یہ بنانا ری پبلک ہے کیا؟
14 اپریل 2020 2020-04-15

یہ ملک بنانا ری پبلک ہے کیا، اس میں یہ سب کیا ہو رہا ہے، ایک مشیر اٹھتا ہے اور وہ کرونا کے مشتبہ ہزاروں افراد کا تفتان بارڈر سے داخلہ بغیر احتیاطی تدابیر کے ممکن بنا دیتا ہے، دوسرا اٹھتا ہے تو کرونا کی وباآنے پر پہلے ملک بھر سے کروڑوں کی تعداد میں ماسک سمگل کروا دیتا ہے اورجب دینا بھر میں یہ دھوم مچتی ہے کہ اینٹی ملیریل دوا کرونا میں فائدہ مند ہے تو اس کی برآمد پر عائد پابندی ختم کر دیتا ہے اورجب دنیا بھر سے ماسک اور پروٹیکٹو ڈریس امداد کے طور پرآتے ہیں تو وہ ڈاکٹروں تک پہنچتے ہی نہیں، ان کی لوٹ سیل لگ جاتی ہے۔ جب صنعتیں چلانے کا وقت تھا تو لنگر خانے کھل رہے تھے اور جب لنگر خانوں کا وقت آیا توتعمیراتی صنعت کو پیکج دئیے جا رہے ہیں،سوال پوچھا جا رہا ہے، کیا کرونا اس ملک کے غریبوں کو غریب ترکرنے اور سرکار کے ارب پتیوں کو کھرب پتی کرنے کے لئے آیا ہے؟

یہ بنانا ری پبلک میں ہی ہوسکتا ہے کہ اپنے ہی عوام کو الو بنایا جائے، اعلان ہوتا ہے کہ کرونا پر بارہ سو ارب روپوں کا امداد ی پیکج دیا جارہا ہے، بلے بلے اور واہ واہ کروائی جاتی ہے مگر جب پیکج سامنے آتا ہے توپتا چلتا ہے کہ اس میں امداد نام کی کوئی شے ہی نہیں، سرکار نے اپنے پیسوں کو اپنی ایک جیب سے نکال کر دوسری جیب میں ڈال لیا ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ انہوں نے اس پیکج کے تحت گندم کی خریداری کے لئے دو سو اسی ارب روپوں کی خطیر رقم مختص کی ہے مگر سوال یہ ہے کہ گندم کی خریداری کا کرونا سے کیا تعلق ہے، عشروں سے ہر حکومت کسانوں سے یہ گندم خریدتی ہے،اس کے لئے بنکوں سے قرض لئے جاتے ہیں اور پھر فلور ملز والوں کو ریلیز کرنے اور ادائیگیاں ہونے پر وہ قرض واپس ہوجاتا ہے اور اسی طرح زراعت کے بعد صنعتوں کو اس طرح شامل کیا گیا ہے کہ انہیں دو سو ارب کے ریفنڈ دئیے جائیں گے اور اس پر عرض کرنا ہے کہ یہ ری فنڈز حکومت نے اپنی جیب سے نہیں کرنے، یہ ہمارے صنعتکاروں کے پیسے ہیں جو قانون کے مطابق بہرصورت واپس کرنے ہیں، مجھے یہاں وہ وہوشیار یاد آگیا جس نے بس میں سفر کرتے ہوئے ڈاکو آنے پر جیب سے دس ہزار روپے نکالے اور ساتھ بیٹھے دوست سے کہا، یہ لے وہ روپے جو میں نے ادھار لئے تھے۔

