’’سلفیاں اور سبز عینک والے دو بکرے …؟‘‘
14 اگست 2019 2019-08-14

میں جونہی شیخ صاحب کے گھر داخل ہوا … حیرت سے مجھ پر گھبراہٹ طاری ہو گئی۔ میں نے دیکھا ایک کمزور، نحیف سا دنبہ جو کبھی دنبہ لگتا تھا کبھی چھترا … اور کبھی تھرپاکر کا نحیف انسان؟ … آسمان کی طرف منہ اٹھائے، خاموشی سے دیکھ رہا تھا …

میں نے … پہلے تو IGNORE کیا مگر جب میں نے ’’دنبہ‘‘ کے سر پر ہاتھ رکھا اور وہ پھر بھی چپ رہا۔ اُس نے نا ’’میں‘‘ نا ہی ’’می‘‘ کیا تو میں مزید پریشان ہوا …؟ بکرا اپنی بولی بھی بھول چکا ہے …؟ بکرا بھی الیکشن کے بعد گھبرایا پڑا ہے …؟

یہ کیسا بکرا ہے … اس کو چپ کیوں لگ گئی … میں یہ بھی نہیں سوچ سکتا تھا کہ بکرا منڈی میں اس کی ’’جیب‘‘ کٹ گئی اور وہ پیسے گم ہو جانے سے پریشانی میں ’’میں میں‘‘ کرنا بھول گیا … پھر میں نے سوچا کہ شاید اس کی محبوبہ نے اس کے کسی محبت بھرے SMS کا جواب نہ دیا ہو، جو اس پر غم کا سایہ چھا گیا ہے … یا پھر ایم۔کیو۔ایم کی طرح یہ بھی مخمصے کا شکار ہو گیا …؟ کسی بیرونی پریشر یا خوفناک ’’کال‘‘ آ جانے کی وجہ سے …؟

آخر اداسی کی کوئی تو وجہ ہو گی … یہ دکھی کیوں ہے …؟ اچانک میرا خیال شیخ صاحب کی طرف گیا … میں خوامخواہ بکرے کی نفسیات پر غور کر رہا ہوں مجھے شیخ صاحب کے روئیے پر بھی غور کرنا چاہئے، شیخ صاحب ماضی میں جن کرتوتوں کی وجہ سے محلے بھر میں مشہور ہیں اُس پہ بھی تو غور کیا جائے … کیونکہ ایک تو ’’بکرا عید‘‘ سے اتنے دن پہلے شیخ صاحب نے بکرا کیوں لیا، دو سو روپے روز کے حساب بیس دن پہلے بکرا آ جانے پر شیخ صاحب کو چار ہزار روپے کا یہ نقصان بھی برداشت کرنا پڑے گا …

شیخ کی مت ماری گئی ہے جو اس نے بکرا اتنے دن پہلے خریدا، یہ اتنا بڑا مالی نقصان برداشت کرنے کا سوچا کیوں …؟ دل نہیں مان رہا تھا …

’’ارے یہ کیا…؟‘‘

میری ہنسی نکل گئی … شیخ صاحب کے بکرے نے ’’ سبز شیشوں والی عینک ‘‘ لگا رکھی تھی … بکرا خود تو عینک لگانے سے رہا بلکہ اگر کوئی بکرے کو عینک لگانے کی کوشش بھی کرئے تو بکرا اُسے ٹکر مارے گا یا عینک اپنے پائوں کے زور پر توڑ ڈالے گا … اگر شوقین ہوا تو شور مچائے گا کہ ’’میری عینک ‘‘ اتارو میں نے کسی بکری کو آنکھ مارنی ہو تو مشکل ہو گی …؟ وغیرہ وغیرہ

’’اُف میرے خدا‘‘ … عینک تو باقاعدہ بکرے کی آنکھوں پر لگا کر سر پر سختی سے باندھی گئی تھی …

تفصیلی انکوائری کرنے پر پتہ چلا کہ شیخ صاحب کو نہایت سستے داموں کسی ڈرپوک شخص نے ’’کانگو وائرس‘‘ کے ڈر سے بکرا بیچ دیا تو شیخ صاحب نے سوچا کہ بکرے کو پٹھے خرید کر کیوں ڈالے جائیں … بہتر ہے ’’توڑی‘‘ یا ’’پھک‘‘ اُس کے آگے رکھ دی جائے، ایک دن، دو دن نہ کھائے گا لیکن جب شدید بھوک کے ہاتھوں تنگ ہو گا تو سستی ’’توڑی‘‘ کھانے لگ جائے گا … (نیا تجربہ …؟)

شیخ ڈئیر … تو نے یہ بکرے کو جو سبز شیشوں والی عینک لگائی ہے یہ تو اس معصوم بے زبان کو دھوکہ دینے کے لیے لگائی ہے ناں …؟ یا تحفہ دیا ہے …؟ یعنی ’’توڑی‘‘ اور ’’پھک‘‘ اُس کو سبز رنگت میں دکھائے دے گی اور وہ ’’توڑی‘‘ کو سبز رنگ کا چارہ سمجھ کے کھا جائے گا بے چارہ …؟ جیسے خوبانی کو ہم محض اس لئے خریدتے ہیں کہ کھائو خوبانی تے نالے توڑو بادام …؟ ’’ایک پنتھ دو کاج‘‘ ہی ہے آجکل کا رواج …؟

