ٓٓافغانستان میں قیام امن کی جانب ایک اور قدم
14 اگست 2020 (23:49) 2020-08-14

افغانستان کے صدر اشرف غنی نے بالآخر ۴۰۰ خطرناک قیدیوں کی رہائی کا اعلامیہ جاری کرکے خطے میں پائیدار امن کے قیام کی جانب ایک اور قدم اٹھا یا ہے۔ افغان حکومت نے یہ قدم کابل میں ہوئے اس لویہ جرگہ کے بعد اٹھایا جس میں پورے ملک سے آئے ہوئے تقریباً ۳۲۰۰ مندوبین نے شرکت کی اوراس خطے میں قیام امن کی خاطر ان باقی ماندہ ۴۰۰ خطرناک قیدیوں کی رہائی کی توثیق کی جنکی عدم رہائی کی وجہ سے مذاکراتی عمل تعطل کا شکار ہوگیا تھا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ افغان حکومت کے لئے یہ ایک انتہائی مشکل فیصلہ تھا اور اس کے خلاف لویہ جرگہ کے اندر سے کافی آوازیں اٹھیں کیونکہ ان چار سو خطرناک قیدیوں میں وہ قیدی بھی شامل ہیں جنکو سزائے موت سنائی جاچکی ہے، اس کے علاوہ کئی ایک ایسے بھی ہیںجو کہ افغان سکیورٹی فورسز ،نیٹو اورامریکی فوجیوں پر حملوں میں براہ راست ملوث تھے لیکن حکومت کوملک کے بہتر مفاد اور جنگ زدہ خطے میں استحکام اور امن کی خاطر یہ کڑوا گھونٹ بھی پینا پڑا۔اب دیکھنا یہ ہے کہ طالبان قیادت کی طرف سے کس قسم کا رد عمل سامنے آتا ہے۔ایک امریکی تحقیقی ادارے کونسل آن فارن ریلیشنز سے ایک دیڈیو کانفرنس کے دوران صدر اشرف غنی نے خبردارکیا کہ گوکہ افغان حکومت افغان عوام کی خواہشات کا احترام کرتے ہوئے لویہ جرگہ کی سفارشات کی روشنی میں باقی ماندہ چار سو قیدیوں کی رہا ئی کو جلد عمل میں لانے کیلئے اقدامات کررہی ہے لیکن یہ خطرناک قیدی دنیا میں بالعموم اور خطے میں بالخصوص امن کیلئے خطرناک ثابت ہوسکتے ہیں۔ساتھ ہی ساتھ صدر غنی نے طالبان پر زور دیا کہ اب گیند انکی کورٹ میں ہے۔ قیدیوں کی رہائی کے بعدافغان حکومت اور طالبان کے نمائندوں کے درمیان پہلی باظابطہ ملاقات اگلے ہفتے قطر کے دارلحکومت دوہا میں متوقع ہے جس میں فریقین کی جانب سے اس بات پر اتفا ق ہوگا کہ مذاکراتی عمل کو کیسے آگے بڑھایا جائے ۔اس کے ساتھ ہی  مذاکرات کے لئے وقت اور جگہ کا تعین بھی کیا جائے گا۔ گزشتہ روز ایک غیر ملکی خبررساں  ایجنسی کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے  قظر میں افغان مذکراتی ٹیم کے ترجمان سہیل شاہین نے 

