عزت اور آزادی !
14 اگست 2018 2018-08-14

آج پاکستان کا یوم آزادی ہے، آزادی کی اہمیت وہی جانتا ہے جو پابندی کی اذیت سے واقف ہو۔ جس طرح جیت کی اہمیت وہی جانتا ہے جو ”ہار“ کی اذیت سے واقف ہو، کل نوجوان اور باصلاحیت صحافی طارق حفیظ بزمی اپنے چینل لاہور نیوز کے لیے یوم آزادی کے حوالے سے میرا انٹرویو کرنے تشریف لائے۔ میرے جوابات سے تو پتہ نہیں وہ مطمئن ہوئے یا نہیں سوالات البتہ اُن کے بہت کمال کے تھے۔ ایک شکوے بھرا سوال انہوں نے یہ بھی پوچھا ” ہماری نوجوان نسل کی پاکستان کے ساتھ محبت اب صرف دکھاوے کی حد تک کیوں رہ گئی ہے ؟“....عرض کیا ” صرف نوجوان نسل کی نہیں، ہرنسل کی محبت صرف دکھاوے کی حدتک ہی رہ گئی ہے۔ بلکہ سچ پوچھیں تو دکھاوے کی حدتک بھی نہیں رہ گئی ،....پاکستان کے اقتدار پر بار بار قبضے کرکے یا اپنی طرف سے منتخب ہوکر جن لوگوں نے پاکستان کے مفادات کو بارہانقصان پہنچایا ان کا تعلق ” نوجوان نسل“ سے تھا ؟ ....یہ سارے ہمارے پیارے ”بزرگ“ تھے جو اپنے چھوٹے چھوٹے ذاتی مفادات کو قومی مفادات پر ترجیح دیتے رہے۔ اور پاکستان کو اس مقام پر لے آئے جہاں دنیا عزت کی نگاہ سے ہمیں دیکھنا تو دور کی بات ہے بے عزتی کی نگاہ سے بھی دیکھنا پسند نہیں کرتی۔ وہ سمجھتی ہے اس طرح وہ اپنا وقت ہی ضائع کرے گی، سو ہم یہ نہیں کہہ سکتے صرف ”نوجوان نسل “ پاکستان سے محبت نہیں کرتی، البتہ ہمارے کچھ ”بزرگوں“ نے پاکستان کے ساتھ محبت کے بلند وبانگ دعوے ضرور کیے، ایک ریٹائرڈ بزرگ جنرل اگلے روز فرما رہے تھے ”ہمیں پاکستان کی بنیادوں سے عشق ہے“۔ پاکستان کی بنیادوں سے کچھ سیاسی ، فوجی ،عدالتی وصحافتی بزرگوں کا عالم یہ ہے پاکستان کی بنیادوں سے اینٹیں اُکھاڑ اُکھاڑ کر انہوں نے اپنے بڑے بڑے محلات تعمیر کرلیے۔ پاکستان کی بنیادیں ہل گئیں مگر ان کے محلات اتنے مضبوط ہیں بڑی سے بڑی طاقت بھی اُنہیں نہیں ہلاسکتی۔ اس حوالے سے عمران خان سے ہمیں بڑی اُمیدیں وابستہ ہیں، مگر ساتھ ساتھ یہ اُمید بھی پریشان کرتی رہتی ہے کہیں وہ بھی ہمارے ساتھ سلوک اس شعر جیسا نہ کردیں۔ ” ہم نے پھولوں کی آرزو کی تھی .... آنکھ میں ”موتیا“ اُترآیا“۔ ابھی اگلے روز ہمارے ایک نام نہاد مذہبی بزرگ جنہیں اب زیادہ تر لوگ ”مولانا ڈیزل“ کے نام سے جانتے ہیں متحدہ اپوزیشن کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے فرمارہے تھے ”اس یوم آزادی کو ہم یوم آزادی کے طورپر نہیں مناسکتے“۔ ان کے نزدیک حالیہ انتخابات میں دھاندلی ہوئی ہے جس کا بدلہ وہ اب کھل کھلا کر پاکستان سے لینا چاہتے ہیں، پہلے یہ کام وہ پس پردہ رہ کر کرتے تھے۔ پاکستان کو نقصان پہنچانے والی اندرونی اور بیرونی خفیہ قوتوں کے جس طرح وہ ہمیشہ آلہ کار رہے اس پر کم ازکم میں یہ کہنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتا کہ حکومت اور اسمبلی میں ان کی عدم موجودگی پاکستان کے لیے خیروبرکت کا باعث ہی ہوگی ۔سوشل میڈیا پر ان کے بارے میں یہ جملہ بڑا مشہور ہوا ہے کہ ”یہ پہلی حکومت ہوگی جو ڈیزل کے بغیر چلے گی“ ....اس کے بعد اللہ کرے آنے والی حکومتوں کو ”ڈیزل“ کے بغیر چلنے کی عادت پڑ جائے۔ اگلے روز ایسے ہی بیٹھے بیٹھے مجھ پر یہ احساس طاری ہونے لگا پاکستان کے دن اب پھرنے والے ہیں، اس کی واحد وجہ شاید یہ ہے مولانا فضل الرحمان ایڑی چوٹی کا پورا زور لگاکر بھی الیکشن نہیں جیت سکے۔ مسرت شاہین نے اس بار اللہ جانے کیوں ان کے خلاف الیکشن نہیں لڑا ورنہ اب کے اس کی جیت یقینی تھی۔ اُس کے جیتنے سے مولانا کے ہارنے کا لطف دوبالا ہو جاتا، جس سے ہم محروم ہی رہ گئے۔ البتہ جو حالات الیکشن ہارنے کے بعد مولانا کے اب شاید ہوجائیں اس پر ہم اُمید کرسکتے ہیں اگلے الیکشن میں الماس بوبی کو بھی وہ نہیں ہراسکیں گے ،.... بہرحال میں برادر طارق حفیظ بزمی کے اس سوال کا ذکر کررہا تھا کہ ہماری نوجوان نسل پاکستان کے ساتھ محبت کے معاملے میں اتنی پیچھے کیوں ہے ؟ کم ازکم فیس بک کی حدتک تو پیچھے نہیں ہے۔ ابھی پچھلے چار پانچ یوم سے میں دیکھ رہا ہوں تقریباً ہر نوجوان اپنے اپنے انداز میں وطن کے ساتھ اپنی محبت ثابت کرنے کی کوشش میں مبتلا ہے۔ اس حوالے سے کچھ ناپسندیدہ طریقے بھی اختیار کیے جارہے ہیں جن سے یہ فیصلہ کرنا مشکل ہورہا ہے کہ یہ وطن سے محبت کا ثبوت دیا جارہا ہے یا وطن سے دشمنی کا ؟ پاکستان کے ساتھ ان کی محبت صرف اسی صورت میں ثابت ہوسکتی ہے وہ محنت کریں۔ تعلیم حاصل کریں، اپنے بزرگوں کا ادب کریں، اپنی زبان، تہذیب ، لباس اور کلچر سے عملی طورپر محبت کریں اور پاکستان کو اس مقام پر لے جائیں جس کا خواب حضرت علامہ اقبالؒنے دیکھا اور قائداعظمؒ نے اسے تعبیر بخش دی۔ ایک واقعہ بہت سال پہلے شاید اعتزازاحسن نے کسی ٹی وی پروگرام میں سنایا تھا ”ناروے کے سفارتخانے کی ایک تقریب میں شرکت کے لیے کسی ہوٹل میں وہ پہنچے، وہاں امریکی سفیر بھی مدعو تھے ، ہوٹل کے باہر کچھ نوجوان امریکہ کے خلاف مظاہرہ کررہے تھے، امریکی سفیر تشریف لائے اعتزاز احسن نے ان سے کہا ”آپ کو اندر آتے ہوئے مشکل تو ہوئی ہوگی ، کیونکہ باہر کچھ نوجوان امریکہ کے خلاف مظاہرہ کررہے ہیں اور امریکہ کا پرچم جلا رہے ہیں۔ امریکی سفیر نے جواب دیا ” ہاں یہ سب میں نے دیکھا اور ایک لمحے کے لیے سوچا ان پاکستانی نوجوانوں کے پاس رُک کر ان سے کہوں ہم آپ کو امریکی شہریت دیتے ہیں مگر اس کے لیے ہماری شرط یہ ہوگی آپ کو پاکستانی پرچم جلانا ہوگا، یا پاکستان کے خلاف مظاہرہ کرنا ہوگا، تو میرے خیال میں ان میں سے کئی نوجوان یہ شرط قبول کرنے پر تیار ہو جاتے“ ،....میں تو کہتا ہوں اور میری یہ دعا بھی ہے عمران خان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد پاکستان میں ایسے حالات پیداہوجائیں ہمارے نوجوان اعلیٰ تعلیم پاکستان سے حاصل کرنے کے بعد پاکستان میں رہنے کو ہی ترجیح دیں، جیسا کہ اب بے شمار نوجوان اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بعد امریکہ، برطانیہ، کینیڈا اور بعض دوسرے ممالک میں چلے جاتے ہیں اور ان کی بہترین صلاحیتوں کا فائدہ بھی انہی ممالک کو ہوتا ہے۔ میں نے تو یہ خواب بھی دیکھ رکھا ہے پاکستان میں ایسے حالات پیدا ہوجائیں جب ”گوری یونیورسٹیوں“ سے تعلیم حاصل کرنے والے نہ صرف پاکستانی نوجوان اپنی صلاحیتوں کا پاکستان کو فائدہ پہنچائیں بلکہ گورے بھی یہاں آئیں اور اپنی صلاحیتوں کا اسی طرح پاکستان کو فائدہ پہنچائیں جس طرح ہمارے کچھ پاکستانی نوجوان ان کے ممالک کو پہنچاتے ہیں،.... بہرحال اس بار ہمارے نوجوانوں نے پاکستان کے ساتھ محبت کا ایک ثبوت یہ دیا گزشتہ ماہ ہونے والے عام انتخابات میں روایت سے ہٹ کر ایک ایسی جماعت کو ووٹ دیئے جو پاکستان کو ایک نیا یعنی اچھا پاکستان بنانا چاہتی ہے۔ پاکستان تو خیر پہلے ہی بہت اچھا ہے البتہ پاکستانیوں کی اچھائی پر سوالیہ نشانات ہیں حالیہ انتخابات کے نتائج سے وہ کسی حدتک مدھم ضرور پڑے ہیں، ایک آزادی پاکستانیوں کو 1947ءمیں ہندوستان سے ملی تھی، اور ایک آزادی اب 2018ءمیں ہندوستان کے قرب میں مبتلا نام نہاد پاکستانی حکمرانوں اور سیاستدانوں سے ملی ہے۔ اس آزادی کے بعداُمید ہے اب بطور پاکستانی وہ عزت بھی شاید اُنہیں مل جائے جس کے لیے گزشتہ کئی برسوں سے وہ ترس رہے تھے۔


ای پیپر