قومی سیاست میں مر یم نواز کی ری -اینٹری
14 اگست 2020 (23:49) 2020-08-14

پھول اور پتھر ہمارے اردو ادب خصوصاً شاعری کا اثاثہ ہیں شاعری میں چونکہ مبا لغہ کا عنصر زیادہ پایا جاتا ہے لہٰذااظہار محبت کیلئے پھولوں اور اظہار نفرت کیلئے پتھروں کا ذکر شعلہ بیانی کیلئے مثالی سمجھا جاتا ہے۔ سیاست چونکہ مبالغہ کا دوسرا نام ہے لہٰذا سیاسی ریلیوں میں اپنے محبوب قائد کیلئے پھولوں اور ریاستی اداروں کیلئے پتھروں کا استعمال ہماری ہمعصر سیاست میں اہمیت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ پہلے پولیس کے ساتھ جھڑپ میں پتھر اٹھائے جاتے تھے اب ساتھ لائے جاتے ہیں کیونکہ سیاسی ریلیوں میں ہر قدم بڑا منظم اور calculatedہوتا ہے۔ آنے والے وقت میں ممکن ہے ریلی کے مقام پر پتھر بھی فروخت ہوا کریں گے۔اس لئے محترم مریم نواز کی حالیہ ریلی میں پتھروں کی سپلائی کو ایشو بنانا زیادہ اہمیت نہیں رکھتا۔ 

مریم نواز اس ریلی سے جو کچھ حاصل کرنا چاہتی تھیں انہیں اس میں خاصی حد تک کامیابی ملی ہے البتہ اس کے منفی پہلوبھی سامنے آرہے ہیں۔ گزشتہ ڈھائی سال سے حکومے اپنے تمام تر نقائص اور ناکامیوں کے باوجود اپوزیشن کو تتر بتر کرنے میں کامیاب رہی۔ اپوزیشن کی دونوں بڑی سیاسی جماعتیں بیک فٹ پر رہ کر اپنی بقاء کی جنگ اور عدالتوں میں پیشیاں بھگتنے میں مصروف رہیں۔مسلم لیگ ن کے اندر سے آوازیں اٹھ رہی تھیں کہ مزاحمت کا راستہ اختیار کیا جائے تاکہ حکومت کوٹف ٹائم مل سکے اور ن لیگ پر جاری دبائو میں کمی آئے لیکن شہبازشریف اور سینئر قیادت اس آپشن کی طرف نہیں آئی۔ اس پس منظر میں مریم نواز نے پارٹی اور قومی سیاست دونوں میں come backکیا ہے اور سیاسی لحاظ سے ایک موثر ریلی یا شوآف پاور کے ذریعے باور کرا دیا ہے کہ عوام ان کے ساتھ ہیں۔ 

کئی گھنٹے تک جاری رہنے والی لائیوکوریج اور چینلوں پر معمول کی نشریات کی کوریج کو بین نہیں کیا گیا جیسا کہ پہلے کئی موقوں پر ہوچکا ہے۔ مریم کو 2014ء میں رائیونڈ میں 180ایکڑ اراضی کی خریداری کے سلسلے میں وضاخت کیلئے بلایا گیا تھا۔ یہ ایک قابل غور امر ہے کہ ن لیگ کی اعلیٰ قیادت جس میں شہبازشریف ،خواجہ آصف، احسن اقبال اور خواجہ سعد رفیق جیسے نام شامل ہیں۔ انہوں نے اس ریلی میں شرکت نہیں کی جس سے ن لیگ میں اعلی سطح پر اختلافات کی قیاس آرائیاں مزید زور پکڑرہی ہیں۔ مریم نواز کے ساتھ رانا ثناء اللہ اور شاہد خاقان عباسی تھے جو نواز شریف کے قریبی سمجھے جاتے ہیں۔ خیال کیا جارہا ہے کہ مریم نواز اس وقت دو محاذوں پر لڑ رہی ہیں۔ ایک تو اندر قیادت کے خلاء کو پر کرنے کیلئے وہ خود کو نوازشریف متبادل کے طور پر پیش کرتی ہیںاور ان کا یہ بیانیہ پارٹی میں نچلی سطح پر خاصا مقبول ہورہا ہے۔انہوں نے سنگین حالات میں پارٹی کو مستحکم کرنے 

اور ورکرز کے اعتماد کی بحالی کیلئے فعال ہونے کا فیصلہ کیا ہے مگر انہیں یہ پتہ ہونا چاہیے کہ ن لیگ میں گزشتہ ڈھائی سال میں جو لیڈر بھی vocalہونے کی کوشش کرتا ہے وہ نیب کی ہٹ لسٹ پر آجاتا ہے جس کی وجہ سے نیب کی اپنی ساکھ اور شناخت کافی بگڑ چکی ہے۔

