اینٹ کا جواب پتھرسے…
14 اگست 2019 2019-08-14

وزیراعظم عمران خان نے کل یوم آزادی پر آزاد کشمیر اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے ہمیں علم ہے بھارت آزاد کشمیر میں خوفناک کارروائیاں کرنے کا ارادہ رکھتا ہے… اگر اس نے ایسی حرکت کی تو پاکستان کی طرف سے اینٹ کا جواب پتھر سے دیا جائے گا… انہوں نے کہا اس کام میں مَیں اکیلا نہیں ہوں پاکستان کی فوج اور پوری قوم میرے ساتھ کھڑی ہے… یہ بڑا مبارک عزم ہے جس کا جنابِ عمران نے آزاد کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کے ایوان میں کھڑے ہو کر اظہار کیا ہے… مگر سوال یہ ہے بھارت اپنے مکروہ ارادوں کو بروئے کار لاتے ہوئے آزاد کشمیر میں جو کرے گا اور جب کرے گا اس کا منہ توڑ جواب دینے کا پیغام تو ہم نے دے دیا ہے… بھارتیوں کو خبردار کر دیا ہے… لیکن مقبوضہ ریاست جموں و کشمیر چھین کر اس نے جو اینٹ ماری ہے … وادی کشمیر جموں اور لداخ کو دو ریاستوں میں تقسیم کر کے انہیں ہڑپ کر لیا ہے… ناجائز طور پر اپنے ملک کا حصہ بنا لیا ہے… آرٹیکل 370 اور اس کی ذیلی شق 35اے جو مقبوضہ ریاست جموں و کشمیر کو بھارت کے قبضے میں رہتے ہوئے بھی آئینی طور پر جداگانہ حیثیت دیتے تھے ان پر حرفِ تنسیخ پھیر کر اپنے آئین سے باہر نکال پھینکا ہے… اتنی بڑی جارحانہ کارروائی کا سوائے بیاناتِ مذمت کے ہم نے کس پتھر سے جواب دیا ہے… پاکستان کی پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں اس موضوع پر بحث کے دوران قائد حزب اختلاف شہباز شریف کی جانب سے اٹھائے گئے ایک نکتے کا جواب دیتے ہوئے ہمارے خان بہادر وزیراعظم نے بڑے دھڑلے کے ساتھ کہا… تو کیا آپ چاہتے ہیں میں بھارت پر حملہ کر دوں… دوسرے الفاظ میں یہ کہہ دیا گیاکہ بھارت چاہے بزورِ طاقت مقبوضہ کشمیر کو اپنے براہ راست تسلط میں لے لے… وہاں پہلے سے موجود 7 لاکھ فوج کو مزید کمک پہنچانے کے لئے تازہ دم فوجی دستے بھیج دے… دن رات کے کرفیو لگا کر نہتے عوام پر ظلم و ستم کی زور دار بارش کر دے… اس کی اِس اینٹ کا جواب ہم پتھر سے نہیں دے پا رہے وزیراعظم نے کہا ہے ہمارا مذہب جنگ میں پہل کی اجازت نہیں دیتا درست! … لیکن اتنی ننگی جارحیت سے محض بیانات مذمت سے مقابلہ کرنے کی ہدایت بھی نہیں دیتا… دشمن سب کچھ لوٹ کر لے جائے اور ہم کہیں ہمیں جنگ میں پہل کی اجازت نہیں… البتہ آزاد کشمیر کو چھیڑنے کی کوشش کی تو چھٹی کا دودھ یاد کرا دیں گے… بھارت اتنی شتابی کے ساتھ آزاد کشمیر کے اندر وہ خوفناک کارروائیاں نہیں کرے گا جن کی جانب جنابِ وزیراعظم نے اشارہ کیا ہے… وہ پہلے مقبوضہ ریاست کو پوری طرح ہضم کرے گا… اگر ہم معاملے کو سکیورٹی کونسل میں لے کر گئے تو وہاں پر پیش کردہ قرارداد کو ویٹو کرا کر عالمی برادری سے اپنے انضمام کو عملاً تسلیم کرائے گا… اس کے بعد کہیں آگے چل کر اور بہت