عمران ....ہماری دلہن واپس دلوا دو

14 اگست 2018

شاہزاد انور فاروقی

تم میںسے جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے ان سے خدا کا وعدہ ہے کہ ان کو ملک کا حاکم بنادے گا ،جیسا ان سے پہلے لوگوں کو حاکم بنایا تھا اور انکے دین کو جسے اس نے ان کے لئے پسند کیا ہے،مستحکم و پائیدار کرے گا اور خوف کے بعد ان کو امن بخشے گا،وہ میری عبادت کریں گے اور میرے ساتھ کسی کو شریک نہ بنائیں گے اور جو اس کے بعد کفر کرے تو ایسے لوگ بدکردار ہیں ۔نماز پڑھتے رہو ، زکوة دیتے رہواور اللہ کے پیغمبر ﷺ کے فرمان پر چلتے رہو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔(القران)
یہ وہ آیات ہیں جو گذشتہ روز نئی منتخب قومی اسمبلی کے افتتاحی اجلاس کے آغاز پر تلاوت کی گئی ہیں،ایک نئی حکومت قائم ہونے کو ہے ، عمران خان جس نے پاکستان کو ایک نئی صبح دینے کا وعدہ کیا ہے ہم سے ایک عمرانی معاہدہ کیاہے یوں سمجھیئے ایک بار پھر ہمارا نئے سرے سے نکاح ہورہا ہے جس میںعمران خان نے تین سو سے زائد نئے منتخب ہونے والے اراکین اسمبلی کے ساتھ قومی اسمبلی میں مجھ سمیت کروڑوں لوگوں کے سامنے یہ قسم کھائی ہے کہ وہ خلوص نیت سے پاکستان کا حامی اور وفادار رہے گا یعنی وہ پاکستان سے باہر نہ خود اثاثہ قائم کرے گا اور نہ اپنی جماعت اور دیگر اراکین و عمال حکومت کو اپنی وفاداریاں کسی دیگر ملک کو گروی رکھنے دے گا کیونکہ حامی اور وفادار تو وہی رہ سکتا ہے جس کا جینا مرنا ، دولت عزت اور مستقبل پاکستان کے ساتھ وابستہ ہوگا جس کو پاکستان سے عشق ہوگا ،حامی تو کوئی بھی کسی کا ہو سکتا ہے لیکن وفادار تو قسمت والوں کو ہی ملتا ہے
مرزا غالب نے کہا تھا
وفاداری بشرط استواری اصل ایما ن ہے
مرے بت خانے میں تو کعبے میں گاڑو برہمن کو
ان سب لوگوں نے یہ بھی قسم کھائی ہے کہ وہ اپنے فرائض منصبی ایمانداری اپنی انتہائی صلاحیت اور وفاداری کے ساتھ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین اور قانون اور اسمبلی کے منظورکردہ ضابطوں کے مطابق اور ہمیشہ پاکستان کی خود مختاری سالمیت ،استحکام ، بہبودی اور خوشحالی کے لئے انجام دیں گے مطلب یہ کہ پاکستان اور اس کے لوگوں کو عزت کے ساتھ جینے کا حق دیںگے،یہ حق صرف کسی شریف یا بدمعاش فیملی کو نہیں ملیں گے بلکہ تعلیم ، علاج ،روزگاراورپینے کے صاف پانی سمیت بنیادی ضروریات پرسب کا حق ہو گا ۔اگر لندن ،سپین اور امریکا سمیت دیگر ممالک میں جائیداد ، بینک بیلنس بنانا حق ہے تو سب کا ہوگا وگرنہ کسی کا نہیں ہوگا، یہ تو نہیں ہوسکتا کہ غریب کا بچہ رکشے میں یا ہسپتال کی راہداری میں جنم لے اور میرے ان کرائے کے انقلابیوں اوربھیڑ کی کھال میں چھپے ہوئے بھیڑیوں کی فیس لفٹنگ اور نزلے، زکام کے علاج کے لئے اسمبلی انہیں بیرون ملک علاج کے لئے مہنگے زرمبادلہ میں سے ڈالر ز کی عیاشی کرائے۔اگر چھت ہوگی تو سب کے سر پر یا کسی کامحل اونچا نہیں بنے،کم از کم یہ تو حکمران کر ہی سکتے ہیں کہ غریب کی دل آزاری نہ کریں، اونچے بڑے گھر، لگژری گاڑیاں، مہنگے سکول اور ہسپتال ، شرم ہی تو نہیں آتی وگرنہ کب کے ڈوب مرے ہوتے
حبیب جالب نے تو محترمہ بے نظیر بھٹو کو بھی معا ف نہیں کیا تھا
وہی حالات ہیں فقیروں کے
دن پھرے ہیں فقط وزیروں کے
اپنا حلقہ ہے حلقہ زنجیر
اور حلقے ہیں سب امیروں کے
ہر بلاول ہے دیس کا مقروض
پاوں ننگے ہیں بے نظیروں کے
وہی اہل وفا کی صورت حال
وارے نیارے ہیں بے ضمیروں کے
سازشیں ہیں وہی خلاف عوام
مشورے ہیں وہی مشیروں کے
بیڑیاں سامراج کی ہیں وہی
وہی دن رات ہیں اسیروں کے
کیا بڑا شاعر اور کیا عظیم آدمی تھا، اگر بلاول کے مقروض ہونے کی بات پر پیپلز پارٹی نے کان نہیں دھرے تو مسلم لیگ نے بھی کونسا اسیروں کی حالت زار کی پرواہ کی تھی نتیجہ سب کے سامنے ہے ،ایک اپنی کمائی کو وائٹ کرنے کے جتن کرتے ہوئے پکڑا گیا تو دوسری جانب جیل میں واش روم ٹھیک کرانے اور ائرکنڈیشنر لگوانے کے لئے داتا دربار کے چکر کاٹ رہا ہے ۔
کلجگ نہیں کرجگ ہے یہ ،یاں دن کودے اور رات کو لے
کیا خوب سودا نقدہے اس ہاتھ دے اس ہاتھ لے
یا د رکھنے کی بات یہ ہے کہ اس حلف میں یہ بھی شامل ہے کہ اسلامی نظریہ اور آئین پاکستان کو برقرار رکھنے کے لئے ہر جدوجہد کی جائے گی،یہ سب وعدے اور وعید بہت خوشنما ہیں پچھلے ستر سال سے ان تمام کاغذی پھولوں کے ہار گلے میں ڈال کر ہم خوشحالی کی دلہن کے منتظر ہیں لیکن ہر بار کوئی نہ کوئی ڈاکو یالٹیرا آکر ہماری اس دلہن کو اٹھالے جاتا ہے اور ہم نکاح خواں اور گواہان کوتکتے رہ جاتے ہیں،اب تو ہمیں اس لڑکی کے باپ پر بھی اعتماد نہیں رہا، عمران خان ہمیں ہماری دلہن واپس دلوا دو !
نئے چاند کی خوشی لئے نئے پاکستان کے منتظر عوام کی طرف سے ہذیان میں مبتلا مولانا فضل الرحمن اور بسیںلوٹنے والے تمام بے گھر افراد کو جشن آزادی کی بہت مبارک

مزیدخبریں