مریم نواز کی ریلی کے بعد حکومتی وزراء فیاض الحسن چوہان اور راجہ بشارت کی پریس کا نفرنس کا فوری انعقاد اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت کے گھر میں ہلچل مچ گئی ہے۔ان حضرات کے چہرے اور زبان کا استعمال بھی حکومتی بوکھلاہٹ کو سمجھنے میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔ نیب نے اگلے دن وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کو شراب کے خلاف ضابطہ لائسنس جاری کرنے اور بزدار فیملی کے اثاثوں میں نمایاں اضافے پر طلب کیا تھا مگر رانا ثناء اللہ کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ کی طلبی محض نمائشی اقدام ہے تا کہ نیب کے غیر جانبدار ہونے کا تاثر مل سکے۔ البتہ ایک پہلو قابل غور ہے اگر عثمان بزدار نے شراب کا غیر قانونی ٹھیکہ پیسے لے کہ جاری کیا ہے یا ان کی فیملی کے اثاثوں میں اضافے والی بات میں وزن ہے تو پھر پی ٹی آئی حکومت کا اخلاقی فرض ہے کہ انہیں عہدے سے ہٹا دے تاکہ وہ تحقیقات پر اثرانداز نہ ہوسکیں اگر حکومت ایسا نہیں کر تی تو نیب اعلیٰ عدالت سے رجوع کرکے ان کی معطلی کا قا نونی جواز پیش کرکے اعلیٰ عدالت سے فیصلہ حاصل کر سکتی ہے۔

عثمان بزدار کی بطور وزیراعلیٰ تعیناتی سے بڑا سرپرائز اب ان پر نیب کے مقدمات کی صورت میں سامنے آرہا ہے مگر وہ استعفیٰ نہیں دیں گے جب تک انہیں پارٹی ایسا کرنے کا نہیں کہے گی۔ گویا یہ فیصلہ بھی پاکستان تحریک انصاف نے کرنا ہے کہ ان کی رخصتی کا وقت آگیا ہے کہ نہیں۔برسر اقتدار پارٹیوں میں آدھی مدت کی تکمیل کے بعد دوسروں کو موقع دینے کیلئے وسیع تبدیلیوں کی روایت موجود ہے۔ہوسکتا ہے کہ عثمان بزدار کی جگہ کسی اور کو لاکر اقتدار سے لطف اندوز ہونے کی راہ ہموار کی جائے تاکہ اگلے انتخابات کیلئے صف بندی کی جا سکے۔

ن لیگ کے اندرونی اختلافات کے باوجود پارٹی کا ووٹ بینک موجود ہے۔ یہاں پر قومی سیاست کے اس رجحان کو سمجھنے کے لیے ضلع فیصل آباد کی مثال دینی پڑے گی جہاں 2018ء کے الیکشن سے پہلے تک ہمیشہ صورت حال یہ ہوتی تھی کہ ن لیگ کے دو گروپ شیر علی گروپ اور ثناء اللہ گروپ کے درمیان چپقلش کی وجہ سے ن لیگ دو دھڑوں میں تقسیم ہوا کرتی تھی اور عام تجزیہ نگار سمجھتے تھے کہ پارٹی کے ووٹ تقسیم ہو جائیں گے اور پی ٹی آئی کو فائدہ ہو گا مگر 2008ء اور 2013ء دونوں دفعہ یہ ہوتا تھا کہ ایک گروپ پہلے نمبر پر آتا اور دوسرا اگلی پوزیشن لے لیتا عابد شیر علی اور رانا ثناء اللہ دونوں جیت جاتے اور پی ٹی آئی تیسرے نمبر پر آتی تھی۔ مریم نوازاور شہباز شریف کے اختلافات کے باوجود پارٹی کا ووٹ بینک تقسیم ہوتا نظر آتا جبکہ دوسری طرف پی ٹی آئی کا اقتدار فیکٹر ایسا ہے کہ 2018ء الیکشن میں پارٹی کو ووٹ دینے والوں کی اکثریت پارٹی سے دل برداشتہ ہو کر پارٹی چھوڑ چکی ہے۔ پاکستان کی سیاست کے بارے میں پیش گوئی بہت مشکل کام ہے یہاں آخری وقت میں کھیل کا پانسہ پلٹ جاتا ہے۔ شہباز شریف کا بیان ریکارڈ پر ہے کہ 2018ء کے انتخابات سے ایک مہینہ پہلے تک فیصلہ یہی تھا کہ وہ اگلے وزیراعظم ہوں گے مگر اس کے بعد گیم تبدیل ہو گئی۔ 

آخر میں مریم نواز کی بلٹ پروف گاڑی پر اینٹ لگنے سے گاڑی کی ونڈ سکرین ٹوٹنے کی خبر حیرت انگیز ہے جو بلٹ پروف گاڑی اینٹ برداشت نہیں کر سکتی وہ گولی یا دھماکے کی صورت میں کیا تحفظ دے گی۔ ایک اندازے کے مطابق ایک جیپ کو بلٹ پروف بنانے پر 50 ہزار سے لے کر ایک لاکھ ڈالر تک خرچہ آتا ہے جو گاڑی کی اپنی قیمت کے الگ بھگ ہے۔ ن لیگ پولیس کے الزام دیتی ہے مگر مخالف ذرائع کہتے ہیں کہ یہ حملہ انہوں نے خود کرایا ہے بہرحال اینٹ یا کوئی اور چیز جس نے بھی پھینکی ہو گاڑی کے محفوظ ہونے کا سوال اپنی جگہ برقرار ہے۔ 


ای پیپر