وفاقی کابینہ کا اجلاس ،30 اپریل تک لاک ڈائون بڑھانے کا فیصلہ
14 اپریل 2020 (18:03) 2020-04-14

اسلام آباد:وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت ہونے والے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں لاک ڈائون کو 30 اپریل تک بڑھانے کا فیصلہ کر لیا گیا ،اجلاس میں 6 نکاتی ایجنڈے پر غور کیا گیا ۔

وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ لاک ڈاؤن کے باعث چھوٹے دکاندار ایک دم بے روزگار ہوگئے ، کورونا جتنا پھیلنا چاہیے تھا اس کا 30 فیصد پھیلا ہے ، دیگر ملکوں کی مناسبت سے ہمارے ہاں کم افراد متاثر ہوئے ، اٹلی اور اسپین دیکھ لیں ، ہمیں اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے,وزیراعظم عمران خان نے مزید کہا کہ کہ کورونا کسی وقت بھی پھیل سکتا ہے، احتیاط کرنا نہیں چھوڑنا چاہیے، نوجوانوں کو کورونا اتنا متاثر نہیں کرتا لیکن وہی نوجوان اپنے گھر میں بزرگوں کی زندگی مشکل میں ڈال سکتے ہیں، کورونا کا پھیلاؤ روکنے کے اقدامات کررہے ہیں ، ابتک ہم ٹھیک چل رہےہیں۔

عمران خان نے مزید کہا کہ اسمگلنگ اور ذخیرہ اندوزی کیخلاف سخت آرڈیننس لارہےہیں، گندم کی اسمگلنگ کی روک تھام کےلیے سخت آرڈیننس لا رہےہیں، ملک سےگندم کی اسمگلنگ کا خطرہ ہے، پاکستان سے ڈالر بھی اسمگل ہوجاتے ہیں، اسمگلنگ کرنے والے کے منیجرکو نہیں مالک کوپکڑیں گے، ملک میں ذخیرہ اندوزی کوبھی روکیں گے، رمضان سےپہلےذخیرہ اندوز مصنوعی منہگائی پیداکرتےہیں۔

اس کے علاوہ احساس ایمرجنسی کیش ٹرانسفرز پر ایڈوانس انکم ٹیکس چھوٹ، کورونا سے بچاوَ اور احتیاط سے متعلق درآمدات پر برانڈ کی شرط ختم کرنے اور اسلام آباد چڑیا گھر کا کنٹرول وزارت ماحولیاتی تبدیلی کے سپرد کرنے کی منظوری دے دی جب کہ ای او بی آئی پینشن میں اضافے کی سمری موخرکردی گئی ہے، کابینہ کے اجلاس میں لاک ڈاؤن میں 30 اپریل تک توسیع کی منظوری بھی دیدی ہے تاہم لاک ڈاؤن میں 30 اپریل تک توسیع کی حتمی منظوری قومی رابطہ کمیٹی دے گی۔

لاک ڈاؤن کے بعد کھلنے والے شعبوں سے متعلق قوائد و ضوابط بھی طے کرلیے گئے ہیں، ذرائع کے مطابق حکومت نے ہنرسے متعلق تجارت اورکاروباربھی کھولنے کا فیصلہ کیا ہے جس کے بعد درزی، پلمبر،الیکٹریشن، مکینک اورحجام کے کاموں پرکوئی پابندی نہیں ہوگی۔ فضائی سفر اور پبلک ٹرانسپورٹ سمیت عوامی اجتماعات، شادی ہالز، سینمازاورعوامی مقامات بند رہیں گے۔

حکومت نے تعمیراتی شعبے سے منسلک دیگرشعبے کھولنے کا فیصلہ کیا ہے۔ تعمیراتی شعبے میں مختلف منصوبوں کی ذمے داری صوبوں کے درمیان طے کی جائے گی۔ ہرصوبہ زیرالتوا ترقیاتی اورتعمیراتی منصوبوں سے متعلق حکمت عملی بنائے گا۔


ای پیپر