شیخ صاحب کھسیانی ہنسنی ہنسنے لگے … اوہ … یار تم ’’بے ضرر‘‘ صحافی جیسی جاہلانہ باتیں کرتے ہو۔

’’مسکین علی … مسکین علی‘‘ شیخ نے بچے کو آوازیں دیں … کہاں دفعہ ہو گیا ہے ؟ …

بچہ بھاگم بھاگ آیا … ’’جی جی … پاپا‘‘

بیٹا جلدی سے کیمرہ لے کے آئو … ’’انکل آئے ہیں دور سے … بہت دور سے گجرات کے گائوں شیخ پور سے ان کا تعلق ہے‘‘ … شیخ نے مجھے دیکھتے ہوئے بکرے کے پاس کھڑا کیا … ’’انکل منہ ذرا نیچے کریں … بکرے کے منہ کے ساتھ ملائیں‘‘ … میں ذرا ہچکچاہٹ کا شکار ہوا تو شیخ نے میرا سر نیچے کو دبایا اور میرا منہ بکرے کے برابر کر دیا …

’’ارے یہ کیا ‘‘ …؟

شیخ ڈئیر یہ کیا تماشہ ہے…؟ کدھر گیا مسکین علی … شیخ بلائو نہ بیٹے کو …؟

یہ اُس نے میری تصویر بکرے کے ساتھ کیوں اتاری ہے … شیخ زور زور سے قہقہے لگانے لگا … نہ تم سارا دن ’’ڈارک‘‘ شیشوں والی عینک اتارتے ہو نہ ہمارا بکرا … کیا خوبصورت آئی ہو گی … تصویر …؟ یہ شیخ نے وضاحت کی … ’’ہائیں … میری اور بکرے کی سیلفی ‘‘؟ … ’’یہ سلفی دور ہے پیارے …؟‘‘ شیخ ہنسنے لگا …

یار … شیخ ڈئیر … دوستی کا یہ مطلب تو ہر گز نہیں کہ تم جبراً کسی کی تصویر اتارلو … کم از کم مجھے بتاتے میں عینک ہی اتار لیتا اور اپنا منہ بھی ذرا بکرے سے تھوڑا فاصلے پر کر لیتا …؟ اس سے پہلے کہ تم میرے بکرے یا اُس کی عینک وغیرہ پر تنقید کرتے … مسکین علی نے حساب برابر کر دیا …ہر بار تم مجھے چھوٹی سی غلطی پر پکڑ کر اُلّو بنا ڈالتے تھے اور پھر صبح پانچ بجے نماز ادا کرنے کے بعد سب سے پہلے پچھلے دن اتاری میری تصاویر فیس بک پر ’’اپ لوڈ‘‘ کر دیتے ہو …

یاد ہے پرسوں تم نے مجھے کھانا کھاتے ہوئے فیس بک پر دکھایا اور ساتھ CAPTION دی تھی … ’’شیخ صاحب مکھیوں کے ساتھ کھانا تناول فرماتے ہوئے‘‘ … بھئی کیا ہوا جو کھانا کھاتے ہوئے دو چار مکھیاں بھی بے چاری آ کر بیٹھ گئیں۔ حالانکہ ہر کھانے پر مکھیاں بن بلائے آ ہی جاتی ہیں۔ شاہ ہو، گدا ہو مکھیاں جان نہیں چھوڑتیں … اب ذرا کھولو ناں فیس بک اور دیکھو ناں مسکین علی نے کیا خوبصورت تصاویر بنائی ہیں تمہاری میرے بکرے کے ساتھ …؟ شیخ نے ہنستے ہوئے کہا … میں نے جلدی جلدی اپنا موبائل کھولا اور فیس بک پر نظر دوڑائی … مسکین علی … میری اور بکرے کی اتارئی ہوئی تصویریں … فیس بک پر ’’اپ لوڈ‘‘ کر چکا تھا … میرا اور بکرے کا منہ تو ساتھ اور برابر موجود تھا … عینک کی وجہ سے کئی قسم کے ’’شکوک و شبہات‘‘ عوام کے ذہنوں میں سر اٹھا سکتے تھے …؟

میں نے شیخ کو بازو سے پکڑا … بلا مسکین علی کو وہ میری یہ تصویر DELETE کرئے …

’’مظفر صاحب اب آپ کا غصہ بے کار ہے‘‘ … پاس کھڑے مدثر بھٹی نے مسکراتے ہوئے پیار سے کہا اور بتایا … ’’یہ دیکھیں اب تک یہ تصویریں دس لوگوں نے شیئر بھی کر ڈالی ہیں اور ڈیڑھ سو LIKE بھی کر چکے ہیں … اب یہ ڈیلیٹ نہیں ہو سکتی …

’’ دو بکرے ‘‘ … تصویر کے نیچے لکھا ہوا تھا … اور تصاویر دھڑا دھڑ LIKE ہوتی چلی جا رہی تھی … غصے میں لکھے یہ بچگانہ قسم کے اشعار ملاحظہ کریں جو حالات کے عینک مطابق ہیں …؎

جذبوں سے خالی اشعار

جیسے بکرے سے تکرار

’’ویہڑے‘‘ سے کوئی عیدی مانگے

’’اونٹ‘‘ کے گلے میں ڈالے ہار

جذبوں سے خالی … ’’اشعار‘‘


ای پیپر