لندن میں کمسن بچی سے زیادہ کرنے والے پولیس افسر کو سزا
14 دسمبر 2018 (18:37) 2018-12-14

لندن :لیورپول کورٹ نے 13 سالہ لڑکی کے ریپ کے بعد اس سنگین جرم کی ویڈیو بنانے والے برطانوی پولیس افسر کو 25 سال قید کی سزا سنا دی۔چیشائر پولیس کے 30 سالہ سابق پولیس اہلکار ای این نوڈے کو لیورپول کراؤنڈ کورٹ نے 37 جرائم کا مرتکب قرار دیتے ہوئے 25 سال قید کی سزا سنائی۔

نوڈے نے 13سالہ لڑکی کو اپنی کار کی پچھلی نشست پر ریپ کا نشانہ بنایا اور پھر اپنے موبائل پر اس کی ویڈیو بنائی جبکہ ان پر دیگر بچوں کو بھی بلیک میل کرنے کا الزام تھا۔نوڈے کا پہلی مرتبہ مذکورہ لڑکی سے سامنا اس وقت ہوا جب وہ شاگرد پولیس افسر کی حیثیت سے ایک گھریلو واقعے کی تحقیقات کیلئے گزشتہ اکتوبر ان کے گھر گئے تھے اور پھر کچھ دنوں بعد ہی انہیں گھر سے اٹھا کر ریپ کا نشانہ بنایا۔

لیورپول کورٹ کے جج کلیمنٹ گولڈ اسٹون اپنے فیصلے میں کہا کہ ایک کمسن لڑکی پر اپنی خواہش تھوپنے کیلئے چیشائر پولیس کے افسر نے اپنے عہدے کا غلط استعمال کرتے ہوئے ریپ اور جنسی ہراساں کرنے جیسے الزامات عائد کیے۔متاثرہ لڑکی کی والدہ نے کہا کہ میری بیٹی اب اپنے قریبی گھر والوں کے بغیر گھر سے باہر نکلتے ہوئے ڈرتی ہے، اب وہ کسی پولیس اسٹیشن کے سامنے سے نہیں گزرے گی اور جب کبھی بھی کوئی پولیس کی گاڑی اس کے پاس سے گزرے گی تو وہ چھپ جائے گی۔

واقعہ میں گرفتار کیے جانے کے بعد نوڈے کو پولیس نے ریپ اور جنسی طور پر ہراساں کیے جانے کے الزام میں گرفتار کر لیا تھا اور ٹرائل کے دوران انہوں نے اعتراف کیا کہ انہوں نے 18 ماہ کے دوران 18سال تک کی لڑکیوں کی تقریباً ڈیڑھ ہزار نازیبا تصاویر کھینچیں۔عدالت میں انکشاف ہوا کہ جنوبی افریقی نڑاد نوڈے سوشل میڈیا پر 15سالہ جیک گرین کی تصویر لگا کر کمسن لڑکیوں کو اپنے جال میں پھنساتے تھے۔


ای پیپر