آگے چل کر آزاد کشمیر کی باری آئے گی… کیونکہ بنیا روٹی ٹھنڈی کر کے کھاتا ہے… آزاد کشمیر کے حوالے سے بھارت کے پاس دو آپشنز ہیں… ایک تو وہ جس کی جانب وزیراعظم نے اشارہ کیا ہے کہ یہاں خوفناک کارروائیاں کر کے گڑبڑ کو فروغ دے گا… پھر مہاجرین کا مسئلہ پیدا کر کے پاکستان کو نکو بنانے کی کوشش کرے گا…جیسا کہ جنابِ عمران نے کہا ہماری حکومت اور فوج کو اس کا اندازہ یا علم ہے… ایسی کوئی حرکت کی تو جبڑے توڑ کر رکھ دیں گے… لیکن جو اصل تنازع ہے وہ آزاد کشمیر نہیں مقبوضہ ریاست جموں و کشمیر کا ہے… اسے جو اس نے غیرآئینی اقدام کر کے اور جنگ لڑے بغیر اہلِ پاکستان اور کشمیری عوام سے چھین لیا ہے اس کا مداوا کیا ہوگا… اس کی جانب وزیراعظم نے اپنی تقریر دلپذیر میں اشارہ نہیں کیا… عین اسی وقت جنابِ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا زوردار بیان بھی سامنے آیا ہے… کہ 1947ء کے کاغذ کے ٹکڑے کی ہماری نظر میں کوئی اہمیت نہیں… یعنی آرٹیکل 370 کو جب بھارت نے اپنے آئین کا حصہ بنا کر کشمیر کو جداگانہ حیثیت دی تھی اپنی ہی اس دستوری دفعہ کو اگر بھارت نے کتابِ آئین سے نکال باہر پھینکا ہے تو ہمارے نزدیک اس کی کوئی حیثیت یا وقعت نہیں… بالکل بجا فرمایا پاکستان کی فوج کے سربراہ نے لیکن اگلا سوال یہ اگرچہ یہ فضول اور بے معنی آئینی دستاویز ہمارے نزدیک روز اول سے ردی کے ٹکڑے کا درجہ رکھتی تھی اور حقیقت یہ ہے کہ ہم نے کبھی اسے تسلیم نہیں کیا تو پھر اس کے بھارتیوں کے ہی ہاتھوں ہوا میں تحلیل ہو جانے کے بعد سلامتی کونسل کی منظور کردہ قراردادیں اپنی پوری اصولی اور اخلاقی قوت کے ساتھ آن کھڑی ہوتی ہیں… آرمی چیف اپنے بیان میں یہ بھی ارشاد فرما دیتے کہ اب وقت آ گیا ہے ان قراردادوں پر مؤثر طریقے سے عملدرآمد کرایا جائے ورنہ تنگ آمد بجنگ آمد …یوں پاکستان کی سٹریٹجی کے بارے میں کوئی شبہ باقی نہ رہتا تو ان کی بات مکمل ہو جاتی…

مگر حیرت ہے وزیراعظم عمران خان نے آزاد کشمیر اسمبلی میں کی جانے والی تقریر کے دوران ان قراردادوں کا ذکر کیا نہ قوم اور اہلِ کشمیر کو بتایا کہ وہ اس ہدف کو پورا کرنے کی خاطر پاکستان کی اعلیٰ سفارت کاری کا کون سا موثر قدم اٹھانے کا ارادہ رکھتے ہیں… نہ اس ضمن میں یہ بتانا پسند کیا ہماری خارجہ پالیسی اور سفارت کاری کو جس پر بہت فخر کیا جاتا ہے اس راہ میں کون سی مشکلات حائل ہیں… البتہ اس مسئلے کو عالمی عدالت انصاف تک لیجانے کا ارادہ ظاہر کیا… جہاں بھارت بہت پہلے سے پیش بندی کر چکا ہے… اگرچہ اس سے دو روز پہلے عیدالاضحی کے موقع پر وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی اس مایوسی کا اظہار کر چکے تھے کہ قوم کو کسی غلط فہمی کا شکار نہیںرہنا چاہئے ہماری قرارداد ویٹو ہو سکتی ہے… اور یہ جو اُمت مسلمہ کے محافظ ملک ہیں ان کے بھارت کے ساتھ گہرے اقتصادی