظام کی کوکھ سے نفرتیں اور انتہا پسندی مختلف شکلوں میں جنم لے رہی ہے۔

اس بات کی واضح نشاندہی اس وقت کے سیاستدانوں نے بھی کی تھی۔ کاش اس وقت کے غداروں کی باتیں مان لی جاتیں تو اس دور کے محب وطن آج غدار نہ بنائے جاتے۔

وہ کہتے ہیں نا کہ “جیسی قوم ویسے فرشتے”۔

ہر جگہ ریا کاری ہے۔ ان چیزوں سے ہرگز نہیں لگتا کہ ہم عظیم ترین مذہب اور اس مذہب کے عظیم ترین پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیرو کار ہیں۔ دنیا بھر میں ہماری وجہ شہرت کیا ہے اور دنیا کیا سوچتی ہے بیرون ملک سفر کرنے والے بخوبی آگاہ ہیں۔

کوئی شک نہیں نائن الیون کے بعد دنیا کا نقشہ بدل گیا۔ اس صورت حال میں قیادت دوراندیشی سے کام نہیں لے سکی۔ پھر سے ماضی کی غلطیاں دہراتی گئیں۔ اس کاخمیازہ ہم آج بھی بھگت رہے ہیں۔

حالات کو ذاتی مفاد کے بجائے ملک کے حقیقی وسیع تر مفاد کی نظر سے دیکھنا ہوگا۔ پاکستان کے حالات بدل چکے ہیں اور بہت تیزی سے بدل رہے ہیں لیکن بدقسمتی سے تبدیلی کا یہ سفر ترقی استحکام اور بقا کا نہیں ہے۔

اگر کوئی سیاست دان کرپٹ ہے تو وہ اکیلا ذمہ دار نہیں بلکہ اسے بنانے والے بھی برابر کے شریک ہیں۔نظریہ ضرورت کے تحت جن لوگوں کو اہل افراد پر فوقیت دے کر آگے لایا جاتا ہے تو وہ صرف ایک ٹول کے طور پر کام کرتے ہیں کیونکہ وہ اسی کو بس تعمیری اور تخلیقی کام سمجھتے ہیں۔

لیکن یہاں ایک سوال ضرور بنتا ہے۔ کیا سیاستدانوں نے کوئی سبق حاصل کیا؟

افسوس تو یہ بھی ہے کہ عوامی طاقت کے بل بوتے پر آنے والے سول حکمران بھی میرٹ کی دھجیاں بکھیرنے سے باز نہیں آتے۔

ذوالفقار علی بھٹو اگر جنرل ضیا الحق کوسینئرز جرنلز سے سپر سیڈ کرکے آگے نہ لاتے تو شاید ایسے انجام سے دوچار نہ ہوتے۔ نواز شریف نے یہ کارنامہ دو مرتبہ انجام دیا۔

کپتان بھی کسی اور کی باری کھیل رہے ہیں، بے چارے کیا کریں گے جب انہیں آو¿ٹ ہوئے بغیر آو¿ٹ کردیا جائے گا ۔

دوسری طرف عام آدمی کی زندگی اجیرن ہوتی جارہی ہے مگر کسی کو کوئی پروا نہیں کہ یہ شدید نوعیت کا سیاسی انتشار ملکی بقا کے لیے کس قدر خطرناک شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔ پچھلے 10 سال میں سیاسی اور فوجی کشمکش نے ریاستی ڈھانچے کو برباد کرکے رکھ دیا ہے۔

الیکشن 2018 کے بعد سے معاملات شدید تر ہوئے ہیں۔ سیاستدانوں سمیت تمام ادارے خصوصاً فوج اور عدلیہ کھلے الزامات کی زد میں ہیں اور ان شکایات کی شدت اب بڑھتی محسوس ہو رہی ہے۔لاہور میں ہسپتال پر وکلا ءکا حملہ ہمارے معاشرے کو بے نقاب کرنے کی بدترین مثال ہے۔

اب کیا ہونا چاہئے؟ میرا خیال ہے کہ ادارو ں کی جانب سے ایک دوسرے کے کاموں میں مداخلت کو روکنے، عدلیہ کی کارکردگی بہتر بنانے، مقننہ کا اختیار صرف قانون سازی تک محدود کرنے، انتظامیہ میں ترقیوں، تعیناتیوں اور تبادلوں میں سیاسی اثرو رسوخ ختم کرنے، عسکری اداروں کے کردار کو اپنے دائرے میں محدود کرنے، لاپتہ افراد کے معاملے کو حل کرنے، شفاف احتساب کو یقینی بنانے اور سب سے بڑھ کر میثاق حاکمیت کی اہمیت، ضرورت اور اس کو عملی جامہ پہنانے کی ضرورت کو سمجھتے ہوئے معاملات پر دوٹوک مباحث کا سلسلہ شروع کرنا ہوگا۔

کچھ ماہرین کے خیال میں آئین میں اداروں کے اختیارات اور دائرہ ہائے کار بہت وضاحت سے درج ہیں اور ان کی تشریح کا حق بھی سپریم کورٹ کوحاصل ہے سو ایسے میں اداروں کے مابین کسی معاہدہ کے لیے کوئی نیا نظام وضع کرنا بے مقصد ہے۔البتہ ان روابط کی ضرورت اور اہمیت سے کوئی انکاری نہیں اور اس مقصد کے لیے پہلے سے موجود پلیٹ فارم کو مو¿ثر اندازمیں استعمال کرنا اور انہیں بہتر بنانا ہی بہترین آپشن معلوم ہوتا ہے۔

سب سے پہلے ہمیں اپنی آوازوں کو سننا ہوگا۔ خواہ آواز پوٹھوہار کی ہو یا جنوب کی، چاہے وہ خیبر پختونخواہ کے پہاڑوں یا بلوچستان کے ریگستانوں کی ہو یا سندھ کی یا پھر گلگت بلتستان سے اٹھنے والی آواز اس پر توجہ دینی ہوگی۔

تفرقوں، امتیازی سلوک کی سوچ اور تقسیم در تقسیم کا نظریہ دفن کرکے اندرونی اور بیرونی دنیا میں اپنے کھوئے ہوئے وقار کو تلاش کرنا ہے۔

کہیں سے تو شروع کریں کیونکہ ایسا مزید نہیں چلے گا ۔


ای پیپر