کرونا امدادی پیکج میں ایک بڑی رقم یعنی ایک سو دس ارب روپے عوام کو یوٹیلیٹی بلوں میں ریلیف کے لئے رکھے گئے ہیں مگر دلچسپ امر یہ ہے کہ بل معاف نہیں ہوںگے بلکہ تین ماہ کے لئے موخرہوں گے اور ان پر بھی لیٹ سرچارج صرف ان کامعاف ہو گا جن کے یونٹ تین سو سے کم ہوں گے۔ حکومت اپنے ہی اداروں کو ان بلوں کے بدلے امدادی رقوم دے گی اور بلوں کی ادائیگی پر وہ پیسے واپس حکومتی خزانے میں آجائیں گے۔ سب سے تکلیف دہ امر یہ ہے کہ یہ ریلیف ان چھبیس لاکھ بجلی کے کمرشل میٹروں پر نہیں ہے جن کے مالک تاجر بدترین بحران کا شکار ہیں۔ اسی میں اضافہ کر لیجئے کہ چھوٹے تاجروں کے لئے جو سو ارب روپے رکھے گئے ہیں وہ صرف کارپوریٹ اداروں کے لئے قرضہ ہے جو اپنی جائیداد رہن رکھوا کرہی لیا جا سکتا ہے۔ یہاں پنجاب حکومت نے بھی حاتم طائی کی قبر کو ایسے ہی لات ماری ہے کرائے داروں سے کہا ہے کہ وہ دس جون تک کرائے ہی ادا نہ کریں۔ اب سوال یہ ہے کہ جن کا کچن ہی مکان یا دکان کے کرایوں پر چلتا ہے وہ تین ماہ تک کیا کریں مگر یہ پنجاب حکومت کے عقلمندوں کی دردسری نہیں ہے اور نہ ہی یہ کہ جب ایک مہینے بارہ، پندرہ ہزار کرایہ ادا نہیں کیا جائے گا تو تین مہینوں بعد یک مشت دینے کے لئے کہاں سے آئے گا افسوس، یہ ایک گھٹیا اور برے فساد کی بنیاد رکھ دی گئی ہے۔ پنجاب حکومت کی طرف سے ایک اور مضحکہ خیز نوٹیفکیشن جاری کیا گیا ہے جس میں مخیر حضرات کو غریبوں کی براہ راست مدد سے روکتے ہوئے اپنی زکواة، عطیات اور صدقات سرکار کو دینے کا پابند کیا گیا ہے۔

واپس وزیراعظم کے پیکج پر آتے ہیں جس میں یوٹیلیٹی سٹورز کے لئے پچاس ارب روپے رکھے گئے ہیں مگر یہاں بھی ہیرا پھیری یہ ہے کہ اول درجے کی اشیا ہول سیل ریٹ پر درجہ دوم اور سوم کی اشیا خریدکر وہاں بیچی جائیں گی اور یوں اشیا کی فروخت کے ساتھ ساتھ رقم واپس آنا شروع ہوجائے گی۔ اب پٹرولیم مصنوعات پر ستر ارب روپوں کی سب سڈی کو دیکھ لیا جائے۔ اگر حکومت عالمی مارکیٹ کے برابر نرخ کم کرتی تو یہ مزید کم و بیش چالیس سے پینتالیس روپے کم ہوجاتے مگر حکومت نے صرف پندرہ روپے کم کئے۔ اب حکومت اس درآمدی بل میں بھی کھپت کم ہوجانے کے باوجود اچھا خاصا مال کمانے کی پوزیشن میں آ گئی ہے اور عین ممکن ہے کہ جب کرونا کی وبا ختم ہو تو ہمیں علم ہوا کہ حکومت نے ستر ارب دینے کی بجائے عوام کی جیب سے ایک سو چالیس ارب مزید نکال لئے ہیں۔