و تجارتی مفادات جڑے ہوئے ہیں… ان کی مراد شاید سعودی آرامکو کے بھارتی کمپنی Reliance کے ساتھ 24 کھرب روپے کے معاہدے سے ہے… جب عمران خان ایک سال قبل برسراقتدار آئے اور موصوف نے سعودی دارالحکومت ریاض کے پے در پے تین دورے کئے… بڑی تگ ودو کے بعد وہاں تین ارب ڈالر کا قرضہ اور لمبے اُدھار پر تیل فراہم کرنے کے معاہدے ہوئے… فوراً بعد ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اسلا م آباد ایئرپورٹ پر قدم رنجا ہوئے تو ان کا استقبال کرتے ہوئے ہمارے وزیراعظم بہادر کا چہرہ خوشی سے تمتما رہا تھا… موصوف مہمان معظم کو گاڑی میں بٹھا کر اسے خود چلاتے ہوئے وزیراعظم ہائوس لے کر آئے… تب بڑے زوروشور کے ساتھ اعلانات کئے گئے کہ سعودی عرب عنقریب گوادر اور دوسرے مقامات پر ارب ہا ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے والا ہے… ادھار پر تیل تو مل گیا اور قرض کی بھیک بھی ہمارے کشکول میں ڈال دی گئی جس کی خاطر آرمی چیف کا اثر و رسوخ اور سرپرستی وزیراعظم کے کام آئی… مگر غیرمعمولی طور پر بھاری رقم پر مشتمل سرمایہ کاری اس دوستِ عزیز نے بھارت میں جا کر دکھائی ہے وجہ اس کی صاف ظاہر ہے ہمارے یہاں گزشتہ ڈیڑھ دو برس سے سرمایہ کاری کی فضا کا جو تہس نہس کر کے رکھ دیا گیا ہے … نیب نے ایسی دہشت پیدا کر رکھی ہے کہ مقامی سرمایہ کار کسی بڑے منصوبے کے بارے میں سوچتے وقت بھی کانپ کانپ جاتے ہیں… بیوروکریسی اپنی جگہ پر خوفزدہ ہے… فطری بات ہے جب مقامی سرمایہ کار آگے نہیں آئیں گے اور قابل ذکر منصوبے نہیں لگائیں گے تو بیرونی دنیا کی کمپنیاں بھی ہمارے یہاں بھاری رقوم پر مشتمل پیداواری یونٹ یا کاروباری مراکز قائم کرنے سے گریز کریں گی… خواہ وہ سعودی عرب کے سرمایہ دار ہوں یاامریکہ، برطانیہ یا فرانس یا جرمنی وغیرہ کے… یہ درست ہے بھارت کی منڈی بہت بڑی ہے لیکن پاکستان بھی اتنا چھوٹا ملک نہیں کہ نظر انداز کر دیا جائے… چین نے البتہ گزشتہ دور حکومت کے آغاز پر سی پیک کے منصوبے کے ذریعے 45ڈالر کی سرمایہ کاری کا وعدہ کیا تھا اور یہ جو ہمارے ملک اور قوم کو لوڈشیڈنگ کی مصیبت سے بڑی حد تک نجات مل گئی ہے اس کی وجہ چین کی سرمایہ کاری ہے… اسی سی پیک کے تحت ملک بھر یعنی وفاقی دارالحکومت، تمام صوبائی مراکز اور آزاد کشمیر کے ساتھ دوسرے اہم مقامات پر Spcial Economic Zone قائم کیے جانے تھے… مگر ان کی گاڑی پہلے گیئر سے آگے بڑھ نہیں پا رہی … کہا جا رہا ہے کہ کوئی تکنیکی مشکلات راستے میں حائل ہیں… اس کے ساتھ اسی سی پیک کے تحت پشاور سے کراچی تک نئی ریلوے لائن بچھانے کا جو منصوبہ تھا، اس کی بھی صحیح معنوں میں شروعات نہیں ہو رہیں جس کے بارے میں حکومتی ارکان کا کہنا ہے کہ بیورو کریسی کا رویہ آڑے آیا ہوا ہے… بیورو کریسی کو خوف ہے کہ کوئی معمولی سی لغزش بھی ہو گئی جو فطری امر ہے تو نیب