خواہش ظاہر کی کہ مذاکرات کا عمل پاکستان میں ہو بہرحال یہ بات فریقین کی باہمی رضامندی سے اس وقت طے ہوگی جب وہ مذاکرات کی میز پر آمنے سامنے بیٹھیں گے۔ افغانستان میں گزشتہ چار دہایئوں سے جاری آگ وخون کے اس کھیل میں اب تک لاکھوں افراد جان سے گئے، ملکی تاریخ کی بد ترین خانہ جنگی کی بدولت لوگوں کواپنے پیاروں سے بچھڑکر ، اپنا مال اسباب اور گھربار چھوڑکر دنیا کے دوسرے ملکوں میںپناہ گزینوں کی حیثیت سے زندگی گزارنی پڑی، ملک میں سیاسی، سماجی اور اقتصادی ادارے تباہ وبرباد ہوئے، ایسے حالات میں ملک میں بقائے امن کی خاطر ہاتھ آئے اس زرین موقع کو ہاتھ سے جانے دینا پرلے درجے کی حماقت ہوگی۔لیکن  یہاں پرسب سے اہم سوال یہ ہے کہ مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر فریقین کے ساتھ ایک دوسرے کو دینے کیلئے کیا کچھ ہے؟۔ فریقین کے درمیان طاقت (حکومت) کی تقسیم کا کوئی قابل عمل فارمولہ موجودہے؟ طالبان کے مطابق وہ ملک کے ستر فیصد رقبے پر اپنا تسلط جمائے بیٹھے ہیں کیا وہ ایک اسلامی مملکت کے قیام کی دعویداری سے دستبردار ہو کر مسند اقتدار پر براجمان لبرل سوچ کے حامل اور روشن فکرلوگوں کے درمیان بیٹھ کرملکی دستور کے مطابق سیاسی عمل کو آگے بڑھانے پر رضامند ہوجائینگے۔دوسری طرف حکومت کیلئے ایک بڑا چیلنج یہ ہے کہ وہ طالبان کے ساتھ اشتراک حکومت کرکے حکومت میں شامل اپنے حلیفوں کو اس بات پر راضی کرسکیں گے کہ ان سے وزارتیں اور چند اہم حکومتی مناصب چھین کر ان طالبان کو دیدیں جو سال ہا سال میدان جنگ میں انکے سینہ سپر رہے ہیں۔ اور سب سے اہم سوال یہ کہ عنان حکومت چلانے کیلئے آگے چل کر ملکی اور بین الاقوامی امور پر بالکل مختلف سوچ رکھنے والی فریقین کے درمیان ذہنی ہم آہنگی پیدا کی جاسکے گی؟کیونکہ افغان عوام ابھی تک اس سوال کا جواب نہیں ڈھونڈپائے ہیں کہ طالبان قیادت نے خواتین کی تعلیم، ملازمت اور دیگر حقوق کے حوالے سے  اپنے موقف میں کوئی لچک پیدا کی ہے یا نہیں۔ اس سے جڑے چند اہم سوال یہ بھی ہیں کہ کیا طالبان اپنے سیاسی حریفوں کے ساتھ اشتراک حکومت پر اپنے ان سخت گیر موقف رکھنے والے جنگجوئوں کو راضی کر سکیں گے جو ابھی تک کابل حکومت کو امریکہ کے پٹھو اوراسلام دشمن قرار دیتے رہے ہیں؟ یہ سارے ایسے سوالات ہیں جنکا جواب ہاں یا نہیں میں دینا انتہائی مشکل ہوگا لیکن اس بات پر دو رائے ہو ہی نہیں سکتی کہ کسی بھی مسئلے کا حل مذاکرات کی میز پر آکر ہی ڈھونڈا جاسکتا ہے ۔بلاشبہ امریکی قیادت اس نئے سیاسی عمل کو لے کر انتہائی پرجوش ہے، صدر ٹرمپ  انکے وزیر خارجہ مائیک پومپیواور افغانستان کیلئے صدر  ٹرمپ کے خصوصی ایلچی زلمے خلیل زاد نے اس پوری صورتحال پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے اسے ملک میں جاری ۱نیس سالہ جنگ کے خاتمے اور خطے میں پائئدار امن کی خاطر ایک انتہائی مثبت پیش رفت گردانا ہے۔ علاقائی کرداروں خصوصاً پاکستان، ایران، چین، روس اور سعودی قیادت کو چاہیے کہ وہ گزشتہ چار دہائیوں سے جاری افغانستان میںکشت و خون کے اس کھیل کو ختم کرنے کیلئے اپنا  بھرپورکردار ادا کریں اور افغانستان کے عوام کو سکھ کا سانس لینے کیلئے ایک ایسا پرامن ماحول فراہم کریں جس میں وہ باوقار طریقے سے اپنی زندگی بسر کر سکیں۔


ای پیپر