پنجاب پبلک سروس کمیشن اور فیڈرل افسران کی بھرمار
14 اگست 2020 (23:47) 2020-08-14

 میں اکثر کہتا رہتا ہوں کہ پاکستان ایک جنگل ہے ،یہاں کوئی قانون نہیں ہے۔ جو طاقتور ہے وہ یہاں سب کچھ کرا سکتا ہے۔ہاں ، البتہ نافذالعمل قوانین صرف کمزور اور غریبوں کے لیے ہیں۔ کچھ احباب جواباً کہتے ہیں کہ جنگل کے بھی کچھ قوانین ہوتے ہیں ، خصوصاً محکمہ وائلڈ لائف سے متعلق لوگ۔بہرکیف آج جب میں نے پنجاب پبلک سروس کمیشن کی ہئیت، یعنی ممبران کی فہرست پر نگاہ ڈالی تو مجھے اپنا پہلا فقرہ زیادہ سچ لگا۔ پنجاب پبلک سروس کمشن کا قیام 1937 ء میں ہوا۔ یہ اس صوبہ کا ایک آئینی ادارہ ہے۔ اس ادارہ کا اہم مقصد صوبہ پنجاب کے مختلف محکموں کی اہم آسامیوں کو پُر کرنے کے لیے امیدواران کے انٹرویوز کر نا اور پھر کمشن کی طرف سے ہر آسامی کے لیے موزوں امیدواران کی سفارشات مختلف محکمہ جات کو بھیجنا ہے۔ پنجاب سول سرونٹ (appointment & coditions ) رولز 1974 کے Rule 16کے تحت صوبہ کے تمام محکموں میں بنیادی پے سکیل 16اور اوپر کی تمام آسامیوں کو پنجاب پبلک سروس کمشن کی سفارشات کے ذریعہ پر کیا جاتا ہے۔ صوبہ پنجاب کے کئی محکمے اپنی اہم اور lucrative آسامیوں کی بھرتی بھی پنجاب پبلک سروس کمشن کی سفارشات کے ذریعے کرتے ہیں۔جیسے محکمہ ایکسائز کے انسپکٹر ، محکمہ فوڈ اور محکمہ پولیس کے سب انسپکٹرز وغیرہ۔ یعنی یہ بات توواضح ہو گئی کہ پنجاب پبلک سروس کمشن کا بنیادی کام حکومت پنجاب کے مختلف محکموں کی مختلف آسامیوں کو پُر کرنے کے لیے موزوں ا میدواروں کی سلیکشن کرنا ہے۔لیکن جب میری نظر پنجاب پبلک سروس کمشن کے ممبران کی فہرست پر پڑی تو میں حیران و پریشان ہو کر بیٹھ گیا ۔میں پُر یقین ہوں کہ اس کمشن کی حقیقی صورت حال آپ کو بھی جب معلوم ہو گی تو آپ بھی سر پکڑ کر بیٹھ جائیں گے کہ ہمارے اس ملک میں آئینی اداروں کے ساتھ کیا کیا جا رہا ہے۔ آپ کو یہ آئیڈیا تو ہو گاکہ اس صوبہ میں کتنے محکمہ جات ہیں ، مثلاً محکمہ ہیلتھ، محکمہ تعلیم، محکمہ انہار ، محکمہ لائیو سٹاک ، محکمہ زراعت ، محکمہ جنگلات ، اور صوبہ کی انتظامی امور سے نبٹنے وا لی صوبائی سروس جسے اب پی ایم ایس (Provincial Management Service ) کہا جاتا ہے۔ آپ حیران ہوں گے کہ پنجاب پبلک سروس کمشن جس نے ان محکمہ جات کے لیے بھرتیاں کرنی ہیںاس میں ایک ممبر ، میں پھر دہراتا ہوں ایک ممبر بھی ان صوبائی محکموں سے نہیں ہے۔اُن لوگوں نے ان 

