ہم زندہ قوم ہیں… کوئی شک!
14 اگست 2020 (23:46) 2020-08-14

سب سے پہلے قارئین کو تہترواں یوم آزادی مبارک ہو اور اس کے بعد میں آپ کو یقین دہانی کرانا چاہتی ہوں کہ اس ترانے کے بول میں بہت صداقت ہے! 

ہم زندہ قوم ہیں 

پائیندہ قوم ہیں 

ہم سب کی ہے پہچان 

ہم سب کا پاکستان پاکستان پاکستان 

ہم سب کا پاکستان 

ہماری زندہ دلی کی مثال کوئی ایک ہو تو بتائوں! 

سب سے پہلے یہ تازہ ترین مثال ہی دیکھ لیں کہ جس میں دولہے کی شادی سے ایک دن پہلے ٹانگ ٹوٹ گئی جبکہ سارے انتظامات مکمل تھے تو وہ مرتا کیا نہ کرتا کہ جو بے چارہ لاک ڈائون سے گرا،پلستر میں اٹکا دولہا ٹوٹی ہُوئی ٹانگ کے ساتھ ہی بارات لے کر پہنچ گیا۔ دولہے کی شادی سے پہلے ٹانگ ٹوٹ گئی لیکن جوان نے شادی چار دن آگے نہیں کی چودہ اگست کی مناسبت سے یہ ایک پیغام بھی ہے تو آئو عہد کریں اسی جذبے کے ساتھ پاکستان کو آگے لے کر چلیں گے۔ اس کے حوصلے کی داد دیں کہ جو چارپائی پر بارات لے کر پہنچ گیا اور اپنی زندہ دلی کا ثبوت دیا روک سکو تو روک لو۔

ہماری زندہ دلی کی اور بھی کئی مثالیں ہیں مثلا یہاں پر جب کرونا عروج پر تھا اور ملک بھر میں لاک ڈائون اور کرفیو سا سماں تھا تو ہر پاکستانی صرف یہ دیکھنے باہر جاتا تھاکہ کوئی گھر سے باہر پھر رہا ہے کہ نہیں! ہوٹلوں پر بابندی لگی تو ہر گھر سے پانڈا نکلے گا کے ڈنکے بجنے لگے! دکانوں کے شٹر گرے تھے لیکن اندر خواتین اور دکان دار کے بھائو تائو جاری تھے۔ 

کرونا کیا آیا ایک نیا کاروبار ہی عروج پر پہنچ گیا ! میڈیکل کمپنیوں کی تو چاندی تھی ہی لیکن ہمارے اپنی عوام نے بھی ایک دوسرے کی کمزوریوں سے خوب فائدہ اٹھایا۔ ایک بھائی تو اتنے ہوشیار نکلے کہ انہوں نے لاک ڈائون کی صورت میں گھر میں ہی پان کے پتے اگا لیے اور اب وہ لاکھوں کے پتے بیچتے ہیں اور شوق کے ماروں نے پانچ پانچ ہزار کے پتے بھی خریدے آخر شوق دا کوئی مل نہیں۔ اس دوران ہماری تاجر برادری نے بھی بہت زندہ دلی کا مظاہرہ کیا اور ہر چیز کی قیمت اندازاً پچاس روپے زیادہ رکھی۔ 

اس لاک ڈائون کے دوران ہی زندہ دلی کا مظاہرہ کرتے کرتے پٹرول کی قیمت مذاق مذاق میں کئی بار بڑھی،چینی آٹا سب مہنگا اور بجلی کے کا تو حال ہی نہ پوچھیں قسم خدا کی ایک ٹن کے اے سی کے ساتھ بھی ماہانہ بل کی اوسط بیس ہزار رہی۔

ہمارے امیر تو امیر غریب بھی بڑے ہی زندہ دل ہیں! 

زندہ دل قوم کے امرا ء نے جب راشن کے انبار لگائے غریب عوام نے وہی راشن اپنے ہی غریب بہن بھائیوں کو بیچنا شروع کردیا۔ پھر جب کرونا عروج پر پہنچا تو آکسیجن کی ضرورت پڑی جہاں کوئی عطیہ کرتا وہیں یہ زندہ دل گینگ ضرورت مند بن کر سلنڈر لیتا اور ڈبل قیمت پر بیچ دیتا۔ یہی نہیں کرونا عروج کے دوران ہی پتہ چلا کہ جس چیز کی افواہ اڑتی کہ اس میں کرونا کا علاج ہے تو پھر پوری عوام اس کے پیچھے اور وہ آسمانوں پر! 

ثنا مکی کو ہی دیکھیں کبھی دس روپے کی بھی نہ لی ہوگی کسی نے مگر جب پتہ چلا کہ اس میں کرونا کا علاج ہے تو بیچنے والوں کی بھی چاندی ہوگئی اور پینے والوں کی جلاب کر کے کے طبیعت ماندی ہوگئی ۔پھر کہیں سے پتہ چلا کہ اب ایکٹمرا انجکشن کرونا کا علاج ہے تو پھر یہی دس ہزار والا انجیکشن چار لاکھ تک بھی بلیک ہوا اور تو اور وطن عزیز میں راتوں رات پلازمہ برائے فروخت کا کاروبار عروج پر پہنچ گیا جہاں کوئی سوشل میڈیا پر ضرورت مند ہوتا وہیں پلازمہ بیچنے والا ان باکس میں حاضر ہوجاتا! 