کا ڈنڈا سروں پر آ برسے گا… اس عالم میں پاکستان میں کون سرمایہ کاری کرے اور کون ملک ہے خواہ ہمارا قریبی دوست یا امت مسلمہ کا محافظ جو ہماری خاطر اربوں او ر کھربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کا خطرہ مول لے گا… لہٰذا دوست کیا دشمن کیا سب نے ہی اپنے تجارتی و اقتصادی مفادات بھارت سے وابستہ کر لیے ہیں… کامیاب سفارتکاری ہر ملک کے مفادات کے ساتھ جڑی ہوتی ہے… ہمارا ساتھ کون دے گا؟

اسی لیے وزیراعظم بہادر نے آزاد کشمیر اسمبلی کی تقریر کے دوران کہنے پر اکتفا کیا ہے کہ وہ دنیا بھر میں کشمیریوں کا سفیر بن کر اُن کا پیغام دور دور تک پہنچائیں گے مگر جہاں اصل فیصلہ ہونا ہے یعنی سلامتی کونسل، جس کی قرار دادوں نے ہمارے اور اہل کشمیر کے مؤقف کو زندہ و توانا رکھا ہوا ہے، اس حوالے سے بھولے سے بھی کوئی بات نہیں کی… جہاں تک دنیا کے اطراف و اکناف میں کشمیریوں کا پیغام پہنچانے کا تعلق ہے تو معلوم ہونا چاہیے کہ گزشتہ 70 سال کے دوران یکے بعد دیگرے عرب لیڈروں نے بھی اکناف عالم میں مظلوم و مقہور فلسطینی عوام کا پیغام پہنچانے میں کوئی کسر نہیں رکھی… اسرائیل کی نسل پرست ریاست نے ان پر ظلم و ستم کے جو پہاڑ توڑے ہیں اور اب تک ان کی سفاکانہ کارروائیاں جاری ہیں، ان سے خطۂ ارض کا کوئی باخبر آدمی لاعلم نہیں… لیکن عرب چونکہ 45، 50 ملکوں کے مالک اور تیل کے ذخائر کی دولت سے مالا مال ہونے کے باوجود جنگی و عسکری لحاظ سے اسرائیل جیسی چھوٹی ریاست کے مقابلے میں کمزور ہیں… اس نے انہیں پے در پے شکستوں سے دو چار کیا ہے لہٰذا اس کا کچھ نہیں بگاڑا جا سکا… امریکہ، برطانیہ، فرانس اور جرمنی کے مفادات بھی اس کے ساتھ اسی طرح جڑے ہوئے ہیں جس طرح روس، امریکہ، فرانس اور اب سعودی عرب و متحدہ عرب امارات کے نسبتاً کم درجے پر لیکن پاکستان کے مقابلے میں بھارت کے ساتھ زیادہ منسلک ہیں لہٰذا نریندر مودی سرکار اپنی جگہ پر مطمئن ہے پاکستان اس کے ظالمانہ اور جارحانہ اقدامات کے خلاف جتنا پراپیگنڈا چاہے کر لے زیادہ فرق پڑنے والا نہیں… جہاں تک صدر امریکہ ڈونلڈ ٹرمپ کے اس جھانسے کا تعلق ہے جو انہوں نے گزشتہ 22 جولائی کو وائٹ ہاؤس کے دورے کے دوران ہمارے وزیراعظم کو دیا کہ کشمیر کے مسئلے پر ثالثی کے لیے تیار ہیںاور وزیراعظم صاحب نے واپسی پر اسلام آباد ہوئی اڈے پر اترتے ہی کہا کہ ورلڈ کپ جیت کر آیا ہوں وہ پیشکش شاید آگے چل آزاد کشمیر کے حوالے سے رو بہ عمل آئے جس میں امکانی طور پر پاکستان سے کہا جائے گا شملہ معاہدے کے دوران ہونے والی مفاہمت کے تحت لائن آف کنٹرول کو بین الاقوامی سرحد میں تبدیل کر دیا جائے… اگر بھارت نے اپنے زیر تسلط ریاست جموں و کشمیر کا ادغام کر دیا ہے تو تم گلگت و بلستان کے ساتھ آزاد کشمیر کو اپنے وفاق کا حصہ بنا لو تنازع ختم ہو جائے گا اللہ اللہ خیر صلّا…


ای پیپر