محکموں کے لیے موزوں افسران کی بھرتیاں کرنی ہیں جنہوں نے زندگی میں ایک دن بھی ان محکموں میں کام نہیں کیا ۔ میں پھر دہراتا ہوں ایک دن بھی کام نہیں کیا۔واہ نیا پاکستان کے داعی جو کہتے تھے ہم نے سڑکیں ، پُل ، میٹروز اور اورنج ٹرین نہیں بنانیں ، ہم نے ادارے بنانے ہیں۔ یہ ادارے بن رہے ہیں۔ اب میں آپ کے سامنے پنجاب پبلک سروس کمشن کے ممبران کی فہرست رکھتا ہوں۔ماشا اللہ اس ادارہ کے چئیرمین تو فوج کے ایک ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل ہیں۔ میں نے نہیں سنا کہ اُنھوںآج تک کسی سول ادارہ میں کام کیا ہے۔ لیکن یہ تو اب ایک قسم کی روایت بن گئی ہے کہ پنجاب کے سول افسران کے ریکروٹنگ اداراہ کی سربراہی فوج کا ریٹائرڈ جنرل کریگا۔ اس ادارہ میں ایک اور فوج کے ریٹائرڈ میجر جنرل محترم محمد اشرف تبسم بھی بطور ممبر کام کر رہے ہیں۔اب ذرا دوسرے ممبران پر نظر ڈالتے ہیں۔یہ ہیں جناب محمد اسلم خان نیازی ۔ ان کا تعلق وفاق کے محکمہ پوسٹل ( ڈاکخانہ جات ) سے ہے۔ پاکستا نی سیاست کی روایات کے مطابق تو ان کا استحقاق بنتا ہے۔ ایک تو یہ نیازی ہیں، دوسرے یہ میانوالی کے اس حلقے سے تعلق رکھتے ہیں جہاں سے عمران خان الیکشن لڑتے ہیں۔ اسی طرح ایک اور خاتون روبینہ طیب ہیںجو اسی یعنی وفاق کے محکمہ پوسٹل سے تعلق رکھتی ہیں اور پنجاب پبلک سروس کمشن کی ممبر ہیں۔ کیا آپ نے کبھی محکمہ پوسٹل کے کسی آفیسر کو پنجاب کے کسی محکمہ میں کام کرتے دیکھا ہے۔اسی طرح کیاآپ نے کبھی کسی فارن سروس کے آفیسر کو حکومت پنجاب کے کسی محکمہ میں کام کرتے دیکھا ہے، لیکن ماشا اللہ اس گروپ کے تین آفیسرز ریٹائرمنٹ کے بعد پنجاب کے مختلف محکمہ جات کے لیے موزوں افسر ان کی سلیکشن کرکے قومی خدمت کر رہے ہیں۔ان کے نام کچھ یوں ہیں۔ جمشید افتخار  2۔ سید ابن عباس 3۔محمد افتخار انجم ۔کوشش یہ کی گئی ہے کہ وفاق کا کوئی محکمہ بھی محروم نہ رہے۔اور تو اور وفاقی محکمہ ریلوے کی ڈاکٹر پروین آغا کوبھی صوبہ پنجاب کی خدمت کا موقع دیا گیا ہے۔ اسی طرح PAS (پاکستان ایڈمنسٹر یٹو سروس ) کے پانچ افسران اس کمشن میںبطور ممبر کام کر رہے ہیں۔ ان کا تو پھر بھی جواز بنتا ہے کیونکہ یہ لوگ اپنی سروس کا کافی حصہ صوبہ پنجاب کے مختلف محکموں میں گزارتے ہیں۔ سروسز میں آجکل تگڑا گروپ پولیس کا ہے ۔ تمام سیاسی لیڈران کے ساتھ ان کا تعلق بہت قریبی ہوتا ہے۔ کیونکہ ان کی سیاست میں اس گروپ کا بڑا رول ہوتا ہے۔ اس لیے پنجاب پبلک سروس کمشن میں ان کے ممبرز کی تعداد بھی PAS کے برابر ہی ہوتی ہے ۔ ابھی اس گروپ کی تعداد کمشن میں تین ہے کیونکہ ان کے کچھ لوگ کمشن سے ریٹائرڈہو گئے ہیں لیکن جلد ہی ان کے کچھ لوگ اور آ جائیں گے ۔ اگرچہ محکمہ پولیس کے لوگوں کی کچھ تعداد پنجاب پبلک سروس کمشن کے ذریعے بھرتی ہوتی ہے لیکن اس گروپ کے لوگ تو پنجاب میں صرف اپنے محکمہ یعنی پولیس میں ہی کام کرتے ہیں۔آپ نے محسوس کیا ہے کہ اگر کوئی پنجاب پبلک سروس کمشن کی ممبری سے محروم ہے تو وہ اس صوبہ کے محکمہ جات ہیں۔ ڈاکٹر ز کی بہت بڑی تعداد پنجاب پبلک سروس کمشن کے ذریعے مختلف عہدوں کے لیے بھرتی ہوتی ہے لیکن کوئی ایک ڈاکٹر بھی کمشن کا ممبر نہیں ہے ۔ یہی حال محکمہ تعلیم کا ہے جس کے سیکڑوں لیکچررز اور پروفیسرز اسی کمشن کے ذریعے بھرتی ہوتے ہیں لیکن محکمہ تعلیم کا کو ئی بھی پروفیسر کمشن کا ممبر نہیں ہے۔کیا اس صوبہ کے پروفیسرز اور ڈاکٹرز کسی وفاقی گروپ سے علم و دانش کے لحاظ سے کمتر ہیں۔اسی طرح ا نجینئرز کے پنجاب میں کئی محکمہ جات ہیں لیکن ان میں سے کوئی بھی ممبر نہیں ہے۔ پنجاب پبلک سرو س کمشن کی ممبر شپ ریٹائرڈ لوگوں کے لیے مالی طور پر بہت منفعت بخش ہے ۔ اس لیے اسے صرف تگڑے لوگ ہی حاصل کر پاتے ہیں ۔ کئی مثالیں میرے سامنے ہیں ،مثلاً ڈاکٹر صالح طاہر جو حکومت پنجاب میں سیکریٹری ریگولیشنS@GAD رہے ہیں ۔ ان کی قابلیت اور دیانت داری سے کون آگا ہ نہیں ہے ۔ان کا کیس ممبرشپ کے لیے دو دفعہ چیف سیکریٹری کی سفارش کے ساتھ بھیجا گیا لیکن منظوری حاصل نہ کر پایا ۔ یہی حال محترم جاوید اقبال چودھری سابق سیکریٹری ہیومن رائتس اور منارٹیز افیرز حکومت پنجاب کے ساتھ ہوا ۔ ان کا کیس بھی دو دفعہ بھجوا ئے جانے کے باوجود شرف بازیابی حاصل نہ کر پایا۔اس ممبرشپ کے چونکہ مالی مفادات بہت ہیں اس لیے اسے حاصل کرنا عام آ فیسر کا کام نہیں ہے۔ چلو میں آپ کو اسکے مالی مفادات گنوا ئے دیتا ہوں۔ پنجاب پبلک سروس کمشن کے ہر ممبر کو دو لاکھ تریسٹھ ہزار ( 2,63000) روپے اس کی پنشن کے علاوہ ماہانہ تنخواہ ملتی ہے۔ علاوہ ازیں ایک لاکھ ایک ہزار روپے بطور کرایہ مکان ہر مہینہ۔ یو ٹیلٹی الاونسس کے تیرہ ہزار ایک سو روپے ہر ماہ، 270لٹر پٹرول ہر مہینہ ۔ یہ سب مل ملا کے تقریباً چار لاکھ روپے بن جاتے ہیں۔ اس پوسٹ کو حاصل کرنے کے لیے بڑے طاقتور لوگوں کا ساتھ چاہیے۔جو عام سرکاری افسر کے بس کی بات نہیں ہے۔ کمشن کے اپنے قوانین کے مطابق ڈاکٹر ، انجینئر ، ماہر تعلیم ،زراعت ، ماحولیات کے علاوہ ایک ریٹائرڈ جج کو بھی اس کا ممبر ہونا چاہیے لیکن ان میں سے کوئی بھی کمشن کا ممبر نہیں ہے ۔ ترقی کی طرف گامز ن پاکستان۔


ای پیپر