بس کچھ نہ پوچھیں جی زندہ دلی اس قوم کی، ابھی اسی غریب گینگ نے قربانی کے گوشت کا بھی بھرپور کاروبار کیا ! 

یہ وہی قوم ہے جو ہر خود کش دھماکے کے بعد اپنے بچوں کے ساتھ جا کر معائنہ کرتی تھی کہ دیکھو بیٹا یہاں دھماکہ ہوا تھا۔ ہم پاکستانی بھی بڑے عجیب ہیں کالے کپڑوں میں گورے لگتے ہیں اور گورے کپڑوں میں کالے! 

ہم ہر چودہ اگست کو محب وطن پاکستانی ہوتے ہیں ، رمضان کے مہینے میں پرہیزگار نمازی روزہ دار، ربیع الاول میں سچے عاشق رسول بن جاتے ہیں لیکن باقی سال ہم ابلیس کے کارندے بنے رہتے ہیں۔ ہم وہ زندہ دل ہیں کہ فیس بک پر ہمارے پاس ہر مسئلے کا حل موجود ہوتا ہے اور ہرکوئی دانشور اور طبی ماہر بنا بیٹھا ہے۔ ارطغرل ڈرامہ دیکھنے کے بعد تو اس قوم کے نوجوانوں نے تلواریں اور گھوڑے بھی خرید لیے بس ایک حلیمہ سلطان کی کمی رہ گئی ہے۔ پوری دنیا حیران کہ پاکستان میں کرونا کے دولاکھ مریض اور علاج کرنے والے دس کڑور تھے۔ اورتو اور ہمارے سیاست دان بھی کمال کرتے ہیں جب عید سے پہلے چوبیس کروڑ ریل کی ٹکٹیں بک گئیں کبھی کسی نے کہا کہ پانچ کروڑ ٹیسٹ کرلیے گئے۔کبھی کہتے ہیں کوویڈ ۱۹ کامطلب اس کے انیس پوائنٹس ہیں۔ اور تو اور ہمارے رپورٹر بھی کمال کرتے ہیں، ہلکی ہلکی بوندا باندی تک تو ٹھیک تھا لیکن ابھی رات بارہ بجے جشن آزادی کے بعد ایک ٹی وی چینل پر لائیو نمائندہ بار بار یہ بتا رہا تھا کہ پورا ملک جشنِ آزادی کا جشن منا رہا ہے جیسے شب برات کی رات اور ماہ رمضان کا مہینہ یاد ہے نا مجھے یقین ہے کہ اس وقت اردو زبان ضرور ماتم کر رہی تھی۔ الغرض اچھی بری چیزیں ہرقوم میں ہوتی ہیں لیکن مذاق اپنی جگہ ہم واقعی ایک زندہ دل قوم ہیں۔

کیونکہ دنیا نے دیکھا جب جب اس پر کوئی آنچ آئی توپوری قوم ایک ہوئی ! جب ہماری بہادر ناقابل شکست ائیر فورس نے بھارتی ونگ کمانڈر ابھی نندن کو پاکستان میں چائے پلائی تو اس دن اس قوم کی خوشی دیدنی تھی ! جب پاکستان انڈیا کوکسی بھی محاذ پر شکست دیتا ہے تو پوری قوم سڑکوں پر ہوتی ہے اور شکرانے کے نفل پڑھتی ہے ۔

ہماری قوم کو اس وطن سے بے تحاشا محبت ہے لیکن یہ بھی سچ ہے کہ اس کو قائد اعظم کے بعد آج تک کوئی ایسا لیڈر نہیں ملا جو اس ہجوم کو ایک قوم بنا سکے اور یہ اپنے حقوق کیلیے خود جدوجہد کریں، اور ملک کو لوٹنے والوں کو آئینہ دکھائیں۔ اپنے اپنے شعبوں میں ایمانداری سے کام کریں اور دئیے سے دیا جلاتے جائیں اور وطن کی شان بڑھاتے جائیں ۔

یاد رکھیں ! 

خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی 

نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا 

تو پھر آئیے اب وقت بہت تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے کیونکہ زمانے کے انداز بدلے گئے! چین ہمارے بعد آزاد ہوا آج سپر پاور بننے جا رہا ہے اور ہم اپنی اندرونی سازشوں اور دوست کے روپ میں دشمنوں کے ہاتھ آج پھر اسی خواب غفلت میں کھوئے ہیں جس سے ہمیں علامہ اقبال نے انیسویں صدی کے آغاز میں جگایا تھا۔ آئیے اس اس یوم آزادی پر اللہ کے حضور شکرانے کے نفل پڑھیں اور اس کی ترقی اور خوشحالی کے لیے نئے سرے سے مل کر کام کرنے کا عزم کریں کہ

وطن کو ہم عظیم سے عظیم تر بنائیں گے

ان شا اللہ 


ای پیپر