اس پیکج میں سب سے اہم شے عوام کوسرکار کی طرف سے براہ راست نقدامداد تھی اور میں نے یہ سمجھا کہ یہی وہ تین ، ساڑھے سو ارب روپے ہیں جو واقعی امداد کی مد میں نکالے جائیں گے مگر جب مستحقین کو بارہ، بارہ ہزار روپے ملے تو علم ہوا کہ یہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی وہ تین قسطیں ہیں جو حکومت نے طویل عرصے سے روک رکھی تھیں۔ میں نے خود کرونا سے پہلے قطاروں میں لگی ہوئی خواتین کو روتے دھوتے دیکھا ہے کہ پہلے ان کو اے ٹی ایم کارڈ کے ذریعے ادائیگی ہوجاتی تھی مگر اب حکومت نے انگوٹھا لگانے کی شرط لازمی کر دی ہے،یوں امدادی مقامات پرسینکڑوں کا رش ہے اور بھگڈر مچ رہی ہے۔ بہت ساری خواتین نے مجھے بتایا کہ انہیں گزشتہ رمضان المبارک کے بعد سے ہی امداد نہیں ملی، ان بارہ ہزار روپوں کو کسی نئے پیکج کا حصہ نہیں کہا جا سکتا کیونکہ یہ تو دس، بارہ برسوں سے بجٹڈ اماونٹس ہیں۔

مزید ستم ظریفی ملاحظہ فرمائیں کہ ہمارے وزیراعظم بیرون ملک مقیم پاکستانیوں سے اپنے اکاو¿نٹ میں ڈالر ،پاو¿نڈ اور ریال مانگ رہے ہیں جبکہ صورتحال یہ ہے کہ امریکا میں چھ لاکھ کے لگ بھگ کنفرم مریض ہیں اور پچیس ہزار کے قریب اموات ہوچکیں۔ اس ملک میں دس لاکھ پاکستانیوں میں سے اب تک سوا سو جاں بحق ہوچکے جبکہ پاکستان کے بائیس کروڑ عوام میں ہلاکتیں ابھی یہ تحریر لکھتے ہوئے ایک سو رپورٹ ہور ہی ہیں۔ بیرون ملک پاکستانی بے روزگار ہو رہے ہیں، وہ بے گھر ہو رہے ہیں، وہ اپنوں کی یاد میں تڑپ رہے ہیں اور ہم ان سے اظہار افسوس، اظہار تعزیت اور کسی ریاستی مدد کے بجائے ان سے رقوم مانگ رہے ہیں جو عجیب سے لگ رہا ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ حکومت عوامی توقعات پر پورا اترنے میں مکمل طور پرناکام رہی ہے اور یہی وجہ ہے کہ جو تاجر آج سے ایک مہینہ پہلے اسی حکومت پر اعتماد کرتے ہوئے کرونا سے بچنے کے لئے لاک ڈاون کے مطالبات کر رہے تھے وہ اب کہہ رہے ہیں کہ وہ کل سے لاک ڈاون کی خلاف ورزی کریں گے، دکانیں کھولیں گے اور اگر حکومت نے انہیں روکنے کی کوشش کی تو وہ گرفتاریاں دیںگے۔

آخری بدقسمتی بھی نوٹ کر لیجئے جو تابوت میں آخری کیل کے مترادف ہے۔ ہم حکومت کی نااہلی، بدانتظامی اور کرپشن پر نالاں تھے کہ یہ مختصر عرصے میں جی ڈی پی کا گروتھ ریٹ پانچ اعشاریہ آٹھ سے ایک اعشاریہ آٹھ پر لے آئی ہے۔ لارج سکیل مینوفیکچرنگ اور زراعت میں یہ ریٹ پہلے ہی منفی میں جا چکا تھا مگر اب ورلڈ بنک نے کہا ہے کرونا کے بعد پاکستان کا گروتھ ریٹ منفی ایک اعشاریہ تین فیصد ہو گا۔ ایک حقیر فقیر پاکستانی کے طور پر خوف سے لرزتے اور ڈر سے کانپتے ہوئے اپنی اسٹیبلشمنٹ سے گھٹنوں کے بل بیٹھ کے اور دونوں ہاتھ جوڑ کے منمناتی آواز میں یہ سوال پوچھا جاسکتا ہے کہ حکومت کے نام پر یہ سرکس کب تک چلایا جائے گا؟


ای پیپر